گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے لفظی معنی کسی کے ساتھ سونے بھر اہاتھ ملانا ہے، لیکن ہمارے اداروں میں یہ باقاعدہ طور پر ایک ایسی اسکیم ہے جس کے ذریعے زوال پذیر ہونے والے ادارے اپنے ملازمین کو مخصوص رقم دے کر فارغ کرنے کے بعد ان پر کام کرنے کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دیتے ہیں۔ قارئین، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے پیارے پاکستان میں ہر پانچ سال بعد عام انتخابات ہوتے ہیں اور ان انتخابات کے نتیجے میں نئے حکمران آتے ہیں۔ عوام پرانے سیاستدانوں سے عاجز آکر نئے لوگوں کو سامنے لاتے ہیں۔ اس امید پر کہ شاید وہ حقیقی معنوں میں ان کی خواہشات کی ترجمانی کریں یعنی عوام کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی ملے اور ان کی آنے والی نسل ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے لیکن نتیجہ ہر بار بالکل اس کے برعکس نکلتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے۔ اس وجہ سے قوم اس بات کا فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہے کہ ووٹ کا استعمال کس طرح کیا جائے؟ اہل وطن کو ووٹ کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا اوروہ پھر ایک پرانے جال سے نکل کر نئے جال میں پھنس جاتے ہیں اور امید پر امید لگائے بیٹھ جاتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحاآکر ان کے حالات کو بدل دے گا۔ اس ملک سے غربت، رشوت، ملاؤٹ، اقربا پروری اور کمیشن مافیا کو ختم کرکے عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرے گا، مگر افسوس کہ اس میں تقریباً اڑسٹھ برس بیت گئے اوراس دوران ہمارے بزرگ یہ امید لے کر اس دنیا سے چلے گئے۔ ٹھیک اسی طرح ہم بھی چلے جائیں گے ۔ قارئین! کسی ملک کی سب سے بڑی خرابی اس کا سرمایہ دارانہ اورجاگیردارانہ نظام ہوتی ہے۔ کیونکہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات غریبوں کے مفادات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ چونکہ طاقت اوراختیارات ان دونوں طبقوں کو ووٹ کے ذریعے دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا تیسرے طبقے یعنی غریب کو کچھ نہیں ملتا بلکہ وہ تو غریب سے غریب تر اور امیر، امیر تر بن جاتا ہے۔ جمہوریت لفظ جمہور سے نکلا ہے اور جمہور کے معنی ہیں عوام۔ جمہوریت سے مرادعوام کی حکومت ہے، تو آپ خود سو چ لیں کہ ووٹ کی حد سے بڑھ کر ہمارے ملک پاکستان میں کس حد تک عوام کی حکومت ہے؟ آیا اس ملک میں غریب کو رشوت کے بغیر کچھ ملتا ہے یا اسے وہ تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو کسی مہذب معاشرہ میں شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں؟اجرت کی ادائیگی کے بغیر اسے علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر ہے؟ اسے تعلیمی میدان میں وہ سہولیات میسر ہیں جو اجرت اداکئے بغیر انہیں ملیں؟ یہاں تو کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں، سرمایہ داروں اورجاگیرداروں کے لئے الگ اور غریبوں کیلئے الگ۔ سرمایا داروں کیلئے قائم تعلیمی اداروں میں غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس طرح زندگی کے ہرشعبہ میں الگ نظام موجود ہے یعنی سرمایہ دار کیلئے الگ اورغریب کیلئے الگ اوریہ سسٹم پاکستان بننے کے بعد سے ہی رائج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے بزرگوں نے یہ ملک اس لئے آزادکیا تھا کہ اس پر وہ لوگ قابض ہوں جن کے خون میں شروع سے ہی غریب دشمنی شامل ہو؟ کیا یہ جدوجہد اس لئے کی کہ ان کا کام رشوت، اقربا پروری اور کمیشن کے بغیر نہ ہو؟ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک ہی پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ زمین اورآسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ ان سب کا خالق ومالک ہے۔ انبیاء اس کے رسول و پیغمبر ہیں، تو یہی پیغام وقت کے نبیؐ جب ان لوگوں کو دیتے، تو وہ لوگ قطعی انکار کرتے۔ان میں سے بعض لوگ تو مسلمان ہوجاتے لیکن اکثر منکر اور باغی ہی رہتے، تو اللہ کی طرف سے دنیا میں دردناک عذاب کی وعید دی جاتی لیکن وہ لوگ یقین نہیں کرتے تھے اور اپنی ضد پر اڑے رہتے تھے۔ پھر جب یہ لوگ حد سے گزرجاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوتا جو ان منکرین کو روئے زمین سے اس طرح نیست ونابود کرتا جیسے یہاں کوئی تھا ہی نہیں، سوائے اللہ کے پیغمبر اور ایمان لانے والوں کے۔ آج اگر دیکھا جائے، توصورتحال بالکل وہی ہے۔ نام کے تو ہم مسلمان ہیں مگر اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسولؐ کے احکامات کو بہت کم مانتے ہیں۔ باہم رواداری ہم جانتے نہیں۔ رشوت اور کمیشن لینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ملاؤٹ کرنے سے نہیں کتراتے۔ کم تول کو معمول بنائے ہوئے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جتنے احکامات اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیؐ کے ذریعے ہمیں بھیجے ہیں، ہم ان پر کس حد تک عمل در آمد کرتے ہیں؟ یہ سوچنے کی بات ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1,283 total views, no views today


