بریکوٹ۔متاثرین کی مدد فوٹو سیشن اور بڑے بڑے شہروں تک محدود رہ گئے جو بھی رہنما اور وزیر اتے ہیں مینگورہ میں میڈیا کے سامنے بڑے بڑے دعوے کرکے رفع دفع ہوجاتے ہیں ‘ گاؤں اور قصبوں میں فاقہ کشی اور غذائی قلت سے بے یارو مدد گا ر پڑے ہیں نہ کسی کے پاس کھانے کچھ نہ سر چھپانے کے لئے ٹینٹ موجود ہے ‘ ان خیالات کا اظہار سماجی کارکن امانی روم خان نے اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کیا انہوں نے کہا کہ گاؤں گورتئی اور دیگر ایسے گاؤں جہاں پر بہت سارے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں ان میں رہنے والے بے گھر ہوگئے ہیں نہ کسی کے پاس کھانے کچھ نہ سر چھپانے کے لئے ٹینٹ موجود ہے‘ لیکن ہمارے وزراء اور ممبران اسمبلی اور ملک کے دیگر بڑے بڑے لوگ صرف شہروں میں آتے ہیں او ر وہاں پر فوٹو سیشن کرکے واپس چلے جاتے ہیں ہم اپنے ممبران اسمبلی اور ایسے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈریں اور اس دردناک صورتحال میں عوام کے ساتھ یہ ظلم اور زیادتی بند کریں جو ان غریب اور مصیبت زدہ لوگوں کا حق ہیں وہ ان کو پہنچائیں ۔
592 total views, no views today


