تحریر ۔شہزاد نو ید
وادی سوات اپنے قدرتی حسن ،دلکش مناظر اور مختلف مو سمی حالات سے اپنے مثال آپ ہے ان قدرت کے مالاما ل نعمتو ں کی وجہ سے سیاح واد ی سوات کا رخ کرتے ہے اگر سردی ہو تو سیاح برفباری سے لطف اٹھانے کے لئے آتے ہے برف پر خوف ہلہ گلہ کر تے ہے جب گر می ہو اور سورج اگ برساتاہے تو سیاح وادی کالام ،ملم جبہ اور مدین کے بلند وبالا پہاڑوں پرہائی کنگ کے ساتھ ساتھ خوب مزے لوٹتے ہے۔ قارئین کرام۔ سننے میں آرہی ہے کہ والئی سوات کے دور سے ابھی تک سیاح وادی سوات کی دلکش مقامات کا رخ کررہی ہے کیونکہ وادی سوات کے نظارے ایسی ہی پیارے کہ دل جانے کے لئے راضی نہیں ہوتا ایک طرف بلند وبالا پہاڑی سلسلے تودوسری طر ف دریائے سوات کی ٹھنڈی میٹھی پانی وادی کی حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔ واد ی سوات کی سیاحتی مقامات کے بدولت سیاح تو وادی کا رخ کررہے ہے لیکن ان کو کئی رکاوٹوں کا سامنا بھی کر نا پڑرہا ہے جیسے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی، ٹریفک جام، جگہ بہ جگہ چیک پوسٹ اور کھنڈرنما سڑکیں سیا حو ں کے سامنے دیوار بن کر رہ گئیں ہیں اگر ہم مینگورہ بائی پاس روڈ پر تھوڑی نظر ثانی کر ے تو بائی پاس روڈ کی کنارے پانی کے تیز بہاو سے ختم ہو چکی ہے اور دیر ی دیری سڑک بھی خرابی کی طرف گامزن ہے دوسری بات بائی پا س روڈ پر رات کے وقت ڈرایؤنگ انتہائی مشکل کو ئی لائٹنگ کا انتظام نہیں۔ساتھ ہی اس روڈ پر جو ش دل نو جوان تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کر کے اللہ کو پیا رے ہو جاتے ہیں وجہ معلوم ہے کیوں۔۔؟ ان حادثات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے ذہن میں کئی سوالات رونما ہوتے ہے کہ بائی پا س روڈ پر ذیا دہ حادثات کیوں ہوتی ہیں۔؟،دن کے بجائی رات کے وقت حادثات کچھ زیادہ۔وجہ۔؟ اور رات کے وقت بائی پا س روڈپر لو گو ں کا رش کیو ں لگا رہتا ہے۔؟ ہماری ذہن میں ان سوالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی جوابات واضح ہوگئے ہیں اگر ذیا دہ حادثات کے حوالے سے ہم اپنے پڑھنے والوں کوکہنا چاہیے گے تو پہلے و جہ سفیڈ بریکر،جمپ ،اور سڑک کے کنارے کوئی سیفٹی کیلئے کوئی دیوار نہیں،اگر کسی سے گاڑی تھوڑی بے قابو ہوجاتی ہے تو یا دریا سوات سے تیز لہروں کا شکار ہو جاتے ہیں اور یا کھیتوں میں جاکر اللہ کو پیارے ہو جا تے ہیں اگر دن کی بجائے رات کے وقت ایکسیڈنٹ زیا دہ ہوجاتے ہے تو پہلی وجہ لائیٹنگ ،اور کئی جگہوں پر روڈ خرابی کے باعث حادثات ہو جاتے ہے رات کے وقت ہرکسی کادل بائی پا س جانے کو کر تا ہے کیو نکہ لوگ بازاروں اور دکانوں سے مصروفیت ختم ہونے کے بعد تازہ ہواکھانے کے لئے جاتے ہیں جب کو ئی مہماں کر اچی ،لا ہو ر ،اسلام آبا د ، پشاور اور فیصل آبا د سے آتے ہے تو وہ دریا سوات کے کنارے بائی پا س کے ہو ٹلز پر کھانا کھانے کے شو قین ہو تے ہے اگر ہم خیا ل کریں وہ ہو ٹل تو لوگ کے لئے سہولت ہے لیکن اس سہو لت کے پیچے کئی چھپی نقصانات ہیں ان ہو ٹلز ،ریسٹورنٹ سے ایک طر ف وادی کے حسن پر بد نما داغ ثابت ہو سکتا ہے تو دوسر ی جانب ہو ٹلز والے سارا کوڑا کرکٹ دریا سوات میں ڈالتے ہیں ایک تو دریا سوات کے صاف پا نی گندہ ہو جا تی ہے تو دو سری جانب دریا سوات میں مچھلیوں ،اور مہرین کو بہت نقصان کا سامنا کر نا پڑرہاہے ان ہو ٹلز کے وجہ سے سڑک پرگندگی بھی پھیلتی ہے ان باتو ں کو مد نظر رکھتے ہو ئے ہماری خامو ش بے خبر حکو مت کو چاہیے کہ ان ہوٹلز،ریسٹوریٹ کے خلاف کاروائی کریں تو وہ ہماری لئے فائد ہ مند اور باعث فخر ہوگئی ۔ وادی سوات کے سا تھ ساتھ اگر ہم دو سر ی خو بصورت مقامات کے بات کریں تووہ بھی جنت کے ٹکڑے ہیں جیسے وادی مہوڈنڈ، کالام ، اوشو اورمٹلتان بہت سے دلفریب وادیاں ہیں وادی کالام کے خو بصورتی کا پہچان دنیا بھر میں کی جاتی ہے وہ قد رت کے کر شموں سے مالامال ہیں لیکن دو ہزار دس کی سیلاب نے وادی کالام کے سڑکو ں کا حال بے حال کر دیا ہے لیکن ابھی تک ہماری ایم این ایز،ایم پی ایز اور صوبائی اسمبلی ارکان اسے بنانے میں مسلسل نا کام نظرا رہی ہے لیکن ہماری سیاسی حکمرانو ں کے وادی تو صر ف جلسوں تک محدود ہو تے ہے اور کئی پارٹیوں نے پشاور سے کالا م تک مو ٹر وے بنا نے کی دعویٰ بھی کئے تھی ان صاحباں سے درخواست ہے کہ اگر کچھ کر نا نہیں چاہتے تو اپنے یہ تقاریر ،وعدے اپنے ساتھ سنبھال کے رکھیں کیو نکہ کے پی کے کی لو گ کو پہلے سے کئی پارٹیوں نے اسے دھوکہ دیا ہے ان تقا ریر ،جلسسوں سے ہماری لو گو ں کو کوئی خو شی نہیں ملتی بلکہ البتہ اسی سے انکے قیمتی وقت ضائع ہو جاتی ہے آخر میں خان صاحب اورانکی کھلاڑیوں کے لئے ایک وا ضع پیغام ہے کیو نکہ خیبر پختو ں خواہ میں تحریک انصاف کے دو سا ل سے زائد بیت گئے ہیں کارکردگی اور تر قیاتی کام نہ ہو نے کے بر ابر ہے میچ کا ایک اننگ ختم ہو نے والی ہے اور اس میں اپکا کارکر دگی زیرو کی بر ابر ہے خان صا حب ۔۔۔اور ۔۔۔ وزیر اعلی خیبر پختوں خواہ پر ویز خٹک صا حب۔۔۔ہماری لو گ نئی پا کستان کا انتظار کر رہی ہیں اور اپ پر انی پاکستان کے مسائل پر ابھی تک بعث کر رہے ہو ں خدا کی واستی کے پی کے میں کچھ نہ کچھ کر وں ورنہ کے پی کے میں تحریک انصا ف کا نا م ونشا ن ختم ہوجائیں گئے ایک دوسری پر الزما ت اور دوسر وں کی ترقیاتی منصو بوں میں مداخلت ہو کچھ نہیں ہو تا خو د کچھ کر کے دکھاوں خیبر پختوں خواہ میں پاکستا ن تحریک انصا ف کی حکومت کا کچھ عرصہ رہ گیا ہے لوگو ں کے لئے کچھ ترقیا تی کا موں و غیرہ کی ضرورت اب نہیں کیو نکہ اپنی لو گوں کے امیدی خا ک میں ملا دی اگر اپکو دو بارہ الیکشن لڑنا ہے اور ووٹ کے ضرورت ہے کہ ایسا کچھ نہ کچھ کر وں کہ اپ منہ ووٹ ماننی کی قابل رہیں۔ ساتھ ہی گزشتہ روز جنت نظیر وادی سوات کی لوگ نے میڈیا سے بات چیت کر تے وقت انہوں نے کہاکہ سوا ت میں تبدلی کے دعوئداروں میں سب دعوے دری ہی درے رہ گئے صر ف ایک تبدلی تو نظر آرہی ہے کہ جب الیکشن سے پہلے ہماری ایم این اے مراد سعید صاحب وادی سوات کی بولی بالی سا دہ لو گو ں کو دن میں نہیں تو ہفتے میں ایک بار ضرور اپنا دیدار کرواتی لیکن جب سے الیکشن ہو گیا اور مراد سعید چھا گیا تو دو سا ل سے زیا دہ وقت گزرنے کی باوجو داس صاحبزادے کو کسی نے نہیں دیکھا ہے لو گوں کو انکھ اسکی کی دیدار کے لئے تر س رہی ہے لیکن مراد صا حب کا دیدار چاند کو چھو نا ہے اگرخیبر پختو ں خواہ کے ایسے ایم این ایزہوں تو ترقیا تی کام کا سوچنا بھی غلط ہے یہ تبدلی کی واضح ثبوت ہے ساتھ ہی ہم اپنی نجی ٹی وی چینل والو ں کا بھی شکر گزار ہوں کہ اسی نے ہماری لا ڈلہ کو سکرین پر دیکھا کر لوگو ں نے اسی کا دیدار کیامر اد صا حب۔۔۔تو لو گوں کی نہیں بلکہ ٹاک شو کا ایم این اے ہے ایک رات ایک چینل کے ساتھ تو دوسری رات کو ئی کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو تا ہیں یہ ہماری مستقبل اور تبدلی کی نشانی ہے ۔
840 total views, no views today


