وادئ سوات ایک طرف اگر سیاحوں کی جنت کہلاتی ہے، تو دوسری طرف یہی جنت کئی حوالے سے یہاں کے مکینوں کے لیے کسی دوزخ سے کم نہیں۔ مشکلات تو ڈھیر ساری ہیں جو ایک چھوٹی سی تحریر میں بیان کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ مگر یہ ضرور کہوں گا کہ سوات کئی دیدہ و نادیدہ طاقتوں کے ہاتھوں تجربہ گاہ بنا ہوا ہے جس میں ہر کوئی نت نیا تجربہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی نام نہاد تعلیم نسواں کے نام پر تو کوئی بچیوں کی جبراً شادی کے نام پر سوات کا نام استعمال میں لاکر شہرت اور ایوارڈز بٹورنے میں مصروف عمل ہے۔ اگر سوات کے حقیقی مسائل پر کام کرکے کوئی سوات کا نام استعمال کرے یا ایوارڈ لے، تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف ذاتی شہرت یا ’’جیب بھرائی‘‘ کے لئے کیا جاتا ہے۔ ڈر ہے کہ اب مہذب دنیا تعلیم نسواں پر ’’پابندی‘‘ لگانے کے جرم کے بعد اہل سوات کو معصوم بچیوں کی جبراً شادی کرانے والا علاقہ نہ گردان لے۔ قارئین، اس وقت سوات میں ڈھیر سارے مسائل ہیں۔ بدقسمتی سے سوات اور خصوصاً مینگورہ شہر میں جگہ جگہ کم عمر بچے اور بچیاں اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے مختلف جگہوں پر کام کرتی نظر آتی ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کا سامنا کرنے والے یہ بچے مجبوری کے تحت ایک تو تعلیم سے محروم رہتے ہیں، دوسرا یہ کہ جس ماحول میں یہ کام کرتے ہیں، وہ نہایت نامناسب ہوتا ہے۔ ایوارڈز بٹورنے والے اگر تھوڑی سی کوشش کریں اور ان بچوں کو ان کی صحیح جگہ یعنی اسکول پہنچادیں، تو کیا ہی اچھا ہو۔ بچے اسکول جائیں گے، اچھے ماحول میں رہیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ جائے گا۔یوں وہ ان تمام ایوارڈوں کا حق بھی ادا کرلیں گے، جن کے لئے وہ سوات کے اٹھارہ اُنیس لاکھ لوگوں کو دہشت گرد یا معصوم بچیوں کو بیچنے والے قرار دے چکے ہیں۔ تو کیجیے شروعات اور بنائیں ایک اسکول جو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب وظائف مقرر کرے۔ ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔آپ پہلا قدم اٹھائیں اہل سوات آپ کے ساتھ ہوں گے۔ یہ تو ہوئی ان کی بات جن کا مستقبل خطرے میں ہے۔ بات کرتے ہیں اب ان کی جن کا مستقبل یا تو تباہ ہوا ہے اور یا تباہی کے دہانے پر ہے۔ میرا مقصد نشئ لوگ سے ہے۔ گلی گلی نظر آنے والے یہ بدقسمت کچھ اپنے اور کچھ معاشرے کی بے حسی کی وجہ سے زندگی سے کنارہ کش ہوچکے ہیں جو نہ اپنے والدین کے ہیں اور نہ اپنے عزیزوں کے اور نہ ہی اپنے بیوی بچوں کے۔ایوارڈ حاصل کرنے والوں کے لیے ایک مشورہ ہے کہ آپ کو تو آپ کی خدمات کے صلے میں یہ ایوارڈ ملے ہیں، اس لیے سیکڑوں این جی اوز میں ایک این جی او ان کے لیے بھی شروع فرمائیں۔ بنائیں ایک تنظیم جہاں شروع ہوعلاج ان نشئ لوگوں کا۔ ان کو واپس ایک صحت مند زندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ پھر اگر کسی نے ایوارڈ نہیں دیا، تو اس نیک کام کے عوض ایوارڈ میں دوں گا۔ اس طرح سوات میں گندگی کا بڑا مسئلہ ہے۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔ ٹی ایم اے یا تو کم وسائل کی وجہ سے اور یا غفلت کی وجہ سے وافر مقدار میں کوڑے دان مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ ایوارڈ وصول کرنے والے اگر ایک مہم اس حوالے سے بھی چلائیں، تو ٹھیک ہوگا۔ اب ویسے بھی اسکولوں کو بند کرنے والا کوئی نہ رہا، نہ تازہ ترین ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیت کی برکت سے کوئی معصوم بچیوں کی شادی کرا سکتا ہے، تو ایسے میں یہ نیک کام چیخ چیخ کر پکار رہا ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو، تو چلیں ایک اور کام کرلیں۔ مفت ایمبولنس سروس کے لئے دوڑ دھوپ کرلیں۔ ایک ایمبولنس ہی سہی۔ اگر ممکن ہو تو چندہ اکٹھا کرکے ایمبولنس کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ سوات میں اتنے اچھے لوگ تو ہوں گے جو چندہ دینے کی ہمت رکھتے ہوں۔ جہاں سڑکوں کی مرمت کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے، تو ایمبولنس خریدنے کے لئے کیوں نہیں۔کہنے کوکو تو بہت سی باتیں ہیں،فقدان ہے تو صرف عملی کام کا۔یوں، تو میں بہت کچھ لکھ گیا لیکن اس دوران میں یہ بھول گیا کہ جن باتوں کا ذکر میں نے کیا اس کے لیے محنت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دولت اور شہرت کے بھوکے عملی کہاں ہوتے ہیں، ان کا عمل تو صرف اپنے مقصد تک محدود ہوتا ہے۔ مجھے تو بذات خود بڑے بڑے اعزازات، ایوارڈ، تمغوں اور توصیفی اسناد کی حیثیت شورش کے دوران اور شورش کے بعد معلوم ہوئی۔ کیا کریں، ہم ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ سے پتھر کی مورتیوں کو تراشتے ہیں اور بعد میں ان کی پرستش کرتے ہیں۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!
604 total views, no views today


