مینگورہ، تحصیل سیکرٹری کی اسامیوں کیلئے دوبارہ این ٹی ایس ٹیسٹ کے خلاف درجنوں نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ، دوبارہ ٹیسٹ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ،وزیراعلیٰ فوری طورپرا پنا فیصلہ واپس لیں، صوبائی حکومت کی طرف سے تحصیل سیکرٹریوں کیلئے امتحان دینے والے درجنوں نوجوانوں نے ڈی سی آفس سے سوات پریس کلب تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور دوبارہ این ٹی ایس ٹیسٹ نامظور کے نعرے لگائے، مظاہرین نے میڈیاکے نمائندوں کوبتایاکہ پچھلے رمضان المبارک میں صوبہ بھر کے تحصیل سیکرٹریوں کی اسامیوں کیلئے اٹھارہ ہزار سے زائد نوجوانو ں نے این ٹی ایس ٹیسٹ دیاجن میں ضلع سوات کیلئے 214اسامیاں بھی شامل ہیں
اسی طرح کامیاب نوجوان جب انٹرویوکے لئے ڈی سی آفس گئے تو ان کو بتایاگیاکہ وزیر اعلیٰ نے خردبرد کے الزام میں این ٹی ایس ٹیسٹ ہی منسوخ کردیاہے، مظاہرین نے کہاکہ سوات میں تاحال انٹرویو نہیں ہوئے تو خردبرد کیسی ہوئی؟ یہ صرف نوجوانوں سے رقم بٹورنے اور من پسند افراد کو بھرتی کرنے کیلئے شوشہ ہے لہٰذہ پی ٹی آئی اپنے منشور کے مطابق نوجوانوں کو این ٹی ایس ٹیسٹ کو میرٹ بناکر فوری طورپر تحصیل کونسلر کے سیکرٹری کیلئے تعیناتی عمل میں لائے بصورت دیگر یہ نوجوان جنہوں نے پی ٹی آئی کو کامیاب کیا ہے اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے جس کی تمام تر نقصانات کی ذمہ داری حکومت اور وزیراعلیٰ پرعائدہوگی، انہوں نے مزید کہاکہ وہ اس سلسلے میں عدالت میں بھی جائیں گے، ہزاروں نوجوانوں سے این ٹی ایس ٹیسٹ کی رقم بٹوری جاچکی ہے اور سخت گرمیوں اور رمضان المبارک میں ان سے پشاور میں ٹیسٹ لیاگیاہے اب حکومت اپنے اداروں پر خردبرد کا الزام لگارہی ہے تو اس میں بے روزگار نوجوانوں کاکیاقصورہے ؟ مظاہرین نے کہا کہ اس مرتبہ ان کا مظاہر ہ پرامن تھا اگر راست اقدام نہیں اٹھایاگیا تو نوجوان سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔
236 total views, no views today


