بونیر، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مقتدر قوتیں ملک میں سیکولر سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔اور مدارس پر چھاپے مار کر انہیں دہشتگرد قراردیتے ہیں۔جی ایچ کی۸،کامرا ائیر بیس،پشاور ائیر بیس پر جب حملے ہوتے ہیں۔تو ہم مذمت کرلیتے ہیں۔مگر اس کے باوجود ہمارے مدارس میں پڑھنے والے 8اور 10سالہ بچوں پر بمباری ہوتی ہے۔ان کی کوئی مذمت نہیں کرتے ہیں۔ہمارے حکمران یورپ کی پیروی اور امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔اور جب نائن الیون ہوا تو ہم نے احتجاج کیا تھا۔آج پیرس واقع آیا ہم مذمت کرتے ہیں۔مگر دوسروں کے گھروں کو آگ لگانے والے کس طرح بچ سکتے ہیں۔لیبیا اور افغانستان کو جلانے والے خود کہاں بچ جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالگ گراونڈ سواڑی بونیر میں جمیعت علماء اسلام بونیر کے زیراہتمام محمود غزنوی کانفرنس کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آج جمیعت علماء اسلام یہ بات کرتے ہیں۔کہ ہم آزاد پاکستان بنائیں گے۔جو مغربی قوتوں کی سامراجی اور امریکہ کے غلامی سے آزاد ہوگا۔وہ آزاد پاکستان جس کا پارلمنٹ اور ادارے آزاد ہونگے۔تاکہ وہ اپنے پالیسیاں امریکہ کی مفاد کیلئے نہیں بلکہ اپنے ملک کے عوام کے مفاد کیلئے بنائیں گے۔آج اگر ہم دیکھے تو ہمارے تعلیمی نصاب سے انبیاء اور اصحابہ کے مضامین ہٹا کر نلسن منڈیلا اور دیگر غیر وں کے مضامین شامل کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدارس کیخلاف جو سازش ہورہی ہے۔اس سٹیج سے خبردار کراتوں ہوں جس میں جتنا بھی دم ہو۔کسی کے باپ بھی مدارس بند نہیں کر سکتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ اس ملک کے طرف کسی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھاتو یہ پگڑی والے قربانی دیکر ملک کو بچائیں گے۔کیونکہ ڈی چوک میں ناچنے والے نہ تو ملک بچا سکتے ہیں اور نہ اس کا دفاع کر سکتے ہیں۔کیونکہ ان پگڑیوں والا کو اپنی تاریخ میں محمود غزنوی ،تورنگزو بابا،شاہ ولی اللہ،سیدو بابا،اور بونیر کے سرزمین پر پیربابا یاد ہیں۔جبکہ دیگر غیر مذہبی قوتوں کو امریکہ اور مغربی سامراج اور تہذیب یاد رہتے ہیں۔ان کے علاوہ جلسہ عام سے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالغفور حیدری،سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی،شجاع الملک،مفتی فضل غفور،استقبال خان،سردار علی خان اور مولانا سعید الرحمن مفکر نے بھی خطاب کیا۔
892 total views, no views today


