سوات، ثانوی تعلیمی بورڈ سیدوشریف چیرمین بورڈ اور سیکرٹری کے لئے سونے کی چڑیا بن گئے ہیں ، آدھے مہینے چھٹی میں گزر جاتا ہے ، جبکہ آدھے مہینے میں سرکاری چھٹیاں منالیتے ہیں ، ٹی اے ڈیز اور دوسرے مراعات کی بھرمار ، بورڈ کو اپنے محل میں تبدیل کردیاہے ، بورڈ کو بند ہونے کا خدشہ ، پی ٹی آئی کے ممبران اس سلسلے میں لمبی نیندپر چلے گئے ہیں ، جبکہ اس کے شاہ خرچیوں میں اضافہ ، تفصیلات کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ غیر مقامی چےئرمین اور سیکرٹری کے لئے سونے کی چڑیا بن گئے ہیں ، مہینے میں آدھے چھٹی لیتے ہیں جبکہ آدھے سرکاری چھٹیوں میں گزارتے ہیں ، بورڈ کے اندر اپنے لئے محل بنالئے ہیں ، جبکہ بورڈ کے معیار روزبروز گرتی جارہی ہے ، چےئرمین بورڈ اور سیکرٹری نے ایکا کرلیا ہے ، کہ ہر طریقے سے ثانوی تعلیمی بورڈ کو ختم کریں گے ، جس طرح پہلے غیر مقامی چےئرمین اور سیکرٹری نے سیدوشریف بورڈ کو ختم کرکے چکدرہ منتقل کردیاتھا، اب دوبارہ یہ غیر مقامی افراد جدوجہد اور کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ تعلیمی بورڈ ناکام ہوکر دوبارہ بند ہوجائے ، کیونکہ یتیم سوات کو مراعات دینے کے بجائے مراعات چھینے جارہے ہیں اور جب سے شاہی خاندان سے قومی اور صوبائی اسمبلی نمائندگیوں میں نہ رہے اور عام لوگ قومی اور صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہر دورمیں یہاں کے جو حیثیت ہے ان کو ختم کررہے ہیں جبکہ سوات سے منتخب ممبران کے ایک بہت بڑی فوج موجود ہے ، جن میں چار قومی اور نو صوبائی ممبران موجود ہیں اور اس میں کاغذی شیر بھی موجود ہے ، مگر وہ بھی اس حقوق کے لئے کچھ نہیں کرسکتے ، سب سے ناکامی کی ایک مثال یہ ہے کہ بورڈ چےئرمین اور سیکرٹری کے حدود میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے آتے ہیں کہ وہ اس پر نظررکھیں مگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر نظر رکھنے مین ناکام ہوچکے ہیں اور وہ اپنے خود ساختہ فیسیں وصول کررہے ہیں لہٰذا پاک آرمی اس سلسلے میں مداخلت کرکے سوات کے اس بورڈ کو بچانے کے لئے چےئرمین اور سیکرٹری کو ختم کرکے دوسرے افسران تعینات کریں ورنہ ان کے خلاف سڑکوں پر طالب علم کے علاوہ عام شہری بھی نکل آئیں گے۔ کیونکہ ممبران اور حکومت تو اس سلسلے میں ناکام ہوچکے ہیں۔
451 total views, no views today


