قارئین کرام! سردست نوجوان سماجی کارکن اور انویٹو یوتھ فورم کے روح رواں ڈاکٹر جواد اقبال کا ایک اسٹیٹس ملاحظہ کیجیے جسے انھوں نے انتیس اکتوبر 2015ء کو سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا ہے:”Certain forces are working behind the screen to bulldoze the historical Jehanzeb College and Wadodia Hall Swat. The college might be defaced, fractured or damaged but it can be restored as technology has been advanced. The college Is our irreplaceable heritage and it must be restored at any cost. It is not the honor that you take with you, but the heritage you leave behind. A concerted effort to preserve our heritage is a vital link to our cultural, educational, aesthetic, inspirational and economic legacies- all of the things that quite literally make us who we are. اسٹیس شریک کرنے کی دیر تھی کہ دودھ پیتے بچے کسی کی زبان اپنے منھ میں لے کر بے وجہ اختلاف کرنے پر تُل گئے۔ گرچہ اختلاف کا کوئی تُک نہیں بنتا تھا۔ مقام شکر ہے کہ اخبارات ریکارڈ پر ہیں۔ اب اگر وہ بچے اپنی ضد پر اڑے رہیں گے اور ہماری تاریخ کو مٹانے کے مذموم مقاصد میں چھپی طاقتوں کے معاون بنیں گے، تو پھر راقم یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ثبوت کے ساتھ پیش کیا جائے گا کہ ان بچوں کے منھ میں زبان کس کی ہے، کیوں کہ بات نکلے گی، تو پھر دور تلک جائے گی اب بات آگے بڑھانے سے پہلے جہانزیب کالج کو ’’شہید‘‘ کرانے میں معاون بننے والے ایک محکمے کے کردار کے حوالے سے ایک لطیفہ سنئے۔ کہتے ہیں کہ ایک حجام کسی گاؤں کے خان کی حجامت کر رہا تھا۔ حجامت کے بعد اس کی ناک کے قدرے لمبے بالوں کو نکالنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ عمل چوں کہ تکلیف دہ ہوتا ہے، اس لئے اول اول تو موصوف کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، لیکن جب عمل طول پکڑ گیا، تو بدقسمتی سے ایک بال نکالتے وقت خان کی ریح خارج ہوئی۔ ہم پختون چوں کہ کسی کے سامنے ریح خارج ہونے کے عمل کو نہ صرف معیوب سمجھتے ہیں بلکہ اسے باعث شرمندگی بھی گردانتے ہیں۔ اس لئے اس وقت خان کی جیسے گھگی بندھ گئی۔ حجام نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس حوالہ سے خاموشی اختیار کرے گا۔ یہ سنتے ہی خان کی جان میں جان آئی اور اسے پردہ داری کے عوض اچھی خاصی رقم تھمائی۔ کوئی ہفتہ دس دن بعد حجام کا منجھلا بھائی خان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ علیک سلیک کے بعد کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے خان کے کان میں دھیرے سے کہہ دیا کہ ’’خان جی، خاکسار فلاں حجام کا بھائی ہے۔‘‘ خان کے ہاتھوں کے توتے اُڑ گئے۔ فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا اور دوسرے کو بھی پیسے دے دئیے۔ پھر جب دس پندرہ دن بعد مذکورہ حجام کا چھوٹا بھائی خان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے آنے کا مقصد واضح کیا، تو خان نے اپنی عزت کی پروا کئے بغیر پھٹتے ہوئے کہا کہ ’’رورہ، تاسو سہ کار مار کوئ او کہ دغہ یو تِز تہ ناست ئی؟‘‘ کچھ یہی حال محکمۂ سی این ڈبلیو سوات کا ہے۔ اس محکمہ کے چلانے والوں نے اپنی اہلیت کا ثبوت دو ہزار پانچ عیسوی کو اکتوبر میں آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد یہ بیان جاری کرتے ہوئے دیا تھا کہ ’’جہانزیب کالج کی عمارت کسی بھی وقت گرسکتی ہے، اس لئے یہ ناقابل استعمال ہے۔‘‘ لو دسو! ٹھیک دس سال بعد پاکستان کے خوفناک ترین زلزلہ (بقول ’’سرکاری و غیر سرکاری میڈیا‘‘) کے بعد بھی یہ عمارت عظمت رفتہ کی یاد دلانے سینہ تانے کھڑی ہے، مگر دس سال بعد ایک بار پھر سی این ڈبلیو والوں نے اسے ناقابل استعمال ہونے کا شگوفہ چھوڑ دیا۔ مولا خوش رکھے انکا بھی کوئی اور کام نہیں ہے۔ یہ بھی لطیفے کے حجام کی طرح ایک ہی’’تِز‘‘ کو بار بار کیش کر رہے ہیں۔ بات دراصل کچھ یوں ہے کہ محکمۂ سی این ڈبلیو یہ رائے دینے کا سرے سے مجاز نہیں ہے کہ جہانزیب کالج کی عمارت قابل استعمال ہے یا نہیں۔ اس کے لئے انجینئرنگ یونیورسٹی (پشاور) کے کچھ ماہرین ہیں، وہی Final opinion دیں گے کہ عمارت قابل استعمال ہے یا نہیں۔ یار! جس کا کام اسی کو ساجھے۔جہانزیب کالج کے ہسٹری کے پروفیسر ’ڈاکٹر سلطان روم‘ کے بقول ’’دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے کہ جہانزیب کالج کی عمارت کو سائنٹفک طریقوں سے اپنی اصل شکل میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں پر یارانِ نکتہ داں رقم خرچ ہونے کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس بات کی طرف کسی کا دھیان نہیں جا رہا کہ ریاست سوات کے اولین کالج کو ڈھائے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی تاریخ ہے۔ عمارت کے ساتھ ایک عہد کی تاریخ زمین بوس ہوجائے گی۔‘‘ قارئین کرام! دوسری طرف یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ جتنی نئی تعلیمی عمارتیں بنائی جاچکی ہیں، ان کا کیا حال ہے؟گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کی عمارت حالیہ تعمیر کی گئی ہے، اس سے ریاستی دور کی جہانزیب کالج کی عمارت بدرجہا بہتر ہے۔ ودودیہ اسکول کی نئی نویلی عمارت کا جائزہ لیجیے، اس کی بنیادیں ملاحظہ کیجیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ اس حوالے سے سوات کے سینئر جرنلسٹ نیاز احمد خان کے بقول گورنمنٹ آف پاکستان کے تعمیر شدہ ایک سو پچاس اسکولوں کو حالیہ زلزلے کے بعد ناقابل استعمال قرار دیا جاچکا ہے جن میں بڑی تعداد ان اسکولوں کی ہے جو شورش کے بعد تعمیر ہوئے ہیں۔ قارئین کرام! اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری پوری تاریخ ایک منظم سازش کے تحت شورش کی نذر کی گئی ہے۔ ریاستی دور کی کئی عمارتوں کو بم دھماکوں میں اڑایا گیا۔ باقی ماندہ زلزلوں اور سیلاب کی نذر ہوئیں۔ اب اک آدھ نشانی باقی ہے، تو اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے کے ارادے فرمائے جا رہے ہیں۔ کالج کے مسمار ہونے کے بعد اینٹ، سریا اور قیمتی لکڑی سے جیبیں گرم کی جائیں گی اور اس کے بعد نئی عمارت کھڑی کرنے کے بہانے کمیشن اور اس قبیل کے دیگر طریقوں سے قومی خزانے کو لوٹ کر یا پھر بیرونی امداد سے اپنے اپنے محلات کھڑے کئے جائیں گے اور اس پر جلی حروف میں ’’ہذا من فضل ربی‘‘ لکھ کر لوٹنے والے بری الذمہ ہوجائیں گے۔ قارئین کرام! اس تمام تر صورتحال میں پروفیسر خورشید خان کا مؤقف قابل ذکر ہے۔ انکے بقول’’Antiquities act 1975 کے تحت جب کسی عمارت کے ستر سال پورے ہوتے ہیں، تو اسے ثقافتی ورثہ گردانا جاتا ہے اور اس کی حفاظت ایک طرح سے ریاستی ادارے اپنا فرض تصور کرتے ہیں۔پھر جب صوبائی خودمختاری کا دور شروع ہوا، تو اس وقت کی صوبائی حکومت (اے این پی) نے اس میں کمی کی، جس کی روشنی میں اب یہ دورانیہ ساٹھ سال بنتا ہے۔ جبکہ جہانزیب کالج 1951ء کو تعمیر ہوا تھا اور 52ء کو اس میں باقاعدہ کلاسوں کا آغاز لیا گیا تھا۔ تریسٹھ سالہ تاریخی عمارت کو مسمار کرنا ایک طرح سے غیر قانونی عمل ہے۔ اگر مسئلہ ایک نئی عمارت کو تعمیر کرنے سے حل ہوتا ہے، تو سائنس بلاک کے عقب میں زمین پڑی ہے، اگر دو چار رہائشی بنگلے اس کے ساتھ ملائے جائیں،تو ایک ٹھیک ٹھاک عمارت کالج کی حدود میں کھڑی ہوسکتی ہے۔‘‘ جبکہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ جہانزیب کالج کے آئی ٹی بلاک پر سوات یونی ورسٹی نے قبضہ جما رکھا ہے، اگر اسے واگزار کرایا جائے، تو بھی اس میں دو تین شعبوں کو کھپایا جاسکتا ہے۔ فیڈرل ہاسٹل بھی ساتھ ہے، جس کے ساتھ زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا پڑا ہے، اسے بھی کالج کی کلاسوں کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ قارئین کرام! اگر ہم (سوات کی سول سوسائٹی) جہانزیب کالج کو ثقافتی ورثہ ڈکلیئر کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو کوئی امر مانع نہیں کہ اسے ڈھانے اور اس پر ذاتی جیبیں گرمانے والوں کو منھ کی کھانا پڑے۔ زیر نظر تحریر کے توسط سے سوات کی سول سوسائٹی چیف منسٹر اور ان کے بعد ڈائیریکٹر ایجوکیشن اور سیکرٹری ایجوکیشن سے درخواست گزار ہے کہ جہانزیب کالج کو فوراً حکومتی طور پر ثقافتی ورثہ قرار دیا جائے، جس کے لیے تمام تر لوازمات پورے ہیں۔ جاتے جاتے استاد محترم فضل ربی راہیؔ ، فضل خالق، نیاز احمد خان، فیاض ظفر، شہزاد عالم، غلام فاروق سپین دا، پروفیسر سیف اللہ خان، فضل رازق شہابؔ ، حاجی رسول خان، فضل محمود روخان، روح الامین نایابؔ ، فضل مولا زاہد، حاضر گل، شوکت شرار، جاوید احمد خان، غلام جیلانی، انور انجم، سید اسرار علی، نذیر احمد بشیری اور حسن چٹان سے بالخصوص درخواست ہے کہ اس حوالہ سے اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی شخصیات میں شہزادہ شہر یار امیر زیب، افضل شاہ باچا، محمد امین، ڈاکٹر خالد محمود خالد، واجد علی خان، فضل رحمان نونو، عبدالرحیم و دیگر نامی گرامی سیاست دان بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سوات کی تاریخ بہ زبان جون ایلیا چیخ چیخ کر پکار اٹھے بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے پڑگئے زبان میں کیا
638 total views, no views today


