سوات میں ملکیت جنگلات کا قضیہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے کہ آیایہاں کے جنگلات حکومت کی ملکیت ہیں یا متعلقہ مالکان اراضی کی ذاتی ملکیت؟ کوہستان کے علاوہ سوات کے دیگر علاقوں میں سولہویں صدی عیسوی میں یوسف زئیوں کی آمد اور قبضہ کے بعدسے متعلقہ جنگلات کی ملکیت کا دعویٰ اور حق ملکیت روایتی طورپہ مالکان دوتر (دفتر) زمینوں کا رہا ہے۔ جب کہ بعض صورتوں میں سیرئ زمینوں کے مالکان کا بھی۔ لہٰذا اس حوالے سے اہم نکتہ ملکیتِ زمین کا ہے، اس لیے کہ ملکیتِ جنگلات بہ راہ راست اس سے نتی ہے۔
سولہویں صدی عیسوی میں سوات پر یوسف زئیوں کا قبضہ ہونے پر انھوں نے یہاں کی زمین بہ حیثیت فاتح آپس میں تقسیم کی۔ تاہم پہاڑ یا خاص جنگلات اگرچہ متعلقہ مالکان اراضی کو دیے گئے، انھیں زمین کی طرح آپس میں تقسیم کرنے کے بہ جائے متعلقہ گاؤں یا علاقے کے دوتر زمین کے شاملات کے طور پہ مشترک رکھا۔ درختوں کی فروخت کا حق ان کو حاصل تھا، جو متعلقہ گاؤ ں یا علاقے یا خیل وغیرہ کی دوتر زمین میں ملکیتی حقوق کے مالک تھے۔ اور ان جنگلات میں موجود بانڈہ جات کی موسمی گھاس پھونس کی فروخت اور اس کی آمدن بھی ان ہی کی تھی۔
چوں کہ جنگلات متعلقہ مالکان زمین کی ملکیت تصور اور تسلیم کیے جاتے تھے، لہٰذا ان معنوں میں یہ سب لوگوں کی مشترکہ ملکیت نہ تھے کہ اس علاقے کے سب لوگوں کو ان میں مالکانہ حقوق حاصل ہوں یا یہ کہ یہ ان کی مشترکہ جائیداد تھے۔ تاہم متعلقہ گاؤں یا علاقے کے ہر باشندہ کو متعلقہ جنگل سے اپنی ضروریات پورا کرنے کی خاطر آزادانہ اور مفت رسائی حاصل تھی۔ مثلاً مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو چرانے اور چارہ لانے کا حق و سہولت، مختلف النوع گھریلو ضروریات اور زرعی اوزاروں کے لیے لکڑی کی کٹائی و حصول، ادویائی جڑی بوٹیوں اورکھمبیوں وغیرہ کا حصول وغیرہ۔
اس طرح یوسف زئیوں کے سوات پر قبضے سے لے کر ریاست سوات کے معرض وجود میں آنے بلکہ باچا صاحب کے دور حکم رانی تک زمین کی ملکیت اور اس واسطے جنگلات (جو کہ متعلقہ غیر پہاڑی زمین کی ملکیت سے جوڑے گئے تھے) کی ملکیت بھی متعلقہ مالکان زمین کی تسلیم کی جاتی رہی۔ تاہم غیر مالکان زمین کو اگرچہ جنگلات کی فروخت اور اس سے حاصل شدہ آمدن میں حصے کا حق حاصل نہیں تھا، وہ اپنی مختلف النوع روزمرہ ضروریات کے لیے متعلقہ جنگلات سے استفادہ کرنے کے مراعات یا حقوق کے حامل تھے۔ اور یہی حال سوات کو ہستان کے توروالی علاقے کا بھی تھا۔
1915ء میں ریاست سوات وجود میں لائی گئی اور 1917ء میں سیّد عبدالجبار شاہ کی معزولی کے بعد میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب کو اس ریاست کا حکم ران بنا یا گیا۔ بہ حیثیت حکم ران اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد باچاصاحب نے منجملہ دوسری چیزوں کے جنگلات کے بندوبست کی طرف توجہ مبذول کی اور جنگلات کی پرائیویٹ یا ذاتی ملکیت کو ختم کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوا۔ اس ضمن میں اس نے لوگوں سے کیے گئے اپنے بعض وعدوں کی پاس داری کا بھی خیا ل نہیں رکھا اور ان کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔
