فارسی کے مشہور شاعر’’ انوری‘‘ کا حال بھی ہمارے جیسا ہی ہے ہر بلائے کز آسماں آید گر چہ بر دیگرے قضا باشد بر زمیں نارسیدہ می پرسد خانۂ انوریؔ کجا باشد! اپریل2015ء میں نیپال ایک قیامت خیز زلزلے سے لرز اٹھا۔ لگ بھگ آٹھ ہزار کے قریب لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ ساری دنیا کی میڈیا نے اس زلزلے کی لائیو کوریج کی تھی جس میں بڑی بڑی عمارتیں زمین بوس ہوتی دکھائی جاتی تھیں۔ زلزلے کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ارینہ بوکوا نے کھٹمنڈو میں ہونے والے نقصان کو ناقابل تلافی قرار دیا تھا۔ اس زلزلے میں ان کی تاریخی عمارتیں، مندر، میوزیم اور دیگر یادگار مقامات بھی برباد ہوگئے تھے، لیکن ایک زندہ قوم کی طرح نیپالی دوبارہ اٹھ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے تعمیر نو کا آغاز کیا۔ دوسرے خوبصورت اور تاریخی ملکوں کی طرح نیپال میں بھی سیاحت کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ چنانچہ جب تعمیر شروع ہوئی تو تاریخی مقامات اور یادگاروں کی بھی مرمت کی گئی جسے بعد ازاں سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یونیسکو کے تحفظات کے باوجود سیاح وہاں جاتے رہے۔ مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ اہل سوات پر شوریدہ سری کاالزام لگا اور انہیں دربدر کیا گیا، تو دنیا چیخ اٹھی کہ بحران آگیا۔ سب نے کمر کس کے اس عظیم بحران میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یوں مملکت خداداد پاکستان ایک عظیم المیے سے سرخرو ہوکر نکل گیا۔ تب تک سوات میں نقصانات اتنے زیادہ ہوچکے تھے کہ بیرونی امداد بھی اس کا مداوا نہیں کرپائی۔ نقصان افراد تک محدود ہوتا، تو یہ امداد بھی کافی تھا۔ بشرط یہ کہ وہ مستحقین تک پہنچ پاتا، لیکن یہ نقصان افراد سے کہیں بڑھ کر اداروں اور ہماری ثقافت کو پہنچا تھا۔ علم کی روشنی اور عقل کی رہنمائی جہاں نہ ہو وہاں ایسے المیے وجود میں آنا کوئی انہونی بات نہیں۔ انہوں نے اگر ہماری ثقافت کا کچھ خیال نہیں کیا، تو اہل شعور نے بھی اپنا حساب پورا کیا۔ ’’ودودیہ سکول‘‘ ہو یا جہانزیب کالج، یہ سب ہمارے بزرگوں کی بقایا جات ہیں۔ انہی سے ہماری تاریخ وابستہ ہے۔ ہماری ثقافت کی نشانیاں ہیں اور سرکار آج ان نشانیوں کے درپئے آزار ہے۔ مانا کہ زلزلے اور اور دیگر آفات ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ درست کہ ان آفات کے نتیجے میں خراب عمارتوں کو گرادینا چاہئے۔ بجا کہ قدیم عمارتوں کو ازسرِ نو تعمیر کرنا چاہئے لیکن جب اس کا عملی وقت آتا ہے، تو آپ کو صرف سوات کے تاریخی آثار ہی کیوں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں؟ کیا تاریخ اتنی مظلوم ہستی ہے کہ اس کی بیخ کنی ایک معمولی کام سمجھا جائے؟ سوات کی تاریخ پورے ملک میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ نصر اللہ خان نصرؔ نے اس حوالے سے کیا خوب کہا ہے سرزمین سوات تیری منفرد اک شان ہے تیرا ذرہ ذرہ ہے تاریخ وتہذیبوں کا گھر تیری وادی میں ہے کھولی کتنی تہذیبوں نے آنکھ تیرے ہر منظر میں جنت کی بہاریں جلوہ گر تیری وادی میں دراوڑ بھی رہے منگول بھی آریاؤں کو ہے لایا حسن تیرا کھینچ کر بزرگ کہتے ہیں کہ ہمیں والئی سوات کا دور لوٹا دو۔ ان کا بس نہیں چلتا، ورنہ گردش ایام کو پیچھے کی طرف لوٹانے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کرتے۔ والی صاحب کا دور ایک سنہری دور تھا۔ میاں گل عبدا لحق جہانزیب جو ’’جہانزیب کالج‘‘ کے بانی ہیں، کو پاکستان آرمی میں بریگیڈیئر کا اعزازی عہدہ دیا گیا تھا۔ اور 1955ء میں آپ کو میجر جنرل کے اعزازی عہدے سے نوازا گیا۔ آپ نے ریاست سوات میں امن وامان کی ایسی صورت حال قائم کی تھی جس کی مثال دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔ دیر جو اس وقت نواب کی حکمرانی میں ایک طاقتور ریاست تھی، وہاں کے عوام کو نواب نے صحیح معنوں میں کالانعام بنایا تھا۔ انگریزوں کی موٹر کاروں کے سامنے گھاس تک ڈلوائی گئی، تا کہ ان کے سامنے اپنی قوم کو اجڈ اور گنوار ظاہر کیا جاسکے اور انگریز کو ڈرایا جاسکے کہ وہ ریاست سے نکل جائیں۔ نیز انہیں یہ موقع نہ ملے کہ وہ ریاست کے عوام کا قریب سے مشاہدہ کرسکیں،لیکن والئی سوات نے اس کے برعکس اپنی ریاست میں تعلیم کو فروغ دیا اور یہاں ہر طرح کی جدید سہولتوں کا جال بچھایا۔ ’’جہانزیب کالج‘‘ اس مردِ جری کی یاد گار ہے جس کی ایک ایک اینٹ میں ان کی محنت اور اخلاص کی تصویریں نقش ہیں۔ کالج کے درودیوار بزبانِ حال ان کی علم دوستی کی داستانیں سناتی ہیں۔ اس کالج میں ہمارے بڑوں نے پڑھا اور آج ہمارے نہایت قابل نوجوانوں کو یہاں کے محنتی اساتذہ سے استفادے کا موقع مل رہا ہے۔ گاہے گاہے پرانی تصویروں کی فائل میں جب جہانزیب کالج کی تصاویر نظر آتی ہیں، تو دل میں ایک میلہ سا لگ جاتا ہے۔ یہاں کا سالانہ رسالہ ’’ایلم‘‘ اپنے پرانے شماروں کے ساتھ آج بھی الماری کی زینت ہے جس کا ایک ایک لفظ ایک عجیب قسم کی کیف میں ڈوبا ہوا سا لگتا ہے۔ہم حکومت سے التجا کرتے ہیں کہ ہم سے بزرگوں کی نشانیاں نہ چھینے۔ ہمیں انوری کے قول کا مصداق نہ بنائے جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ: ’’آسمان سے جو بھی مصیبت آتی ہے، تو اگر چہ اس مصیبت کا فیصلہ کسی اور کے لیے ہوچکا ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ زمین پہ پہنچتی ہے، تو لوگوں سے انوری کے گھر کا پتا پوچھتی ہے۔‘‘
1,630 total views, no views today


