ضلع سوات کے عوام پر آفات آنا کوئی نئی بات نہیں جو کسی نہ کسی شکل میں ہم پر اللہ رب العزت کی جانب سے نازل ہوتے ہیں ‘ایک تو ملٹنسی کی شکل میں تھی جس میں تقریباً 24 لاکھ افراد نے دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی کی تھی وہ زخم ابھی ہرے ہی تھے کہ اللہ تعالی نے سیلاب کی شکل میں ہم پر دوسرا عذاب نازل کیاس سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ‘ اور اب اللہ رب العزت نے شاید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہم پر زلزلہ نازل کیا جو ریکٹر سکیل پر8.1ریکارڈ کیا گیا جیسے ہولناک زلزلہ تصور کیاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔
جہاں سوات کی اس ہولناک تباہ کاریوں کی وجہ سے سینکڑوں افرادجہاں فانی سے کوچ کر گئے تو سینکڑوں گھرانے اب بھی اپنے غموں کی داستانوں کو بھولے نہیں ۔اگر ہم زلزلوں کی بات کو اگے بڑھائیں تو بالا کوٹ کو نظر انداز کرنا زیادتی ہوگی کیونکہ بالا کوٹ میں جس قدر نقصان ہو اتھا وہ اب تک پورا نہ ہو سکا ۔اللہ تعالی کا عذاب آیا مگر اس میں رحم شامل تھا ورنہ اس ریکٹر سکیل میںبالاکوٹ جیسی تباہی نہیں ہوئی جس پر ہمیں اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرنا چایئے۔
قارئین کرام ! ہم نے 2005کے زلزلے کے دس سال بعد کیا سیکھا،کیا ہماری ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پاس اتنے وسائیل ہیں ،جیسے بیرونی دنیا میں ڈیزاسٹر سیلزکے پاس ہوتے ہیں یہ تو بھلا ہو پاک آرمی کا جو آندھی طوفان،سیلاب زلزلہ،آفات میں ہر جگہ با آسانی پہنچ جاتے ہیں اور غریبوں کے مسیحا بن جاتے ہیں، اگر ہم موجودہ دنوںکا ذکر کریں تو زلزلے نے ملک بھر کی طرح سوات کو بھی شدید نقصان پہنچا یا ہیں جس کی وجہ سے تقریبا پورے سوات میں 34افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں اور 300سے زائد افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں ‘ ہولناک زلزلے سے سینکڑوں گھرانے بے گھر ہو کر کھلے اسمان تھلے اس سردی میں بے ےارو مدد گار پڑے ہیں ‘جن میں متعدد مکانات مکمل طور پر اور اکثر جزوی طور پر بھی تباہ ہوچکے ہیں جس میں ابھی تک ایسے گھرانے بھی ہیں جن کو ابھی تک امدادی سامان تک نہیں ملا ہیں ‘ بعض زلزلہ زدگان سردی انے سے پہلے اپنے مدد آپ کے تحت اپنے مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن بیشتر افراد ایسے بھی ہیں جن کے پاس روٹی ،چادر اور چار دیواری کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں جس میں ذیادہ تر لوگ پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں ۔
المیہ یہ ہے کہ حکومتی اہلکار اور انتظامی اداروں کے برائے نام بلند و بانگ دعوے صرف دعوﺅں تک محدود ہیںاور تما م سیاسی شخصیات اس آفت میں بھی فوٹو سیشن کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کا اعلیٰ قراردینے کے لئے دوسری پارٹیوں پر الزامات لگاتے ہیں حالانکہ یہ وقت اس کا نہیں بلکہ ایک ہو کر عوام کی خدمت کا ہے تاکہ لوگ اس سے مستفید ہو سکے۔ذکر کریں تو ابھی خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی ممبران منتخب ہوئے ہیں ابھی تک انہیں اپنے فرائض کا بھی پتہ نہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ابھی تک ناظمین اور کونسلرزکو یہ بھی معلوم نہیں کہ فلاں کام کہاں اور کس طریقے سے کیا جائیں ‘بلدیاتی ممبران کے حکم پر تو ایک عام پولیس سپاہی بھی کام نہیں کرتا اور اپنے اپ کو ناظم ،نائب ناظم وغیرہ کہتے ہیں ‘ اگر میں یہ بات کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ ممبران اسمبلی یہ چاہتے ہیں کہ بلدیاتی ممبران کو اختیارات نہ ملے کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ جو اختیارات ان کے پاس ہیں وہ ان سے چھین لئے جائیں، اگر ہم زلزلے کے دنوں کا ذکر کریں تو ممبران اسمبلی اور بلدیاتی ممبران نے تو خوب فوٹو سیشن کیا، جاں بحق افراد کے لواحقین غم سے نڈھا ل تھے تو دوسری طرف زخمی ہونے والے افراد بھی ہسپتالوں میں بے یارو مدد گا ر پڑے ہوئے تھے تو ممبران اسمبلی اور بلدیاتی ممبران بھی خوب فوٹو سیشن میں مصروف تھے ‘ جوبھی رہنما اور وزیر آتے میڈیا کے سامنے بڑے بڑے دعوے کرتے تھکتے نہیں تھے، مختلف دیہاتوں اور قصبوں میں فاقہ کشی اور غذائی قلت تو ہے ہی اوپر سے سردی آ رہی ہے جو اس متاثرین کے تکالیف میں مذید اضافہ کر رہے ہیں، کسی کے پاس کھانے کچھ نہ سر چھپانے کے لئے ٹینٹ موجود ہیں ‘کوئی ہسپتال جاکر زخمیوں کی عیادتوں میں اپنے رشتہ دار یا دوست کو تصویر نکالنے کا کہتے ہیں تو کوئی متاثرہ مکانات کا دورہ کرتے کرتے بھی تصویر کشی کررہے ہیں۔
شہری علاقوں کی بہ نسبت پہاڑی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ‘ جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد بھی پہاڑی علاقوں میں زیادہ ہیں لیکن اگر کوئی حکومتی اہلکار یا ممبران اسمبلی یا کوئی بڑے بڑے سرکاری لوگ زلزلے کے متاثرین کے لئے آتے تو وہ صرف شہری علاقوں تک محدود ہیں ‘ جیسا کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک مختصر دورے پر سوات ائے اور مینگورہ کے سنٹرل ہسپتال جا کر زلزلہ سے زخمی افراد کی عیاد ت کی جو حاضری تھی ہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سے کیاگلہ کریں ‘ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شانگلہ کا دورہ کیاجو صرف شانگلہ تک ی محدود رہا ،اور ہفتہ بعد دیر لور کا دورہ کرکے سوات سے بے پناہ محبت کا اظہار کر دیا ، اللہ تعالی نے وطن عزیز پاکستان کو ایسا آرمی چیف دیا ہے جو ہرمشکل گھڑی میں چاہے دہشتگردی ہو یا قدرتی آفات عوام کے ساتھ ہوتا ہے ، متاثرین کے ساتھ پاک آرمی کے جوانان شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور خاصکر مضفاتی علاقوں میں امدادی سامان گاڑیوں کے ذریعے سے پہنچ سکتا ہیں انہیں پہنچا رہے ہیں لیکن جن علاقوں کو نہیں پہنچ سکتا ہیں انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے ‘ صوبے کے مختلیف اضلاع جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں ان میں فری میڈیکل کیمپ بھی لگائے اور انہیں دیگر امدادی سامان بھی پہنچائے ۔زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تو اللہ تعالی ہی کی طرف سے ایک امتحان ہوتا ہے ‘ ان سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے اعمال کو ٹھیک کرنے ہونگے ۔ اب ہمیں چائیے کہ ہم متحد ہو کران مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کریں جن کے گھر تباہ ہوچکے ہیں یا جو افراد زخمی ہوگئے ہیں ہم اپنے ممبران اسمبلی اور دیگر حکومتی اہلکارو ں کو بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں اور اس دردناک صورتحال میں عوام کے ساتھ کھڑے رہے جو ان غریب اور مصیبت زدہ لوگوں کا حق ہیں وہ ان کو پہنچائیں ۔ مکانات گرنے سے جو لوگ وفات پاچکے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیںاور لواحقین کو صبرو جمیل عطا فرمائیں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
سب مصروف تھے سب فانی زندگی کے الجھنوں میں
ذرا سی زمین کیا ہلی سب کو خدا یاد آگیا۔
898 total views, no views today