باچا صاحب نے بہ تدریج اقدام کرتے ہوئے ابتدا ء میں دیار کے درختوں کی ریاستی ملکیت کا دعویٰ کیا اور بعد میں سب جنگلات کا۔ تاہم اس یعنی جنگلات کی ریاست سوات کی ملکیت ہونے کی بابت حکم ران اور سابقہ یا متعلقہ مالکان کے مابین کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں تھا۔ بہ ہر حال متعلقہ مالکان اراضی یا سابقہ مالکان جنگلات کو تجارتی مقاصد کے لیے کاٹے گئے درختوں پہ ابتداء میں فی درخت کے حساب سے ایک معین رقم ادا کی جاتی تھی اور بعدمیں تجارتی مقاصد کے لیے فروخت شدہ درختوں سے حاصل شدہ رقم کا دس فی صد انھیں ادا کیا جانے لگا، جسے 1969ء میں ادغا م ریاست سے قبل پندرہ فی صد کیا گیا۔ علاوہ ازیں حقوق یافتہ لوگوں (رائٹ ہولڈرز) کے حقوق اور مراعات یافتہ لوگوں (کنسیشنرز) کے وہ مراعات جاری رہے جو صدیوں سے چلے آرہے تھے۔ پھر بھی ،باوجود اس کے متعلقہ یا سابقہ مالکان اب بھی خود کو ان جنگلات کا مالک تصور کرتے تھے۔ لہٰذا اس بابت جنگلات میں اپنے حصوں کی خرید و فروخت کے سودے جاری رکھے۔
یہی صورت حال میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کے دورحکم رانی (1949ء تا1969ء) میں بھی جاری رہی۔ اس طرح باچا صاحب اور والی صاحب کے دور میں جنگلات کی ملکیت کا معاملہ بین بین یا غیر مبہم رہا۔ یوں ایک جانب ریاست ان کی ملکیت کی دعوے دار تھی، تو دوسری جانب متعلقہ مالکان اراضی یا سابقہ مالکان کو رائلٹی بھی ادا کرتی رہی۔ اور اس طرح ان کے حق ملکیت کو ایک حد تک تسلیم کیا جاتا رہا، اس لیے کہ رائلٹی اصل مالکان کو ہی دی جاتی ہے۔ دوسری طرف ایک جانب متعلقہ مالکان اراضی یا سابقہ مالکان، ان جنگلات کو اب بھی اپنی ملکیت تصور کرتے رہے اور ان میں اپنے حصوں کے سودے جاری رکھے، تو دوسری جانب ان جنگلات کے درختوں سے حاصل شدہ آمدنی میں ریاست سے صرف ایک معمولی حصہ وصول کرتے ہوئے دوسرے لفظوں میں ریاست کے دعویٰ ملکیت کو تسلیم بھی کرتے رہے، چاہے بہ امرمجبوری ہی کیوں نہ ہو۔
آگے بڑھنے سے قبل کالام کے علاقے کا خصوصی ذکر ضروری ہے۔ کالام، اوشو اور اتروڑ کا علاقہ عام طور پہ کالام کہلایا جاتا ہے (اور یہ علاقے بہ شمول اریانئی مجموعی طور پہ گاؤری علاقہ کہلایا جاتا ہے)۔ برطانوی ہند سے 1928ء میں معاہدہ کیے ہوئے، کالام کا علاقہ چودہ اگست 1947 ء تک آزاد رہا۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے خاتمے سے قبل چودہ اور پندرہ اگست 1947ء کی رات کو ریاست سوات نے کالام پر قبضہ کیا۔ تاہم حکومت پاکستان نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
کالام بارے ریاست سوات اور حکومت پاکستان کے مابین اختلاف و چپقلش جاری رہی جو کہ بارہ فروری 1954ء کو والی صاحب اور حکومت پاکستان کے مابین ایک معاہدہ ’’ایگری منٹ ریگارڈنگ ایڈمنسٹریشن آف سوات کوہستان (ٹرکٹس آف کالام، اوشو اینڈ اوٹروٹ[اتروڑ]) ‘‘ پہ منتج ہوا۔ اس معاہدے کے تحت حکم ران ریاست سوات نے کالام کو وفاقِ پاکستان میں شامل قبائلی علاقہ جات کا حصہ تسلیم کیا اور حکومت پاکستان نے اسے منتظم (ایڈ منسٹریٹر) کے نام سے کالام کے انتظام و انصرام کے لیے اپنا نمائندہ (ایجنٹ) مقرر کیا جو کہ حکومت پاکستان کی خاطر اس علاقے کا انتظام چلائے گا۔
ریاست سوات کے قبضے تک اس علاقے کے جنگلات کی ملکیت یہاں کے متعلقہ لوگوں کی تھی اور وہ ان سے حاصل شدہ تمام آمدن وصول کرکے متعلقہ علاقے کے رواج کے مطابق تقسیم کرتے تھے۔ ریاست سوات کے قبضے کے بعد حکم ران ریاست سوات، کالام کے جنگلات کو بھی ریاست سوات والے ضوابط کے تحت لے آیا۔ تاہم حکومت پاکستان نہ صرف سوات کے قبضے کو تسلیم نہیں کر رہا تھا بلکہ اب بھی کالام کے متعلقہ لوگوں کو یہاں کے جنگلات کا اصل مالک تسلیم کرتارہاتھا۔
