محمد شیر جان سینا خیل
ورک بک کی پہلی تصویر میں نہر کے اوپر ایک تنگ پل دکھایا گیا ہے جس پر دو بکریاں مخالف سمتوں سے آرہی ہیں۔ دوسری تصویر میں ایک بکری پل پر لیٹ کر دوسری اسکے اوپر گزرہی ہے ۔ تیسری تصویر میں لیٹی ہوئی بکری اٹھ کر پل پر سے گزرگئی ہے۔بچے تصاویر کی مدد سے کہانی آگے بڑھا رہے تھے اور میں ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی کر رہا تھا۔ کہانی مکمل ہوگئی، تو ایک بچے نے توجہ دلوائی کہ سر جی! اگر اس طرح گزشتہ سال دو فلائنگ کوچز اپنی باری کا انتظار کرتیں، تو پیدل جانے والی چھوٹی بچی پل سے نہیں گرتی۔ہونہار بچے نے مجھے پچھلے سال کا واقعہ یاد دلایا جو ’’شہدائے گوالیرئ پل‘‘ پر اس وقت پیش آیا جب دو فلاینگ کوچز مخالف سمتوں سے آکر پل پار کر رہی تھیں اور عین اسی وقت دو بچیاں بھی پل پر سے گزر رہی تھیں۔ دونوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں سے کسی نے بھی بچیوں کی پروا نہیں کی اور یوں تنگ پل میں دونوں گاڑیوں کی کراسنگ کے دوران دو بچوں میں سے ایک تقریباً دو سو فٹ نیچے نہر (خوڑ) میں گر گئی۔ آب ودانہ باقی ہونے کی وجہ سے بچی کی موت تو واقع نہیں ہوئی لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئی جس سے موت بدرجہا بہتر ہے۔
قارئین کرام! پلِ مذکورہ 2010ء کے سیلاب میں بہ جانے والے والئی سوات کے پل کا وارث ہے جو ’’یو کے‘‘ کے تعاون سے خیبر پختون خواہ کے ادارے ’’فلڈ ڈمیج ریلیف پراجیکٹ‘‘ کے زیر نگرانی پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ ’’شہدائے گوالیرئ پل‘‘ دو علاقوں شامیزئ اور سبوجنی کو آپس میں ملانے والا واحد پل ہے جس پر ٹریفک کی حالت یہ ہے کہ ہر دو سیکنڈ بعد ایک گاڑی اس پر گزرتی ہے۔ پل کی چوڑائی کا یہ حال ہے کہ دو چھوٹی گاڑیاں بمشکل اس پر بیک وقت گزر سکتی ہیں جبکہ پیدل جانے والوں کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔
پلِ مذکورہ شرقاً غرباً واقع ہے، دونوں طرف سے آبادی میں گھرا ہواہے۔ اس کے مشرق کی طرف لابٹ اور ٹانگار کے گاؤں ہیں، ایک پرائیویٹ اور ایک گوررنمنٹ ہائی اسکول ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے الگ الگ پرائمری اسکول ہیں۔ ساتھ ہی مختلف اشیائے ضروریہ کی دکانیں اور ہوٹل وغیرہ ہیں۔ مغرب کی طرف گوالیرئ گاؤں، لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ایک ہائی اسکول، ایک بی ایچ یو، ایک پولیس چوکی اور ایک بنک کے علاوہ گوالیرئ چوک کا ایک بڑا بازار ہے ۔پل کے دونوں اطراف اسکول ہونے کی وجہ سے صبح اور دوپہر پیدل چلنے والوں کا بہت رش ہوتا ہے، جس میں بچوں اور بچیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ اگر اس رفتار سے آبادی بڑھتی گئی، تو لوگ بہت جلد لکڑی کا الگ پل بنانے کے لئے گوالیرئ بازارمیں (اگر انھیں توفیق نصیب ہوئی، تو) چندہ کرکے اپنی مدد آپ کے تحت لکڑی کا ایک الگ پل لگائیں گے۔ بقول اقبال
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
سروے کرنے والا تو آئندہ سو سال کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ حالانکہ اگر ’’سروائر‘‘ پل مذکورہ کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتا، تو بھی وہ پیدل راستے کی ضرورت محسوس کرتا۔ سروے کے دوران پیدل راستے کو نظر انداز کرنا باعث تعجب ہے۔ اس ضمن میں ایک لطیفہ یاد آرہاہے کہ ایک مریض ڈاکٹر کے پاس لایا گیا۔ ڈاکٹر نے مردہ قرار دے کر مریض کے علاج سے انکار کردیا۔ جب لوگ اسے چار پائی میں اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے، تو مریض نے سر اٹھا کر پوچھا: ’’آپ لوگ مجھے کہاں لے جارہے ہیں ؟میں تو زندہ ہوں۔‘‘ مجمع میں سے ایک نے ڈانٹا کہ چپ ہو جاؤ بے وقوف! تم کب کے مرچکے ہو،ڈاکٹر زیادہ جانتا ہے یا تم؟‘‘
شائد ’’سروائر‘‘ ٹھیک ہو، کیونکہ وہ اپنی فیلڈ میں زیادہ معلومات رکھتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ (واللہ اعلم)
800 total views, no views today


