قارئین کرام! کئی روز سے شہر میں پولیس اور موٹر سائیکل سواروں کے درمیان ہونے والی آنکھ مچولی پر قلم اٹھانے کا ارادہ کیا لیکن حد درجہ مصروفیت کی وجہ سے ہر بار چند سطور ہی لکھ پایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات پولیس کی جانب سے مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں موٹر سائیکل سواروں کے خلاف ’’گرینڈ آپریشن‘‘ کے نام سے ایک گھناونی سازش جاری ہے جس پر سوات کے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹیوں کے رہنماؤں سمیت سول سوسائٹی چپ کا روزہ رکھے ہوئی ہے اور عوام کے نام نہاد مشران نے منھ کو تالہ لگایا ہوا ہے۔ سوات پولیس دیگر تمام کام چھوڑ کر بادشاہ سلامت ’’حضرت ڈی پی او‘‘ کے اس ایک حکم کی تابع ہے۔ ہر روز بادشاہ سلامت تصاویر بنا کر نئے نئے بیانات جاری فرماتے ہیں اور یوں سوات کے دہشت زدہ، سیلاب زدہ اور آفت زدہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں لیکن سب سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، ایم پی ایز اور ایم این ایز کی خاموشی کے بعد آج تمام مصروفیات ترک کرکے اس پر قلم اٹھانے پر مجبور ہوگیا ہوں ۔
حضرتِ ڈی پی او صاحب! آپ صاحبان تو اس وقت سوات میں تعینات نہیں تھے، جب سوات میں دہشت گردی، سیلاب اور دیگر آفات کے باعث یہاں کے عوام کی معاشی زندگی تباہ ہوکر رہ گئی تھی اورسب ان علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس جنت نظیر وادی کے اکیس لاکھ عوام مئی، جون اور جولائی کی تپتی دھوپ میں مردان، پشاور، صوابی اور اسلام آباد کے علاقوں میں سوات کی تباہی کا رونا رو رہے تھے۔
حضرت! اُس وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس جنت نظیر وادی میں واپس لوٹ آئیں گے۔ تمام جمع پونجی ہجرت کے وقت خرچ کی۔ پھر جب پاک فوج کی کوششوں سے امن بحال ہوا، تو خوشی خوشی ہم واپس آگئے لیکن یہاں پر اس سوچ میں تھے کہ اب کاروبار کا کیا بنے گا؟ کار و بار بھی جیسے تیسے شروع ہوا۔ ابھی سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ عالی جاہ لٹے پٹے سوات پر مسلط ہوگئے۔
حضرت! شاید آپ کو اس حوالے سے علم نہ ہو کہ مینگورہ شہر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے رکشے کا اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ سو روپے ہے۔ اول اول غریب عوام کیلئے رکشہ ایک سستی سواری تھی لیکن جب رکشہ ڈرائیوروں کی من مانیاں بڑھ گئیں، تو یہاں کے عوام نے اپنے لئے قسطوں پر موٹر سائیکل خرید کر اس سے گزارا کرنا شروع کیا۔ غرض یہ کہ یہاں کی روایات کے برعکس غریب عوام اپنے بیوی بچوں کو بھی موٹر سائیکل پر سوار کرکے غمی خوشی کیلئے اپنے رشتہ داروں کے ہاں لے جاتے ہیں۔ اب آپ صاحبان ان غریب لوگوں سے یہی سواری اور سہولت بھی چھین رہے ہیں۔ مینگورہ شہر میں روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے لیکن اسکے باوجود آپ نے شہر میں تقریباً دس سے زائد موٹر سائیکل بارگینز پر خود ساختہ پابندی لگا کر انکو بے روزگار کردیا۔ آپ تو غریب موٹر سائیکل سواروں اور معصوم طلبہ کو روزانہ لاکھوں روپے جرمانہ کرکے اس پر بڑے خوش ہو رہے ہیں لیکن انکے والدین آپ کو کیا کہتے ہیں، کبھی سنا ہے آپ نے؟ اس موقع پر مجھے اپنے بڑے بھائی اور سینئر صحافی غلام فاروق سپین دادا کی ایک بات یاد آرہی ہے جن سے ایک روز کسی آفیسر نے پوچھا کہ سوات کے لوگ ہمیں کس نظر سے دیکھتے ہیں، نفرت کرتے ہیں یا محبت؟ تو سپین دادا نے کہا کہ سچ بتاؤں یا جھوٹ؟ تو انہوں نے سچ بتانے کا کہا۔ جس کے بعد سپین دادا نے وہ کچھ کہا جسے ریکارڈ پر لانا میرے بس کی بات نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موٹر سائیکل کی وجہ سے سیکڑوں گھرانوں کے چشم و چراغ یا تو موت کے منھ میں چلے گئے ہیں یا وہ معذور ہوکر زندگی بھر کیلئے اپاہج ہو چکے ہیں لیکن اسکا طریقہ کار یہ نہیں کہ آپ پورے سوات میں موٹر سائیکل پر پابندی عائد کر دیں۔ آپ پولیس کو روزانہ غریب عوام کو لاکھوں کا چالان کرنے کی ہدایت کریں اور پولیس اہلکار آپ کو خوش کرنے کیلئے دھڑادھڑ چالان پہ چالان کیا کریں۔ کیا سوات میں پولیس کو صرف موٹر سائیکل سوار نظر آ رہے ہیں؟ سوات کے سو سے زائد مقامات پر آج بھی کھلے عام شراب، ہیروئن، چرس اور دیگر نشہ آور اشیا فروخت نہیں ہورہیں؟ جگہ جگہ پر دیسی شراب کی بھٹی لگی ہے، جگہ جگہ پولیس کی سرپرستی میں قحبہ خانے قائم ہیں، کیا سوات میں پُراسرار چوروں کے منظم گروپ کو آپ لوگوں نے ابھی تک ٹریس کیا ہے؟ آپ کا ایک چہیتا ڈی ایس پی جو نعوذ باللہ اپنے آپ کو زمین کا خدا کہتا ہے، بار بار وفود سے سیاستدانوں کی طرح ملاقاتیں کرکے ان کو فرماتا رہتا ہے کہ سوات میں چوروں کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ پانڑ میں ساجد عثمان ایڈووکیٹ کے گھر کو بھی ڈرامہ قرار دے رہا تھا اورجو چور پکڑا گیا وہ بھی نقلی تھا۔کیا وہ ٹارگٹ کلرز جو ہر ہفتے کسی نہ کسی کو نشانہ بنا کر آسانی سے فرار ہوجاتے ہیں، ان کی تلاش آپ کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ہے؟
سوات کے سفید پوش حضرات اپنے دامن پر داغ نہ لگنے کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ تک نہیں کراتے اور جو لوگ رپورٹ درج کرلیتے ہیں پولیس کبھی انکا پوچھتی بھی نہیں اور اپنی فرضی رپورٹ تیار کرکے واقعہ کو من گھڑت کہانی قرار دیا جاتا ہے۔ کیا ابھی تک سوات کے سینئر پراسیکوٹر سعید نعیم خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں؟ آپ کے ایک اور چہیتے ڈی ایس پی نے آپ کو رپورٹ دی کہ یہ سب کچھ ایک جھوٹی کہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔حالانکہ اسی رات کالج کالونی میں ہونے والی فائرنگ سے سب لوگ آگاہ ہیں۔ آرمی آفیشل بھی واقعہ پر پہنچ گئے تھے لیکن فرضی رپورٹ میں فرضی لوگوں کے نام دیکر کہا گیا کہ واقعہ جھوٹا ہے اور سعید نعیم خان اس طرح کے ڈرامے کرکے اخبارات میں بیانات دے کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ’’اوبہ زی زی پہ کمزوری زی ماتیگی‘‘ کے مصداق آپ کو صرف اور صرف پورے سوات میں موٹر سائیکل سوار، غریب رکشہ ڈرائیور اور ٹیکسی ڈرائیور ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
سوات تو ایک تجربہ گاہ ہے یہاں پر ہر نیا آنے والا آفیسر کچھ نہ کچھ تجربہ کرتا رہتا ہے جس کی ہر بار ہمارے سیاسی رہنماؤں، ایم پی ایز، ایم این ایز اور سول سوسائٹی نے مخالفت کی ہے، لیکن نہ جانے کیوں اس ظلم پر وہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک تجربہ کار اور خداترس ڈی آئی جی کی موجودگی میں یہ ظلم ہو رہا ہے۔ آخر یہاں کے عوام اس ظلم کو کب تک برداشت کرتے رہینگے لیکن
ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
پی ٹی آئی کی حکومت میں دعوے تو بہت کئے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا۔ اس سے پہلے بھی غریب عوام کو پولیس اسٹیشن تک سفارش کے بغیر رسائی ممکن نہیں تھی اور اب بھی ویسا ہی ہے۔ پولیس اسٹیشنوں میں بیٹھے محرر بادشاہ عوام کے سلام کا جواب تک نہیں دیتے، سیدھے منھ بات کرنا تو رکھ چھوڑیئے۔اب بھی رشوت و سفارش کا بازار گرم ہے۔ بس یہ ہے کہ انصافیوں کی حکومت میں دام بڑھ گئے ہیں۔
نہایت افسوس کے ساتھ قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔ آپ لوگ سوچتے ہونگے کہ لکھنے والے نے ضلع ناظم کو متوجہ تک نہیں کیا اور نہ ہی ان سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بیچارے ضلع ناظم کو اپنے اختیارات کا پتہ تک نہیں ہے۔ کبھی وہ اہم تقریبات کے موقع پر عوام کے درمیان بیٹھے رہتے ہیں، تو کبھی ایم پی اے کی زیر صدارت اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں اور تو اور جب سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسین سے مٹینگ کیلئے ان کو جانا پڑا، تو باہر بیٹھے دربان نے یہ کہہ کر اندر جانے نہیں دیا کہ صاحب آفس سے باہر ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے ہی اجلاس کا وقت مقرر کیا جا چکا تھا۔
ایسے ملک میں کسی سے گلہ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ اللہ ہی ہمارا حافظ ۔
*۔۔۔*۔۔۔*
779 total views, no views today


