چھبیس اکتوبر کو آنے والے زلزلے نے خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے علاقوں کو پہنچا جن میں سوات بھی شامل ہے۔ سوات میں ضلعی انتظامیہ کے سروے کے مطابق زلزلے میں چونتیس افراد جاں بحق دو سو ترپن زخمی اور تین ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سوات کے متاثرین زلزلہ کی داد رسی کے لئے فوری طورپر پی ٹی آئی کے سربراہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک اور دیگر اعلیٰ حکام نے سوات کا دورہ کیا۔ اس طرح وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بھی متاثرین کی داد رسی کیلئے سوات کا دورہ کیا اور متاثرین کو ہرقسم کی امداد دینے کے احکامات جاری کئے۔ زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے حکومت نے فوری طورپر معاوضہ تین لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مکینوں کے لئے دولاکھ روپے اور جزوی متاثرہ گھروں کیلئے ایک لاکھ روپے دینے کے اعلانات کئے گئے۔ اس طرح زلزلہ متاثرین کے لئے بڑی تعداد میں ٹینٹوں اور اشیائے خور و نوش کا بھی اعلان ہوا۔ سرکاری مشینری حرکت میں آئی اور زلزلہ زدگان کی امداد کا سلسلہ شروع ہوا۔ صوبائی و مرکزی حکومتوں نے متاثرین کے لئے بیرونی امداد کی پیشکش کو ٹھکرایا اور خود تمام متاثرین کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مقامی طورپر کئی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی متاثرین میں امدادی اشیا کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا۔ حکومتی اداروں کی طرف سے جاں بحق اور زخمیوں میں چیکوں کی تقسیم شروع ہوئی۔ زیادہ تر متاثرین میں چیک تقسیم بھی ہوئے جن میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ دوسری طرف عمارات کے مکمل یا جزوی نقصانات کے سروے کے لئے کمیٹی بنائی گئی، اس میں علاقے کے تحصیل یا ضلعی کونسلر، پاک آرمی کا نمائندہ، مقامی پٹواری اور ایک علاقے کی معزز شخصیت کو مقررکیا گیا۔ سوات کے مختلف علاقوں میں متاثرین زلزلہ کو مکانات کے لئے دیئے جانے والے امدادی چیکوں میں اقربا پروری کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور غیر مستحق افراد کو نوازنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں تحصیل مٹہ، بریکوٹ، چار باغ اور کبل کے علاقوں میں متاثرین نے باقاعدہ طور پر احتجاج بھی کیا ہے۔ متاثرین کا کہناہے کہ سروے میں کئی تباہ شدہ مکانات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس طرح ڈھیر سارے لوگ جن کے گھر وں کو نقصان نہیں پہنچا ہے، ان کو امدادی دودو لاکھ کے چیک سیاسی اثر و سوخ یا اقربارپروری کی بنیاد پر دیئے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے بڑی بدعنوانی بریکوٹ کے علاقے میں اس وقت سامنے آئی جب برسراقتدار پارٹی کے ایک ضلعی کونسلر نے اپنے ہی خاندان کے چارافراد کو دو دو لاکھ کے چار چیک دئیے۔ میڈیا میں خبر آنے پر ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور فوری طور پر ا ن لوگوں سے چیک واپس لے کر اس علاقے کے پٹواری کو معطل کیاگیا، مگربات یہاں تک آکر ختم نہیں ہوئی۔ بحرین کے علاقے میں گیارہ مزید اس طرح افراد میں دولاکھ روپے کے تقسیم شدہ امدادی چیک غیر مستحق افراد سے واپس لئے جاچکے ہیں۔ دریں اثناء منگلور، کبل، چار باغ اور دیگر علاقوں سے بھی غیر مستحق افراد کو چیک جاری کرنے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں تحصیل مٹہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ زیادہ تر حقیقی متاثرہ افراد اس وجہ سے امداد سے محروم ہیں کہ وہ اپنے گھروں کی بحالی او بچاکھچا سامان اکھٹا کرنے میں مصروف تھے اور جن لوگوں کے نقصانات نہیں ہوئے تھے، انہوں نے اپنے ناموں کا اندارج کیا تھا۔ اسطرح کئی لوگ جوکہ دور دراز علاقوں کے مکین ہیں اور ناخواندہ ہیں، ان کو اپنے نقصانات کے اندارج کا کوئی علم ہی نہیں تھا۔ اب وہ سب امداد سے محروم ہیں اور آنے والے سخت سرد موسم کے لئے تشویش کا شکار ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اراکین دعوے کررہے ہیں کہ سروے کو شفاف بنانے کے لئے سروے ٹیمیں بذات خود ان علاقوں کا دورہ کرتی ہیں اور جہاں کہیں ان کوشک ہو، وہاں کی تصاویر بھی لی جاتی ہیں مگر موصول شدہ شکایات سے معلوم ہو رہاہے کہ سروے میں بدعنوانی عروج پر ہے اور کئی علاقوں میں سروے سرے سے حقیقی نمائندوں نے کی ہی نہیں بلکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور سنی سنائی باتوں یا علاقے کے مشر کے مشورے پر سروے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان متاثرہ لوگوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کو یہ تک معلوم نہ تھاکہ ان کے نام بھی متاثرہ لوگوں میں شامل ہیں اور ان کو دو دو لاکھ کے چیک گھروں تک پہنچائے گئے ہیں۔ ان میں کئی ایمان دار لوگوں نے یاتو متاثرہ لوگوں کی فہرست سے اپنے نام نکلوادیئے یا پھر چیک ہی واپس کردیئے۔ اسطرح زیادہ تر لوگ پٹواریوں سے شکایت کررہے ہیں کہ انہوں نے اقرباپروری کی انتہاکی ہے اور زیادہ تر چیک اور امداد غیر مستحق لوگوں کو دی گئی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کئی لالچی اور خود غرض لوگوں نے اس آفت کی گھڑی میں اپنوں کی مددکے بجائے اپنے ٹھیک ٹھاک گھروں تک کو مسمار کیا اور ان کو زلزلہ سے متاثر ہونے والی عمارتوں میں لکھ ڈالا۔ زلزلے اللہ تعالی کی طرف سے انسانوں کے لئے ایک طرح سے تنبیہ ہے۔ مصیبت سب پرایک جیسی ہی آتی ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ لوگوں کی مدد کرے بلکہ صاحب ثروت لوگوں کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں اور ان کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
حالیہ زلزلے میں اگر ایک طرف حکومت کی نااہلی، سرکاری اہلکاروں کی اقربا پروری سامنے آئی ہے، تو دوسری طرف خود غرض اور لالچی لوگ بھی سامنے آئے ہیں۔ کئی علاقوں میں ان لالچی لوگوں کو سخت شرمندگی کا سامنابھی کرنا پڑا ہے مگر سب سے بڑی ذمہ داری حکومتی اہلکاروں کی بنتی ہے کہ وہ سروے کا عمل شفاف بنائیں، متاثرہ لوگوں کی امداد کریں تاکہ ان کی تکلیف کم ہوجائے اور حکومتی امداد مستحق لوگوں تک پہنچ جائے۔ ہمارے ہاں عام طورپر حکومتی امداد کو ’’شیر مادر‘‘ سمجھ کر ہڑپ کیا جاتا ہے، مگر بحیثیت مسلمان اور انسان ہم سب کا فرض ہے کہ مستحق افراد کی حق تلفی نہ کریں۔ ایک ذات ہے جوسب کچھ دیکھ رہی ہے اور اس کی پکڑبہت سخت ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔
822 total views, no views today


