سوات، شاہی خاندان کے سپوت و اہم سیاسی شخصیت میانگل شہریار امیر زیب نے کہا ہے کہ جہانزیب کالج کی عمارت گرانے کی خبریں افسوسناک ہے اگر واقعی حکومت نے اسی قسم کا کوئی فیصلہ کیا ہے تو یہ سراسر نا انصافی ہوگی،کالج کی عمارت کو یادگار کے طور پر محفوظ کیا جائے اور طلباء کے تعلیمی مستقبل کو مدنظررکھتے ہوئے دوسرا کالج بنایا جائے،بقول کالج حکام کے موجودہ کالج میں محدود سیٹوں کی گنجائش ہے،دوسری عمارت کی تعمیر سے یہ مسئلہ بھی ختم ہوجائیگا، جہانزیب کالج نے ملک کو مختلف شعبوں میں قابل لوگ دیئے ہیں ،ریاستی دور میں تعمیر ہونے والے جہانزیب کالج سے پوری مالاکنڈ ڈویژن کے عوام مستفید ہوئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مہذب اور باشعورقومیں اپنے تاریخ کو زندہ رکھتی ہے اور جہانزیب کالج مالاکنڈ ڈویژن میں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے جس کو مٹانے کی بجائے محفوظ رکھنا ضروری ہے اگر موجودہ عمارت واقعی مزید استعمال کی قابل نہیں توصوبائی حکومت فی الفور سیدوشریف میں کسی دوسری جگہ پر کالج کے قیام کو ممکن بنائیں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
642 total views, no views today


