سوات، کوہستان کے تعلیمی مسائل پر چھ یونین کونسل پر مشتمل گرینڈ جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔ ادارے برائے تعلیم و ترقی اور الف اعلان نے تعلیمی صورت حال پر نئی رپورٹ پیش کردی۔ سوات کوہستان کے چھ یونین کونسلز کے عمائدین کا گرینڈ جرگہ بحرین میں منعقد ہوا۔جرگہ غیر سرکاری تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی اور بین الاقوامی تنظیم الف اعلان کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔ جس کا مقصد سوات کوہستان کے علاقوں کے تعلیمی مسائل کے حل پر بحث کرنا تھا۔ جرگہ میں علاقہ عمائدین، منتخب بلدیاتی نمائندوں، ناظم ضلع سوات محمد علی شاہ، ایم پی اے سید جعفر شاہ، ایم این اے سلیم الرحمن، ای ڈی او سوات ذولفقارالملک ، میڈیا نمائندوں اور علاقہ عمائدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔جرگہ کے شرکاء نے سوات کوہستان میں تعلیمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا اورعلاقے میں مخدوش تعلیمی صورت حال کے حل کے لئے تجاویزپیش کی۔ الف اعلان کے نمائندے ڈاکٹر جواد اقبال یوسف زئی نے کہا کہ تحصیل بحرین کے اس چھ یونین کونسلوں کی وجہ سے پورے سوات کی تعلیمی صورت حال پر برا اثر پڑتا ہے ، سردیوں میں یہاں سے لوگوں کی نقل مکانی بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات ڈالتے ہیں جن سے ان کا مستقبل خطرے میں ہے، انہوں نے کہا کہ تحصیل بحرین کی ابتر تعلیمی صورت حال کے لئے حکومت کو ٹھوس اور موثر اقدامات اْٹھانے ہوں گے۔اس موقع پر ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے ڈائریکٹر زبیر تورالی نے سوات کوہستان کے تعلیمی مسائل پر ایک مفصل سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سوات کوہستان میں طالبات کے لئے ثانوی تعلیم کے لئے سکول موجود نہیں،پورے سوات کوہستان میں طالبات کے لئے صرف ایک ہائی سکول اور تین مڈل سکولز ہیں اور ان میں سے ایک مڈل سکول فعال ہے،بحرین اور کالام کے بیچ نو گاؤں تقریباََ نوے ہزار کی آبادی کے لئے ایک بھی گرلز مڈل سکول موجود نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوات کوہستان میں صرف چھبیس فیصد طالبات سکولوں میں داخل ہے،بحرین کو چھوڑ کر پورے سوات کوہستان میں صرف سات فیصد لڑکیاں مڈل یا ہائی سکول جاتی ہیں اورپانچویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے نوے فیصد طالبات اور سینتالیس فیصد طلباء سکول کو خیبرآباد کہتے ہیں۔علاقے میں مرد اساتذہ کی غیر حاضریاں پچیس فیصد اور خواتین اساتذہ کی غیر حاضریاں چالیس فیصد ہے۔مڈل اور ہائی سکولوں کے لئے سو فیصد اساتذہ غیر مقامی ہے۔علاقے میں تمام گرلز سکولوں کے لئے ایک ایک استانی موجود ہے۔علاقے میں موجود 55 سکولز برائے طالبات میں سے سولہ غیر فعال ایک تباہ شدہ اور ایک بغیر عمارت کے ہے۔بیاسی فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی بچیوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں مگر سکولز موجود نہیں۔علاقے میں سکولز تمام تر بنیادی سہولیات جیسے پینے کا صاف پانی، لیٹرین اوردیگر سہولیات سے محروم ہیں۔جرگے میں موجود تمام شرکاء نے ادارہ برائے تعلیم و ترقی اور الف اعلان کی اس کاوش پر خراج تحسین پیش کیا اور علاقے کے تعلیمی مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔
612 total views, no views today


