سوات، گورنمنٹ جہانزیب کالج کو اگر مسمارکرنے کی کو شش کی گئی تو سڑکوں پر نکل آئینگے تاریخ عمارات کو قومی ورثہ قرار دیاجائے، ڈاکٹر خالد محمود گوجر، سیدوشریف کے تحصیل کونسلر اور صوبائی سیکرٹری پختون خوا میپ کے ڈاکٹرخالد محمود نے اخباری بیان میں کہاہے کہ سوات کی تاریخی تعلیمی درسگاں جہاں زیب کالج کو قومی ورثہ قرار دیاجائے اور اس کا تحفظ کرنا ہم سب کی قومی واجتماعی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل گورنمنٹ ودودیہ ہائی سکول جیسی تاریخی ورثہ کے حامل عمارت کو مسمار کرکے سراسر ظلم کیاجاچکاہے ، او ر اس کی جگہ ایک عام قسم کی بلڈنگ تعمیر کی جاچکی ہے اب حکومت تاریخی جہاں زیب کالج کو مسمارکرنے کی باتیں کررہی ہے اگر اس تاریخی اور ثقافتی عمارات کو مسمارکیاگیاتو یہ سواتی قوم اور تاریخ کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔ لہذا اس سلسلے میں سوات کے عوام کو متحد ہوکراجتماعی طورپر جہانزیب کالج کو مسمار کرنے سے بچانا ہوگا، حکومت کسی اور زمین پر دوبارہ نئی کالج کی بلڈنگ تعمیر کریں، خالد محمود نے حکومت کو تنبہ کیا اگر عمارت کی مسماری کا کوئی فیصلہ کیاگیا تو اس کے خلاف بھوک ہڑتال سمیت ہرقسم کی احتجاج سے دریغ نہیں کیاجائے گا۔
758 total views, no views today


