مینگورہ، ممبرقومی اسمبلی سلیم الرحمان نے بارہویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی کتاب پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے اس پر پابند ی لگانے اورتعلیمی ماہرین کی باہمی مشاورت سے مطالعہ پاکستان کی نئی کتاب مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈکیخلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ،اس حوالے سے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مطالعہ پاکستان کی کتاب برائے بارہویں جماعت میں ایسے موادموجود ہیں جن کا مطالعہ پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،
اس میں کرپشن،بلدیاتی سسٹم،سیاسی پارٹیوں کے حوالے سے غیر ضروری موادکو شامل کیاگیا ہے جو طلبہ کی ذہن سازی کی بجائے ان کے ذہنوں کو خراب اوربگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں جبکہ اس کتاب میں سن ۲۰۰۲ اورسن ۲۰۰۳ کے دورکا باربار ذکر کیاگیا ہے ،انہوں نے یہ بھی کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کتاب قادیانیوں نے لکھی ہے جس کے بارے میں فوری طورپر مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ مذکوہ کتاب میں سیاسی پارٹیوں کی ٹوٹ پھوٹ اور سیاستدانوں کی مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کا بھی باربار ذکر کیاگیا ہے اس طرح کے غیرضروری موادسے سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کی بدنامی ہورہی ہے جو عوام کے دلوں میں سیاستدانوں کیخلاف نفرت پھیلانے کی ایک کوشش ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ کتاب مطالعہ پاکستان برائے بارہویں جماعت پر جلد ازجلد پابندی لگا کر اس کی جگہ تعلیمی ماہرین کی باہمی مشاورت سے نئی اورغیر متنازعہ کتاب مرتب کی جائے بصورت دیگر خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈکیخلاف عدالت جائیں گے،اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے راہنماء جہانزیب نفیس ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
483 total views, no views today


