بریکوٹ،ریاست سوات کے دور میں قائم شدہ گورنمنٹ ہائی سکول غالیگے 8اکتوبر 2005کے ہولناک زلزلے میں شدید متاثرہوا تھا اور ماہرین نے اس کے بلڈنگ کو ناقابل استعمال قرار دیا تھا مگر سینکڑوں طلباء کے لئے 26اکتوبر 2015تک یہ تابوت رہا ۔حالیہ ہولناک زلزلے میں بلڈنگ مکمل طور پر تبا ہ ہوگئی مگر خوش قسمتی سے طلباء محفوظ رہے ۔کمپوٹر لیب میں لاکھوں مالیت کے کمپوٹر ز کو نقصان پہنچ گیا ہے ۔ہائی سیکشن میں تعمیراتی کا م جاری ہے آٹھ ماہ میں کارکردگی صرف کھدائی تک محدود رہی ۔طلباء کو پرائمری سکول میں دوپہر کے بعد پڑھائی شروع کردی گئی ہے تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔تفصیلات کے مطابق 1960میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول غالیگے میں اس وقت چار سو چودہ طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ اکیس اساتذہ کرام اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں کو گذشتہ روز میڈیا ہوم کے ٹیم نے دور ہ کیا ۔اس موقع پر ہیڈماسٹر محمد امتیازخان نے کہاکہ طلباء کے قیمتی وقت کو بچانے کی خاطر پرائمری سکول میں دوپہر کے بعد سیکنڈ شفٹ میں پڑھا رہے ہیں یہاں بھی کمرے ہونے کی بناء پر ٹینٹس میں بھی کلاسز کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔یہ بلڈنگ بہت پرانی تھی اور 8اکتوبر 2015کے زلزلے میں اس کی عمارت نہ قابل استعما ل تھی مگر مجبور کے ناطے ہم اسے استعمال کررہے تھے ۔ہائی سیکشن کے کمروں پر کام جاری ہے مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے سکول کے بلڈنگ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔تاکہ طلباء تعلیمی ماحول میں درس و تدریس ہوسکے ۔پی کے 81کے ممبر صوبائی اسمبلی عزیز اللہ خان گران نے رابطہ کرنے پر کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح تعلیم ہے اس کے دوبارہ بحالی کے لئے بہت جلد کام شروع ہوجائے گا۔نئی عمارت دومنزلہ ہوگی اور میری کوشش ہوگی کہ اس سکول کو ہائیر سکنڈری کا درجہ دیا جائے کیونکہ گونمنٹ ہائیر سکنڈری سکول بریکوٹ اور بلوگرام کے علاوہ جہانزیب کالج پر لوڈ کم ہو جائے گا اور طلباء کو اپنے ہی گاؤں میں مذید تعلیم کے حصول میں آسانی پیدا ہوجائے گی ۔
552 total views, no views today


