افضل خان لالا انتقال کرگئے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ خدائے بزرگ و بر تر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے پسماندگان اور لاکھوں چاہنے والوں کو ان کی موت کا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی دستور زمانہ ہے،یہی قانون فطرت ہے۔ جو آتا ہے اُسے زود یا بدیر جانا بھی ہوتا ہے۔ زندگی مسلسل موت کی نگرانی میں رہتی ہے۔ لوگ آتے ہیں، چلے جاتے ہیں اور فنا ہوجاتے ہیں۔ زمانہ مرنے والے کو بہت جلد فراموش بھی کردیتا ہے، مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں پر غالب آجاتے ہیں۔ وہ مر تو جاتے ہیں مگر فنا نہیں ہوتے۔ لیکن بعض جانے والے ایسے خوش نصیب اور ایسے خوش بخت بھی ہوتے ہیں کہ زندگی ان کے نقش پا سے راستہ ڈھونڈتی ہے۔ قومیں اُن کے راہنما اُصولوں سے روشنی پاتی ہیں۔ انسانیت ان سے غازۂ حسن مستعار لیتی ہے۔ شرافت ان پر ناز کرتی ہے۔ محبت اُنہیں دیکھ کر اپنے کاکل و گیسو سنوارتی ہے۔ ایسے لوگ خود جلتے ہیں مگر دوسروں کو روشنی دیتے ہیں۔ خود بے چین و بے قرار رہ کر دوسروں کو راحت و سکون عطا کرتے ہیں۔ دنیا سے بعض ہستیاں اس شان سے جاتی ہیں کہ چہار سوصف ماتم بچھ جاتی ہے۔ آسمان و زمین نوحہ کناں، انسانیت کا پرچم سر نگوں ہوجاتا ہے، زمانہ کروٹ بدل دیتا ہے اور قصر ملت میں زلزلہ آجاتا ہے۔ ایسی ہی ہستیوں کے بارے میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں آج میں اپنے اس کالم میں قارئین کے ساتھ افضل خان لالاکی شخصیت کے چند پہلو شریک کرونگا۔ ساتھ اُن کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرونگا اور اُن کے سیاسی کیرئیر پر پھر کبھی لکھوں گا۔ افضل خان لالا ایک ایسی ہستی،ایسی شخصیت اور ایسے نابغہ روزگار تھے جو مرنے والے نہیں ہوتے۔ ایسی ہستیاں ظاہری طور پر تو چلی جاتی ہیں مگر اپنی فکر اور کردار کے ایسے نمونے چھوڑجاتی ہیں جن کی افادیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی رہتی ہے۔ افضل خان لالا ایک عظیم انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف پختونوں ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ اُن کے پاس اُٹھنے بیٹھنے والے اور اپنے مسائل کے حل کیلئے آنے والے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتے تھے بلکہ حل ساتھ لیکر جاتے تھے۔ وہ پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ بلا تفریق پاکستانی عوام سے محبت کرتے تھے اور دوسروں کے دلوں کی کھیتوں پر ساؤن کی گٹھا بن کر برستے تھے۔ اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی بر ا بھلا نہیں کہتے تھے۔ سب کا احترام کرتے تھے۔ بذات خود وہ دوسروں کیلئے جینا پسند کرتے تھے اور کوشش بھی یہی کرتے تھے کہ اُن کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو فائدہ ہی پہنچے۔ جو لوگ افضل خان لالا کو قریب سے جانتے ہیں، وہ برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بچپن سے لیکر آخر دم تک ایک ایسے نصب العین کے پرستار تھے جس میں امن، عدل و انصاف اور اہل علاقہ بلکہ پوری قوم کی تعمیر و ترقی کا راز مضمر تھا۔ کیونکہ افضل خان لالا اُن سیاست کاروں میں سے نہیں تھے جنہوں نے سیا ست کو اپنے لئے سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار سمجھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاست کے میدان میں ہر چھوٹا بڑا اُن کو ادب و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ افضل خان لالا کارکنوں، ساتھیوں اور تمام پاکستانیوں پر جان نچھاور کرنے والے انسان تھے۔ ان کی ایک اور خوبی جس کا اعتراف اُن کے مخالفین بھی کرتے ہیں یہ ہے کہ وہ شرافت، حسن اخلاق اور عجز و انکساری کا پیکر تھے۔ ان کے نزدیک قدرت نے انسان کو انصاف، عدل اور لوگوں سے محبت کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ افضل خان لالا سے اگر کسی کی زیادہ شناسائی نہ بھی ہوتی، تو بھی خان لالا ہر کسی سے ایسے ملتے تھے جیسے وہ برسوں سے اُسے جانتے ہوں۔ وہ ہر کسی سے اپنائیت اور خلوص کے ساتھ ملتے تھے۔ اُن کی شخصیت کے گہرے نقش ہر ملنے والے کے دل و دماغ پر ثبت ہوکر رہ جاتے تھے۔ وہ اپنے حجرے میں ہر آنے والے مہمان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے اور اس کی تواضع اپنی مرضی سے نہیں بلکہ آنے والے کی مرضی سے کرتے تھے۔ وہ ساتھیوں اور کارکنوں کیلئے اخلاص و مروت کا نمونہ اور مخالفین کیلئے عفو و درگزر کی زندہ مثال تھے۔ اُن کی گفتگو اور پُراعتماد لہجہ سے دل پر ان کی شخصیت کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ ان کی باتوں میں شائستگی اور مدبرانہ انداز ان کی شخصیت کی گہرائی اور پھیلاؤ کا مظہر تھا۔ اُ ن کا درویشانہ طرز عمل ان کے رویے میں شدت پیدا نہیں ہونے دیتا تھا۔ اُن کے جذبات کے دروازے پر عقل کا پاسبان ہر وقت چوکس کھڑا رہتا تھا۔ انہوں نے صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست میں جو نام کمایا ہے، یہ اُنہیں اپنی زندگی میں محض لگاتار محنت اور جہد مسلسل سے حاصل ہوا ہے۔ اسی محنت شاقہ نے اُن کی اپنی ذات پر اعتماد کو دو چند کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کی اُن حوصلہ شکن اور جان گسل ساعتوں میں ان کا ترقی پسندانہ نقطہ نظر ہی تو تھا جس نے اُن کے ارادوں کو چٹان کی پختگی اور چڑھتے دریاؤں کی روانی اور توانائی بخشی تھی۔ ان کو دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ کسی اعلیٰ منصب پر فائز ہے۔ افضل خان لالا کی نظر میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں تھا۔ اس لئے کبھی کسی سے ’’تو‘‘اور ’’تم‘‘ کا انداز تخاطب اختیار نہیں کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ دھرتی کس قدر اچھے انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔ سنہ اُنیس سو چھبیس عیسوی کو ضلع سوات میں پیدا ہونے والے محمد افضل خان لالا یکم نومبردو ہزار پندرہ عیسوی کو انتقال کرگئے۔ خدائے بزرگ و بر تر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے پسماندگان اور لاکھوں چاہنے والوں کو ان کی موت کا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
1,282 total views, no views today


