زمین ہلنے کے بعد کافی دنوں سے عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ زلزلہ کے بعد کی صورتحال کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زلزلہ اور قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتی ہیں لیکن گزشتہ کئی دنوں سے ملاکنڈ ڈویژن میں سیاست دانوں اور میڈیا کے نمائندوں نے جو عجیب قسم کا زلزلہ اور قیامت برپا کر رکھی ہے، اس کا کوئی جواب نہیں۔ واقعی زلزلہ سے نقصان ہوا ہے اور بہت سے لوگ جاں بحق او رسیکڑوں کی املاک تباہ ہوئی ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں ہے کہ پورے کا پورا ملاکنڈ ڈویژن مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں اسکول کا طالب علم تھا۔ آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء کا دن معمول کے مطابق جاری تھا کہ اچانک پورا ملک ایک قیامت خیز زلزلے سے ہل اٹھا۔ اس وقت ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ملاکنڈ ڈویژ ن کے علاقے بھی متاثر ہوئے۔ بیرونی ممالک سے وافر مقدار میں امداد پاکستانی متاثرین کیلئے آئی اور اس کے ساتھ ساتھ اندورن ملک عوام الناس اور مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی سامان متاثرین کیلئے جمع کیا جا تا رہا۔ متاثرین پر تو وہ وقت جیسے تیسے گزر گیا لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب رواں سال آٹھ اکتوبر کو اخبار میں ایک رپورٹ دیکھی کہ زلزلے کے دس سال مکمل ہونے کے باوجود متاثرین تاحال بحال نہیں ہوسکے ہیں اور ان کو اسی طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ اسکول بھی (زیادہ تر) آج تک بحال نہ ہوسکے۔ اس وقت بھی عوامی نمائندوں نے بے چارے متاثرین کیساتھ ڈھیر سارے وعدے کئے تھے لیکن آج بھی وہ متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔ اس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات میں کشیدہ صورتحال اور فوجی آپریشن میں ملاکنڈ ڈویژن اور سوات کے عوام نے قربانیاں دیں اور ڈھیر سارے افراد جاں بحق اور زخمی ہو ئے، املاک تباہ ہوئیں۔ اس وقت متاثرین ملاکنڈ ڈویژن کے نام پر بہت سارا امداد آیا اور حکومت وقت اور سیاستدانوں نے متاثرین کی بحالی کیلئے کئی وعدے کئے۔آج بھی سوات آپریشن میں متاثر ہونے والی سیکڑوں تباہ شدہ املاک کے مالکان امداد کیلئے ترس رہے ہیں۔ بار بار احتجاج اور جلوس نکالنے کے باوجود ان متاثرین کی کوئی داد رسی نہیں کی گئی ہے، جنہوں نے بہت ساری قربانیاں دی ہیں۔ اس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع سوات کے بے چارے عوام پر ایک اور عذاب آیا جو سیلاب کی شکل میں تھا۔ اس میں عوام کا ایک بار پھر بے حد نقصان ہوا۔ خصوصاً اپر سوات کے علاقوں کالام، بحرین، مدین اور دیگر سیاحتی علاقوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔ ہوٹل انڈسٹری مکمل طور پرتباہ ہو ئی جو یہاں کے عوام کا ذریعہ معاش تھی۔ پھر جب سالوں بعد پشاور میں کالام سے تعلق کھنے والے ایک قریبی دوست کے ساتھ گفتگو کا موقع ملا اور باتوں باتوں میں سیلاب کا ذکر بھی آیا، تو اس نے کہا کہ سیلاب میں ہمارا بہت نقصان ہوچکا ہے اور ہوٹل بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول حکومتی وعدوں کے باوجود ہم تاحال امداد کے منتظر ہیں۔ مگر وعدے کہ ایفا ہی نہیں ہوتے۔ قارئین کرام! ذکر ہو رہا تھا ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں پر نہایت سخت حالات گزرنے کے بعد تازہ ترین آفت کا۔ افسوس ہو رہا ہے کہ قدرتی آفت ہر جگہ آتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے مگر گزشتہ کئی دنوں سے سننے اور دیکھنے میں آ رہا ہے کہ زلزلے سے ملاکنڈ ڈویژن میں بہت نقصان ہوا ہے۔ یہ تو ظاہری بات کہ سماوی آفات ہوں یا ارضی، اس میں خواہ مخواہ عوام کا نقصان ہوگا لیکن اس بار ملاکنڈ ڈویژن میں زلزلہ آنے پر ہمارے معزز اور قابل احترام سیاستدانوں اور میڈیا نے ملاکنڈ ڈویژن میں جو قیامت برپا کی ہے، اس کی مجھے کوئی سمجھ نہیں آرہی۔کبھی ایک پارٹی کا لیڈر اپنے سیکڑوں جیالوں کے ساتھ بڑی شان و شوکت سے ہسپتال پہنچ جاتا ہے اورفوٹو سیشن کیلئے ہاتھ اٹھا کر اظہار ہمدردی کرتا ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ یہ بھی چھوٹے مسئلے کو بڑا بنا کر اپنی ریٹنگ بڑھانا چاہتا ہے۔ قارئین کرام! ۲۰۰۵ء سے لیکر آج تک جو آفات ملاکنڈ ڈویژن کے بے چارے اور غریب عوام پر آئی ہیں۔ اگر کسی اور علاقے پر آتیں، تو ان کا حال الگ ہوتا۔ خیبر پختونخوا کے غیور عوام نے ہر وقت حد سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔میں انھیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنی آفتوں اور تکالیف کے باوجود بھی اپنی زندگی جیسے تیسے گزاری۔ میری درخواست ہوگی تمام منتخب و غیر منتخب سیاست دانوں سے کہ خدارا، فوٹو سیشن اور اپنے نام کے لئے متاثرین کا وقت ضائع مت کریں۔ ان کی بحالی کی کوئی راہ ڈھونڈیں۔
610 total views, no views today


