ایک بات کا بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جیسے سوات میں وقت تھم گیا ہو، جیسے کچھ بھی نہیں ہورہا ہو۔ کوئی رفتار نہیں۔ کوئی تبدیلی نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں بن پا رہا۔ ترقی کا کوئی نام و نشان نہیں۔ نہ جانے سوات کے لوگوں نے کیا گناہ کیا ہے؟ کونسا جرم ہم سے سرزد ہوا ہے؟ جس کی پاداش میں ہم پر نجانے کیا کیا ستم (کھلے اور چھپے) ڈھائے گئے۔ قسما قسم تکالیف ہم نے اُٹھائیں۔ وہ کونسا ڈرامہ ہے جو ہمارے ساتھ نہیں کیا گیا ہے؟ وہ کونسا دُکھ ہے جس کا سامنا ہم نے نہیں کیا ہے؟ ایسے اوقات بھی ہم پر آئے جو کسی بھی طرح قیامت اور محشر سے کم نہیں تھے۔ وہ بھی ایک وقت تھا جب سوات میں پھولوں، خوشبوؤں کی جگہ بارود کی حکمرانی تھی۔ دن دھاڑے سب کچھ اُڑایا جاتا۔ کیا اسکول، کیا ہسپتال، کیا سڑک، کیا پل اور راستے سب کچھ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا تھا۔ کوئی کچھ سمجھ سکا اور نہ کچھ کرسکا۔ سوات کی خوبصورت سرزمین اپنے سوات کے باسیوں پر تنگ ہونے لگی۔ وہ بھی کیا عجیب سماں تھا کہ اہل سوات اپنی آرزؤوں، حسرتوں، ارمانوں کا جنازہ اپنے کندھوں پر ڈال کر در بہ در ہوگئے۔ اپنی ہی سرزمین سے بے دخل ہوگئے۔ گھر اُجڑ ہوگئے۔ گلیاں ویران ہوگئیں۔ کھیت کھلیان بنجر ہوگئے۔ بہت کچھ کرنے کی خواہش کے باوجود بھی ہم کچھ نہ کرسکے۔ وہ اہل سوات وقت کے جبر اور حالات کے رحم و کرم پر تھے جو کبھی صاحب جائیداد اور وقت کے بادشاہ تھے۔ در در کی ٹھوکریں کھانے اور خاک چھاننے کے بعد ڈھیر ساری اُمیدوں کے ساتھ جب واپسی ہوگئی، تو آنکھوں میں بے بسی کے آنسوؤں کے ساتھ اُمیدوں اور آرزوؤں کے دیئے بھی روشن تھے کہ اب سوات اور اہل سوات کے تمام دکھوں، غموں، زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ کھیت کھلیان دوبارہ جھوم اٹھیں گے۔ اسکول اور کالج آباد ہوجائیں گے۔ نئے راستے، نئی سڑکیں بن جائیں گی۔ ظلم اور بے انصافی نہیں ہوگی۔ میرٹ پر سب فیصلے ہوں گے۔ جج انصاف کریں گے۔ وکیل انصاف دلائیں گے۔ تھانے، پولیس اسٹیشن امن و صلح کے پیامبر ہوں گے اور پولیس ہمدرد، معاون اور مدد گار ہوگی، لیکن افسوس، ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ حالات جو اُس قیامت سے پہلے تھے، اس سے بدتر صورت میں اب دیکھے جاسکتے ہیں۔ کسی نے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ کوئی نہیں سدھرا۔ خود کوئی بدلا اور نہ حالات کو بدلنے کی ہی سعی کی گئی۔ تبدیلی کے نام پر آنے والوں نے صرف تبدیلی کے معنی تبدیل کردیئے۔ صبر، برداشت، محبت، صداقت، ہمت اور محنت کے نام ناپید ہوگئے۔ نفرت، انتقام، لالچ، خود غرضی، کام چوری، فریب، جھوٹ اور دھوکہ دہی ہر طرف راج کر رہی ہے۔ اعتماد اور بھروسے کا خون ہورہا ہے۔ حکام کو ہوش آیا نہ بر سر اقتدار طبقہ ہی انصاف کا دامن تھام سکا۔ عوام سمجھ سکے نہ دانشور ہی جاگے،شاعر نغمے بکھیر سکے نہ دھرتی کروٹ لے سکی۔ شاعرانہ ادبی طرز و مزاج میں بات کرنا یا اشاروں، کنایوں میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنا اگرچہ ایک کمال سہی، اگر کوئی وہ زبان سمجھ سکے تو، اگر سمجھ نہ آئے تو سمجھنے والے اناڑی ہوتے ہیں، سمجھانے والے مجبور محض ہوتے ہیں۔ ضلع سوات میں وقت رُک گیا ہے۔ ایسا نہیں لگ رہا کہ ہم قیامت سے گزرے ہوئے ہیں۔ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ ہم خون کا ساگر پار کرچکے ہیں۔ احساس، ضمیر، خود داری اور حالات کے جبر سے چور چور ہوچکے ہیں۔ اب کیا کریں؟ کس سے کس طرح اور کس زبان میں یہ پوچھیں کہ بھائی صاحب، یہ سڑکیں کب بنیں گی؟ گلیاں کوچے کب آباد ہوں گے؟ اسکول و کالج کب اپنی صحیح حالت میں تعمیر ہوں گے؟ یہ ایکسلشئر کالج منگلور کی تعمیر میں کیوں تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے؟ اس منگلور بنجوٹ بائی پاس روڈ کا کیا بنا؟ اچانک اس کی تعمیر کیوں بند ہوگئی؟ وہ بیس دن میں تعمیری کام مکمل کرنے کا وعدہ کہاں گیا؟ منگلور پل اور منگلور اڈے کی روڈ کا کیا بنا؟ یہ مینگورہ میں کمیٹی کی بلڈنگ کی تعمیر کس رفتار سے جاری ہے؟ سیدو ہسپتال کی توسیعی آبادی کا کام کب ختم ہوگا؟ سنٹر ہسپتال کے اندر عربوں کا بنایا ہوا ہسپتال کب کھولا جائے گا؟ منگلور سے شنگرئ تک روڈ پر کام کب شروع ہوگا؟ منگلور میں گرلز کالج کا قیام کب عمل میں آئے گا؟ ہائی اسکول منگلور میں انٹرمیڈیٹ کلاسوں کا اجرا کب ہوگا؟ پورے ضلع سوات میں پرائمری اسکولوں، ہائی اسکولوں، کالجوں اور تمام درسگاہوں میں مختلف بنیادی سہولیات کب مہیا کی جائیں گی؟ ہماری صوبائی حکومت کے اَن داتا ’’تخت لاہور‘‘ کا پیچھا چھوڑ کر غریب، ویران پشاور میں کب بیٹھیں گے؟ ہمارے حالات کا پرسان کب ہوگا؟ ان وعدوں کا تکرار کب ختم ہوگا؟ تھوڑا سا عملی کردار کب شروع گا؟ کیا اُمید کی کرنیں ظلمتوں میں کھوگئیں؟ اگر نہیں، تو تھوڑی بہت روشنی تو ضرور ہونی چاہئے اس گٹر کی طویل سرنگ سے باہر نکلنے کے لیے۔
640 total views, no views today


