تحریر شرین زادہ
امریکہ کے با رے میں سنا تھا کہ یہا ں زندگی بہت تیز ہے کو ئی کسی کووقت نہیں دے سکتا اور نفسا نفسی کا عالم ہے ہر کو ئی اپنے کام میں مگن ہے اور ہر کسی کا اپنا ایک سکیج ول ہو تا ہے اور اسکے مطا بق چلنا پڑ تاہے اور اگرکو ئی شخص اپنے کا م سے چھٹی لینا چا ہے تو دو ہفتے پہلے بتا نا پڑھتا ہے تب جا کے چھٹی ملی گی لیکن امریکہ کے اس تیز زندگی میں ایسے لو گ بھی مو جود ہے جو نہ صرف اپنے مہمانوں کووقت دیتے ہے بلکہ مہما ن نوازی بھی خو ب کر تے ہیں ، میری ملا قا ت ایسے کچھ چند لو گو ں سے ہو ئی جس میں پشتو ن روایات اور مہما ن نوازی کوٹ کو ٹ کر بری تھی ، ابرا ھیم خان جس کا تعلق سوات کے علا قہ بر ہ با نڈئی سے ہے وہ نیو یارک شہر میں گز شتہ 25سالو ں سے مقیم ہے اور پا کستان سے جا نے والے افراد کا سب سے پہلے واستہ ان ہی سے پڑ تھا ہے اور زیا دہ تر افراد ان کے ہا ں ٹہر تے ہیں ابرا ھیم خان سے جب میری پہلی ملا قات ہو ئی تو مجھے ایسا لگا کہ ہم دونوں بر سو ں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں کیو نکہ ابراھیم خان کے بلا تکلف اورآزاد گفتگو سے ایسا لگا کہ ہم پر انے دوست ہے انہو ں نے مجھے بالکل بڑے بھا ئی جیسا پیا ر دیا ، نیو یارک شہر میں کا فی مہنگا ئی ہے اور خا ص کر ہو ٹل کا کر ایہ بہت زیا دہ ہے اس لئے اگر آپ کو نیو یارک میں رہا یش مل جا ئے تو بہت بڑی با ت ہے لیکن ابراھیم خان کے ساتھ ٹہر کر انہو ں نے مجھے نہ صرف پو رے یارک شہر کا سیر کرا یا بلکہ خو ب مہما نوازی بھی کی جب میں ان کے رہا یش گا ہ پر پہنچا تو میری نظر کا مران خان پر لگی کا مران خان ابرا ھیم خان کا بھتیجاہے اور جب سوات میں حالا ت خراب تھے تو انہو ں نے سوات کے کشید ہ حالات میں امن کیلئے بہت کا م کیا اور جب میں سوات برہ بانڈی میں رپورٹینگ کیلئے جا تا تھا تو کامران خان امن کی بحا لی کیلئے علا قے میں لشکر کے تشکیل اور دیگر سر گر میو ں میں پیش پیش ہو تے تھے مجھے بہت خو شی ہو ئی کیو نکہ سوات میں اج کل ان کے جا ن کو بہت خطرہ ہے تو یہا ں امریکہ میں کامران خان کو دیکھ کر کہ چلو ان کی جان تو یہا ں محفوظ ہو گی کیو نکہ سوات میں اب ٹارگیٹ کیلینگ وقفے وقفے سے جا ری ہے خیر کامران خان کے ساتھ سوات میں کا فی اچھے تعلقات تھے ا نہو ں نے یہا ں نیو یارک میں بھی میری کا فی خد مت کی کا مران کے ساتھ میں سٹیچو ں اپ لیبر ٹی گیا پو را دن ہم نے وہاں پر لگا یا سٹیچو ں اپ لیبر ٹی امریکہ اور خاص کر نیو یارک کی پہچان ہے جو کو ئی بھی امریکہ جا تا ہے تو وہ سٹیچو اپ لیبرٹی جا نے کاخو اہش ضرور کر تے ہیں میں نے بھی وہا ں جا نے کی خو اہش کی تو اس دن ابراھیم خان مہما نو ں کے ساتھ مصروف تھے تو کامران میرے ساتھ چلے گئی سٹیچو ں اپ لیبرٹی نیو یارک شہر کے قریب سمندر میں ایک چھوٹے سے جزیرے میں وقع ہے اس کیلئے اپ کو لا نچ میں جا نا پڑ تا ہے بہت زیا دہ رش ہو تا ہے اور سیا حو ں کی بڑی تعداد ان لا نچو ں جا تے ہیں تقریبا تیس منٹ کے مسا فت کے بعد سٹیچو اپ لیبرٹی پہنچ گئے بہت خو بصورت نظا رے تھے ہم دنو ں خو ب فو ٹو گرافی کی سٹیچو ں اپ لیبرٹی جہا ں پر وقع ہے اس مقام سے پو را نیو یارک شہر اور اس کے بلند با لا عمارتیں نظر اتے جس کا منظر بہت ہی خو بصورت ہے وہا ں ہم نے کھا نا بھی کھا یا دو تین گھنٹے گزارنے بعد ہم واپس ائے خیر با ت ہو رہی تھی امریکہ کے تیز رفتار زند گی کا اور اس میں مہما نوازی کا تو ابراھیم خان کا دیرا مہما نو ں سے ہر وقت برہ پڑا رہتا ہے یہاں کو ئی سیا ست نہیں ہو تی ہر پار ٹی اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد یہا ں اتے ہیں اور ابراھیم خان ان مہما نو ں کی خو ب مہمانوازی کر تے ہیں جب میں واپس پاکستان ارہا تھا تو انہی دنو ں میں میا ں افتخا ر حسین بھی ان کے مہمان تھے جبکہ چند ماہ پہلے وزیر عظم کے مشیرانجئنیر امیر مقام بھی سات اٹھ دن ان کے مہما ن رہے ہیں امیر مقا م کو بھی نیو یارک شہر کے علا وہ ناگریہ پا ل ابشار لے کے گے تھے اس کے علا وہ اے این پی کے سر بر اہ اسفندیار ولی خان کی بھی وہ مہمانوازی کر چکے غر ض یہ کہ پا کستان سے کئی سر کاری اور غیر سر کاری افراد کا ٹیکا نہ ابراھیم خان کا ڈیرہ ہی ہو تا ہیں ۔امریکہ میں میرے جس طرح لو گو ں نے مہمانوازی کی میں زندگی بھر نہیں بھول سکونگا جس میں سیف اللہ خان، علی شیر خان ،بہادر علی خان ،جاوید خان، فصل خان، رحمت شاہ ،یا سین علی ،کمال خان ،لیا قت خان،شفیق احمد خان،محمد عالم خان اکبر علی خان اور بھی بہت سارے دوستوں نے مجھے دعوتیں کی میں سب بھا ئیوں کا مشکور ہو
924 total views, no views today


