مینگورہ ،ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر نے کہاہے کہ عورتوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور اجاگر کرنا نا گزیر ہے ، دی اویکننگ اور دستگیر لیگل ایڈ سنٹر کی جانب سے سوتن اور سوتیلی بیٹی کے ہاتھوں زخمی ہونے والی عورت کو مفت قانونی اور نقد امداد اہم اقدام ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خوازہ خیلہ شالپن سے تعلق رکھنے والی زخمی خاتون کے شوہر کو چار لاکھ تریاسی ہزارروپے کا چیک دینے کے موقع پر کیا ، اس سے قبل دی اویکننگ کے ڈائریکٹر عرفان حسین بابک ، دستگیر لیگل ایڈ سنٹر کے کوارڈنیٹر غزالہ رحمن اور شمشیر علی نے کہا کہ شالپن میں 36 سالہ عورت حنیفہ بی بی پر اسکے سوتن اور سوتیلی بیٹی نے تیزاب پھینک دیا تھا ، جس سے مظلوم عورت کا 70 فیصد حصہ جل گیا ہے اور اسکی بینائی ختم ہوگئی ہے ، دی اویکننگ کی جانب سے مفت قانونی امداد کے نتیجے میں دونوں ملزم عورتیں گرفتار ہوچکی ہے ، اور اب نقد رقم سے مظلوم عورت اپنا علاج معالجہ کریگی ، ڈی سی سوات محمود اسلم وزیر نے کہا کہ حکومت اس قسم کی سرگرمیوں کو سراہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی اداروں کو بھی ظلم کے خلاف اور مظلوم کی داد رسی کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے ۔
720 total views, no views today


