تحریر: رفیع اللہ
خوازہ خیلہ تحصیل میونسپل ایدمینسٹریشن (ٹی ایم اے) کے اعلیٰ کارکردگی کیوجہ سے ہر زبان زد عام پر ہے، ہر کوئی ان کے تعریف کے پل باندھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ یہاں تک کہ اگر ایک چھابڑی والا گند روڈ پر ڈال دیتا ہے تودوسرا چھابڑی والا جلدی جلدی اس کو صاف کرتا ہے تاکہ ٹی ایم اے کے اھل کاروں کو تکلیف نہ ہوں۔
بازار میں رونق اور چمک دمک ٹی ایم اے کیوجہ سے بنی ہو ی ہے بلکہ جب سے ٹی ایم اے خوازہ خیلہ معرض وجود میں آیا ہے تب سے خوازہ خیلہ بازار میں گند اور بدبو کا نام و نشان نہیں ۔ بازار کے دونوں چوکو ں بشام اور مٹہ چوک میں پھولوں کے لاتعداد گملے لگائے گئے ہیں جس میں موسم کے مطابق پھول بھی لگائے گیے ہیں۔ ہسپتال کے قریب پہلے کی بہ نسبت نہ کوئی گند ہے اور نہ ہسپتال کی روایتی بدبو۔
قصاب برادری ہمیشہ جانوروں کو نزدکیکی ندی (خوڑ) میں ذبح کرتے تھے ۔ لیکن بھلا ہوٹی ایم اے کا کہ اب کوئی شخص جرات نہیں کرسکتا کہ ندی میں جانوروں کو ذبح کرے ۔ ندی اپنی اب و تاب کے ساتھ صاف بہہ رہی ہے۔ قصاب خانہ یاذبح خانہ کی موجودگی کی وجہ سے عوام کو بہت سہولت ہے، نہ کوئی مردہ جانور فروخت کر سکتا ہے اور نہ ٹی ایم اے کے اجازت کے بغیرذبح شدہ جانور مارکیٹ میں بیچ سکتا ہے۔ قصائیوں کو سخت تاکید ہے کہ وہ ٹی ایم اے کے مہر کے بغیر جانور فروخت نہ کرے۔حالانکہ مہر بنانا کویی مشکل کام نہیں۔ٍٍ مرغی فروش بھی بہت خوش ہے۔ مردہ مرغیاں اور قبل از فروخت مرغیاں ذبح نہیں ہوتی۔ صفائی کا اعلیٰ معیار اپنائے ہوئے مرغ فروش کی تعداد بھی کسٹم چور گاڑیوں کی طرح زیادہ ہورہی ہے۔ لیکن بھلا ہوں ٹی ایم اے کا کہ مرغ فروشی کا لائسنس ایک خاص قاعدے اور قانون کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ مرغ فروشی کی تربیت کیساتھ انکو حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے۔
سبزی اور فروٹ فروش ہر وقت تازہ فروٹ پیچ رہے ہیں اگر نہ کرے تو ٹی ایم اے ان کی خبر گیری سختی سے لیتا ہے ۔ سبزیوں اور میوہ جات کے نرخ کا باقاعدگی سے نوٹس لیا جاتا ہے۔
مویشی منڈی کا ٹھیکہ ایک قرعہ اندازی سے غریبوں کو مفت دیا جاتا ہے تاکہ ان کی روزی روٹی کا گزر بسر ہو سکے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ٹی ایم اے اگر دس روپے فی جانور چارج کرے اور یہ پیسہ بازار پر لگا یا جائے تو بازار سے پیرس کا بازار بن سکتا ہے۔ لیکن ٹی ایم اے کی ذزمہ داریوں میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ بازار سے پیرس بنائے کیونکہ پیرس کو پیسے لگتے ہیں۔
گاڑیوں کیلئے شہر سے باہر مختلف علاقوں کیلئے سٹینڈ بنائے گئے ہیں جو ٹریفک میں بالکل دخل اندازی نہیں کررہے ۔ ٹی ایم اے کی احسن کارکردگی کا یہ ایک انمول نمونہ ہے کہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہ سٹینڈ مفت میں دئے گئے ہیں ورنہ اگر ٹی ایم اے ایک گاڑی پانچ روپہ سٹینڈ چارج کرے تو ٹی ایم اے کو کافی ساری امدنی روزانہ کی بنیاد پر مل سکتی ہیں۔ گاڑیوں میں سفر کرنے والے حضرات بھی کرایوں میں خاطر خواہ کمی پر ٹی ایم اے کے مشکور ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ گاڑیوں کے سٹینڈ کو ٹھیکہ پر دیا جائے تاکہ عوام کو انتظار کرنے کیلئے ایک مناسب جگہ اور سہولت فراہم ہوں۔
سوات میں خوازہ خیلہ بازار واحد بازار ہے جہاں پر ٹی ایم اے نے جدید سٹریٹ لائٹس نصب کئے ہیں جدید خطوط پر اسطوار یہ سٹریٹ لائٹ نہایت نفاست سے لگائے گئے ہیں۔ رات کو یہ بازار ایک تفریحی پارک کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ لاکھوں روپے مالیت کے سٹریٹ لائٹس کو خلا سے بجلی کا کنکشن دیا گیا ہے۔ جہاں بھی کوئی مسئلہ ہو تو ٹی ایم اے کے اہلکار اناً فاناً پہنچ جاتے ہیں اور لائیٹس کو ٹھیک کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک ان سٹریٹ لائیٹس میں ایک بھی خراب نہیں ہے۔
بڑے بڑے سائین بورڈ ز اور فلیکس پر ہزاروں روپے ٹیکس لگا یا جاتا ہے۔ لیکن سوات چونکہ ٹیکس فری زون ہے ۔ تو یہاں پر کسی بھی چیز پر ٹیکس نہیں ہے ۔ ٹی ایم اے خوازہ خیلہ کو بھی اس کا پتہ ہے اس لئے اس نے آج تک ایک بورڈ یا فلیکس سے ایک روپے نہیں لیا۔ ٹی ایم اے اگر ان پر ٹیکس لگا دیتی ہے تو ٹی ایم اے کو ہزاروں کی آمدنی ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ٹی ایم اے خوازہ خیلہ کی کارکردگی بلا شک و شبہ قابل ستائش ہے اور موجودہ حکومت کی موجودگی میں اس قسم کے ادارے خرید مظبوط ہو سکتے ہیں۔عوام ٹی ایم اے کے ہر قسم تعاون کیلئے ہروقت (جاری ہے)
742 total views, no views today