بارہ فروری 1954ء کو حکم ران ریاست سوات اور پاکستان کے مابین کیا گیا معاہدہ، کالام کے جنگلات کی ملکیت کے متعلق خاموش ہے۔ تکنیکی لحاظ سے چوں کہ یہ علاقہ ریاست سوات کا حصہ نہیں رہا، لہٰذا ریاست سوات کا یہاں کے جنگلات کی ملکیت کا دعویٰ بھی نہیں رہا۔ لیکن اس حق ملکیت کو ریاست سوات سے حکومت پاکستان یا صوبائی حکومت کو منتقل بھی نہیں کیا گیا۔ تاہم متعلقہ مالکان اراضی یا سابقہ مالکان اب بھی ان جنگلات کے درختوں سے حاصل شدہ آمدن کا دس فی صد وصول کرتے رہے۔ جب کہ باقی نوے فی صدآمدن کالام کے خزانے میں جمع ہوتی، جسے وہاں کی ترقی، انتظامی اخراجات اور مَلَکوں کے مواجب پہ خرچ کیا جاتا تھا۔ اس طرح 1947ء کے بعد کالام کے ضمن میں بھی صورت حال ریاست سوات والے علاقوں کی بابت اوپر ذکر شدہ حال کے مماثل ہے جس کی وجہ سے جنگلات کی ملکیت کی حیثیت برابر برابر (ففٹی ففٹی) بن جاتی ہے۔
1969ء میں ریاست سوات کو ختم کیا گیا، لیکن ریاست کے ضوابط بغیرکسی تبدیلی کے برقرار رکھے گئے۔ اور صوبائی حکومت نے بھی ملکیت جنگلات سے متعلق مذکورہ بالا حیثیت وصورت حال کو جوں کے توں برقرار رکھا۔ اکتوبر 1970ء میں صوبائی حکومت نے ’’دیر سوات لینڈ ڈیسپیوٹس انکوائری کمیشن‘‘ کے نام سے ایک کمیشن تشکیل دیا۔ اس کمیشن کا غرض و غایت دیر اور سوات میں اراضی سے متعلق موجود مسئلے اور اس کی نوعیت و شدت کی تحقیق اور تعین کرنا تھا۔ خاص کر سابقہ حکم رانِ ریاست اور بے دخل کیے گئے دعوے دارانِ ملکیت اور مالکانِ زمین اور کاشت کاروں و پٹہ داروں کے مابین تنازعات کے حوالے سے۔ چھے جنوری 1971ء کو ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے اس کمیشن کے ذمے داریوں میں اضافہ کیا گیا، جن میں سے ایک اس کا تعین کرنا بھی تھا کہ کون سی جائیداد ریاست سوات اور کون سی سابقہ حکم ران میاں گل عبدالودود باچا صاحب کی ذاتی تھی۔
کمیشن نے کام مکمل کرکے رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ اس رپورٹ اور اس کی سفارشات کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ کی خاطر گیارہ اپریل 1972ء کو مارشل لاء ریگولیشن نمبر 122 آف 1972ء اور مارشل لاء ریگولیشن نمبر 123 آف 1972ء جاری کیے گئے۔ ان میں سے مارشل لاء ریگولیشن نمبر 122 کی غرض و غایت سابقہ حکم رانِ ریاست کا بہ حیثیت حکم ران رکھی ہوئی جائیداد کا صوبائی حکومت کو ورثہ میں تفویض کرنے کا اعلان کرنا تھا۔ لہٰذ ا پندرہ ستمبر 1972 ء کو صوبائی حکومت کے جاری کیے گئے نو ٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ مارشل لاء ریگولیشن نمبر 122 کے پیرا گراف 3 کے کلاز (a) اور دیر سوات لینڈ ڈ یسپیوٹس انکوائری کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر، اور صدر کی ہدایت کے مطابق، اس صوبے کا گورنر خوشی سے یہ حکم صادر کر تا ہے کہ اس حکم کے شیڈول کے کالم 2 میں متعین شدہ اورمزید تخصیص کی خاطر مذکورہ شیڈول کے کالم 3 میں متعین شدہ فیصلے میں ذکر شدہ، جائیداد سابقہ ریاست سوات کی ریاستی ملکیت ہوگی۔ اور ان کی آمدن کے پندرہ فی صد کا مقامی مالکان حقوق (رائٹ ہو لڈرز) کو بہ طور رائلٹی کی ادائیگی سے مشروط سابقہ ریاست سوات میں واقع سارے جنگلات ریاست کی ملکیت ہوں گے۔ (جاری ہے)
2,270 total views, no views today


