جناب اسسٹنٹ کمشنر صاحب تحصیل خوازہ خیلہ!
اُمید ہے کہ ایمان اور صحت کے بہترین حالت میں ہوں گے۔ سب سے پہلے ہم اہل تحصیل خوازہ خیلہ کے تمام شعبہ جات اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ تحصیل خوازہ خیلہ کے اسسٹنٹ کمشنر کی ذمہ داری سنبھالنے پر آپ کو مبارکباد دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں کے عوام کے متعلق کچھ خصوصیات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ نسبتاً زیادہ محب وطن، شریف اور قانون کے رکھوالے ہیں۔ کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ سوات میں کشیدہ صورت حال کے دوران یہاں کے عوام نے پاک فوج اور سیکورٹی اداروں کا ساتھ دے کر ملک دشمن عناصر کو ختم کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے اور یہاں کے لوگ قانون کی پاسداری اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے چلے آرہے ہیں ۔
جناب والا! اتفاقاً خوازہ خیلہ بازارمیں کئی دکانداروں سے ملا، تو انہوں نے موجودہ انتظامیہ سے ڈھیر سارے گلے شکوے کئے جنہیں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’خوازہ خیلہ تحصیل میں جو نیا اسسٹنٹ کمشنر صاحب آیا ہے، وہ ہر دوسرے روز بازار میں دکانوں پر لگاتار’ ’ چھاپے‘‘ لگاتا رہتا ہے جس کے دوران وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں پر معمولی نوعیت کے جرم کی پاداش میں پانچ ہزار سے لیکر آٹھ ہزار روپے تک خطیر رقم کے جرمانے لگاتا ہے اور جرمانہ موقع پر ادا نہ کرنے کی صورت میں جیل بھیجے کا حکم صادر کرتا ہے جو کہ ظلم اور زیادتی ہے۔‘‘ایک دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’صاحب جب میری دکان میں چیک اپ کر رہا تھا، تو دکان میں پڑی خالی بوری سے چوہا نکل کر باہر کی طرف دوڑ پڑا جس پر مجھے پانچ ہزار روپے جرمانہ بھرنا پڑا۔‘‘ اس طرح متعدد دکانداروں نے اپنی فریاد سناتے ہوئے کہا کہ یہاں کے انفراسٹرکچر اور حکومت کی طرف سے دی گئیں سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کے لوگوں ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔
جناب والا! مقامی انتظامیہ اگر واقعی صفائی ستھرائی، پرائس اور کوالٹی کنٹرول کی مد میں ٹھوس اقدامات کرنا چاہتی ہے، تواسے چاہیے کہ مرحلہ وار ان خرابیوں کو ٹھیک کرے، نہ کہ صرف جرمانوں پہ جرمانہ لگانے کی روش کو اپنایا جائے۔ اس ضمن میں میری تجویز ہے کہ پہلے مرحلے میں آگاہی مہم چلائی جائے جس میں پمفلٹ، ریڈیو، اعلانات، دیواروں پر پوسٹر لگاکر اور مختلف پروگرامات منعقد کرکے دکانداروں میں شعور اُجاگر کرنے اورانہیں صفائی، پرائس اور کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے ترغیب دی جائے ۔
دوسرے مرحلے میں جو بھی دکاندار قانون کی پاسداری نہیں کرتا، اسے باقاعدہ وارننگ نوٹس ایشو کیا جائے اور اگر پھر بھی دکاندار باز نہ آئیں، توبے شک انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ لاہور میں حالیہ دنوں میں مختلف ہوٹلز پر چھاپے مارنے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آپریشن ڈائریکٹر ’’عائشہ ممتاز‘‘ بھی یہی طریقہ کار اپنا ئے ہوئی ہے جس کے سب لوگ معترف ہیں۔
جناب والا! یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کئی بار انتظامیہ کی طرف سے چھوٹے اور درمیانے قسم کے تاجروں سے کاروبار کے حوالے سے مختلف قسم کے کاغذات مثلاً دکان کی لائسنس، صحت کارڈ یا میونسپل کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ وغیرہ طلب کیا جاتا ہے۔ یہ کاغذات پاکستان کے قانون کے مطابق تاجروں کو بنوانا پڑتے ہیں لیکن بچارے گاؤں یا قصبوں کے تاجر اس قسم کے کاغذات سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ اگر انتظامیہ واقعی اس کام میں دلچسپی رکھتی ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی ہو اور ہر تاجر کے پاس باقاعدہ مکمل کاغذات اور سرٹیفکٹس موجود ہوں، تو انتظامیہ کو چاہیے کہ چھوٹے، درمیانے یا بڑے درجے کا کاروبار کرنے والوں کیلئے مختلف ورکشاپس اور سیمینار منعقد کراکے انہیں کاروبار کرنے کیلئے مختلف قسم کے کاغذات سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس قسم کے تمام کاغذات بنانے کا طریقہ بھی آسان بنایا جائے۔بلدیاتی اداروں کی بھی اس سلسلے میں ڈھیر ساری ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ انہیں بھی آگاہی کی اس مہم میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔
دکانداروں پر چیک رکھنے کے علاوہ اور بھی ڈھیر ساری ذمہ داریاں انتظامیہ پر عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
خوازہ خیلہ بازار میں ٹریفک جام رہنا اب گویا معمول بن گیا ہے جس کی وجہ بازار میں جگہ جگہ پر غیر قانونی ٹیکسی اسٹینڈز، غیر قانونی اڈے ہے۔ ایک وقت تھا کہ خوازہ خیلہ بازار میں ریڑھی لگانا ایک خواب بن چکا تھا لیکن اب ایک بار پھر سیکڑوں ریڑھی بانوں نے بے خوف و خطر ریڑھیاں لگا رکھی ہیں۔ اس عمل سے ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ گیمن پل کے قریب کئی کرش مشینیں ماحول کو آلود ہ کرنے میں اپنا بھر پور کردار کر رہی ہیں جب کہ ڈائناگاڑیوں کے مالکان کی اوور لوڈ نگ کی وجہ سے کرش اور بجری سڑکوں پر بکھری نظرآتی ہے جو خوازہ خیلہ بازار کی سڑکوں کو خراب کرنے کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بن رہی ہے۔ اس طرح سڑکوں پر کرش پڑنے کی وجہ سے متعدد بار موٹرسائیکل حادثے بھی رونما ہوچکے ہیں ۔
جناب والا ! ہم اہل تحصیل خوازہ خیلہ امید رکھتے ہیں کہ آپ خوازہ خیلہ کی ترقی کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ اگر خط میں کوئی ایسی بات ہو جو آپ کو ناگوار گزری ہو، تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں ۔
(نوٹ:۔ تحصیل خوازہ خیلہ کے اسسٹنٹ کمشنر غلام سید صاحب کا تبادلہ ہونے پر نئے اسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے جس سے یہاں کے عوام بالخصوص بازار کی تاجر برادری شاکی ہے۔ کیونکہ وہ ہر دوسرے روز بازار کا چکر لگا کر دکانداروں کو بھاری بھاری جرمانوں کی پرچیاں تھماتے ہیں۔ اس لیے قلم اٹھاکر مذکورہ اسٹنٹ کمشنرکے نام ایک کھلا خط لکھنا راقم اپنا فرض سمجھتا ہے،راقم)
906 total views, no views today


