بریکوٹ ،یو سی بریکوٹ میں تحصیل انتطامیہ ،ڈسٹرک و تحصیل ممبران کے باہمی گٹھ جوڑکی وجہ سے امدادی رقوم میں بڑے پیمانے پر خرد برد ،ازسر نو تحصیل بریکوٹ میں صاف اور شفاف انکوائیری کی جائے،تاکہ کوئی مستحق امداد سے محروم نہ رہ سکے‘ ان خیالات کا اظہارسابقہ امیدوار پی کے 82 شہزاد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یو سی بریکوٹ میں تحصیل انتظامیہ جس میں اے سی بریکوٹ ،اے ای سی بریکوٹ،تحصیلدار،تمام پٹواری،ڈسٹرک و تحصیل ممبران کی باہمی گٹھ جوڑ سے امدادی رقوم میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور خرد برد ہوئی ہے اس کے علاوہ ذیادہ تر امدادی چیک اور امدادی اشیاء من پسند لوگوں اور شتہ داروں میں تقسیم کی گئی ،اور مستحقین بے یارو مددگار تا حال کھلے اسمان تلے اس شدید سردی میں رات دن گزار رہے ہیں ،درجنوں متاثرین زلزلہ نے باربار شکایات اور اعتراضات کی مگر کوئی شنوائی نہیں مل سکی ،جبکہ تحصیل انتظامیہ اور انکے کارندے بمعہ ممبران خاص اپنے آپ کوبری الذمہ اور صاف ظاہر کرنے کے لئے شریف اور متاثرین زلزلہ کو بدنام کرنے کے لئے انکوئیری کے نام پر انکا استحصال اور تذلیل کر رہے ہیں اور اپنے غلطیوں کو چھپانے کے لئے ان کو بدنام اور پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ظلم اور نا انصافی ہے ، انہوں نے کہا کہ جن متاثرین کودو دو لاکھ کے مالی امداد دی گئی ہے ان متاثرین نے نہ تو درخواست کی تھی اور نہ ہی یہ کہا تھا کہ ہمیں بڑا مالی گرانٹ دے دیں ،جن متاثرین کو امدادی چیک ملے ہیں انکی جانچ پڑتال تحصیل انتظامیہ نے کی تھی اب کیوں کرپشن کا واویلا کر کے اپنی ہی غلطی کو دوسرے کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، تحصیل انتظامیہ کا بھی کھڑااحتساب ہونا چاہئے۔تما م متاثرین کو چیک تحصیل ایڈمینسٹریٹر ز نے اپنی دفتر میں درجنوں لوگوں کے سامنے دئے تھے ، انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت ،صوبائی حکومت ،پاک آرمی اور صوبائی احتساب کمشن،سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یو سی بریکوٹ میں جو ڈیٹالی گئی ہے اس کو از سر نو پاک اور شفاف طریقے سے مکمل جانچ پڑتال کے بعد کی جائے اور موجودہ امدادی رقوم میں جو خرد برد کی گئی ہے اسکی مکمل انکوائیری کر کے شفافیت کو برقرار رکھا جائے تاکہ دوبارہ شریف اور باعزت لوگوں کی بدنامی نہ ہواور امدادی رقوم مستحقین کو مل سکیں۔
952 total views, no views today


