دنیا کی تاریخ میں قدیم اور تاریخی مقامات کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا بھر میں قدیم اور تاریخی مقامات کی حفاظت کیلئے بھر پور اقدامات کئے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ بنانے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ایسی ہستیوں کی بنائی ہوئی جگہیں ہوتی ہیں جو اپنے کارناموں اور تاریخی واقعات کی بدولت نامور ہوتے ہیں۔ اس طرح کی قدیم اور تاریخی مقامات ہزاروں کی تعداد میں پاکستان میں بھی موجود ہیں لیکن افسوس کہ ان کی حفاظت کیلئے کچھ خاص اقدامات نہیں کئے جاتے۔ کیونکہ حکمران بدعنوانی اور غفلت کے اس قدر اسیر ہیں کہ ان کو کسی اور کام کا ہوش تک نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قدیم تر عمارتیں صرف چند سو کی تعداد میں باقی رہ گئی ہیں۔ایسی عمارتیں سوات میں بھی کافی تعداد مو جود میں موجود تھیں جو ریاست سوات کی یادگار کے طور پر تھیں۔ان عمارتوں کی بناؤٹ اور خوبصورتی کو دیکھ کر دیکھنے والے دنگ رہ جاتے، جو سیاح سوات آتے اور وہ ان قدیم عمارتوں کی سیر نہ کرتے، تو ان کی سیر ادھوری سمجھی جاتی۔ مقام افسوس ہے کہ پچھلے چند سالوں سے ریاست سوات کی ان اہم نشانیوں کو ایک منظم پروگرام کے تحت ختم کیا گیا۔ چند برس پہلے سیدو شریف میں واقع قدیم اور ریاست سوات کی اہم ترین عمارت ودودیہ اسکول کو گرایا گیا۔ اہل سوات نے اس ظلم پر زبردست احتجاج کیا تھا مگر اس کا بھی نتیجہ نقار خانے میں توتی کی آواز کے مصداق ہی نکلا تھا۔ اُس دور میں مقامی لیڈر شپ نے اس ظلم کو روکنے کی بجائے الٹا عمارت ڈھانے والوں کے ہاتھ ہی مظبوط کئے۔ عمارت مسمار کرنے والوں کے لئے تو وہ ایک عام سی عمارت تھی تھا لیکن اس سے ریاستی دور کی زبردست یادیں وابستہ تھیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ودویہ اسکول کی تاریخی عمارت کی شہادت پر سوات کے عوام سے معافی مانگی جاتی، مگر اب تو (ماشاء اللہ) ایک اور قدیم اور ریاست کی اہم نشانی جہانزیب کالج کو گرانے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ چھبیس اکتوبر کو حالیہ ہولناک زلزلے نے اس عمارت کو نقصان پہنچایا تھا لیکن اسے گرانے والے بے خبر ہیں کہ یہ صرف عمارت نہیں بلکہ یہاں کے عوام اور سوات کیلئے ان کے ریاستی دور کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ یہ یوسف زئی ریاست کے پہلے کالج کی عمارت ہے۔ ایک دور تھا جب اسلامیہ کالج پشاور کے بعد اس عمارت میں ملک بھر سے طلبہ اپنی علمی پیاس بھجانے آتے تھے۔ اس عمارت سے اچھے اچھے لیڈر، ڈاکٹر، انجینئر اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ فارغ ہوئے ہیں اور اب وہ ملک کا نظام چلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تریسٹھ سالہ اس قدیم اور تاریخی عمارت کو شہید کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ اس سے بڑھ کر حیرانی سوات کے مقامی لیڈر شپ پر ہوتی ہے کہ وہ کیوں ہر بار اس قسم کے ظلم پر خاموشی اختیار کرتے ہیں؟ زیادہ دکھ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ بہت ہی کم کالم نگار اور صحافی حضرات اس پر لکھتے اور بولتے ہیں۔ معلوم نہیں یا تو ان کو کسی کا خوف ہے یا پھر اس پر بحث کرنے کو لازمی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر سو سالہ قدیم اسلامیہ کالج کی عمارت اپنی اسی شان سے قائم رہ سکتی ہے، تو جہانزیب کالج کی کیوں نہیں رہ سکتی؟ خدا نہ کرے اگر اس کو گرایا گیا، تو اس کی جگہ اعلیٰ معیار کی عمارت کھڑی کر دی جائے گی لیکن وہ یادیں وہ نشانیاں ہمیشہ کیلئے مٹ جائیں گی جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ اس کے گرانے کی باتوں کو چھوڑ کر اس کی مرمت پر توجہ دے اور اس تاریخی عمارت کی بحالی بارے اقدامات کرے۔یہ تب ممکن ہے جب اسے بلا تاخیر ’’ثقافتی ورثہ‘‘ قرار دیا جائے۔ اگر اس عمارت کو گرایا گیا، تو آہستہ آہستہ ریاست کی تمام باقی ماندہ اہم عمارتوں کو بھی مسمار کر دیا جائے گا۔اس اہم ترین ایشو پر عوام کی خاموشی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہی وقت ہے کہ عوام اس بحث کو سنجیدگی سے لیں اور اس عمارت کو گرانے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکمرانوں کو جگائیں اور انہیں احساس دلائیں کہ ہم اپنی تاریخ کا بہ ہر صورت دفاع کریں گے۔ جس درخت کی جڑیں نہیں ہوتیں، وہ سوکھ کر کٹنے کے لائق ہوجاتا ہے۔ اس طرح جس قوم کی تاریخ نہیں ہوتی، وہ بھی زندہ درگور ہوجاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانزیب کالج کی عمارت کو گرانے میں چند افراد کا فائدہ ہے۔ اس کو گرانے کے بعد اس کی قیمتی اینٹیں، سریا، قیمتی لکڑی یہ خواب دیکھتے ہی کئی شیخ چلیوں کے منھ سے رال ٹپک رہی ہے، مگر وہ نہیں جانتے کہ ودودیہ اسکول کی طرح جہانزیب کالج کی عمارت پر صرف احتجاج سے کام نہیں لیا جائے گا۔ اس ضمن میں مسرت احمد زیب اور شہزادہ شہر یار امیر زیب کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اہل سوات اس حوالے سے ان کی طاقت بنیں گے۔
758 total views, no views today


