مینگورہ،منگلور کے علاقے سالنڈہ سیرئی سے تعلق رکھنے والی سینے کی بیماری میں مبتلا شازیہ نے اپنے والد رضاخان کے ہمراہ سوات پریس کلب میں اپنی فریاد سناتے ہوئے بتایا کہ میں گزشتہ 5 سال سے سینے اور ٹی پی کی مرض میں مبتلاء ہوں جس کاسارا خرچہ میرا والد اٹھا رہا ہے ، اور ہر ماہ وہ مجھے علاج کیلئے پشاور لے کے جاتے ہیں ،
گذشتہ ماہ میرے شوہر عمر کیلاش اور انکی بہن اخترہ نے پشاور میں بچوں کو جوتے اور شاپنگ کے بہانے بازار لے گئے اور غائب کر دیئے ، ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی دونوں بچوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ، ہم نے ہزار جتن کئے مگر بچوں کے والد اور پھوپھی جو کہ فیصل آباد میں رہتے ہیں دونوں کا موبائل نمبر بند ہے جبکہ رابطہ کرنے پر انکے بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں کہتا کہ وہ کہا ں پر ہیں ، مسماۃ شازیہ نے بتایا کہ میرا اپنے شوہر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی گھریلو جھگڑا یا تنازعہ نہیں ہے ، انکے مطابق ا ن کا شوہر عمر کیلاش مانسہرہ کے رہائشی ہے اور سوات میں کھبی ہوٹلز میں منیجری اور کبھی کپڑے سلائی کا کام کرتا تھا ، انہوں نے حکومت اور پولیس حکام سے اپیل کی کہ وہ انکے بچوں کو بازیاب کرائے کیونکہ وہ بہت چھوٹے ہیں اور ماں کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔
576 total views, no views today


