بریکوٹ ، جو قومیں اپنے ثقافت اور زبان کی پاسداری نہیں کرتے وہ قومیں مٹ جاتے ہیں ‘ پختو ن قوم کی بقاء کی اصل جنگ ہمارے شعراء اور ادیب کررہے ہیں ‘ ہمارے قوم کے سوئے ہوئے لوگوں کو صرف ہمارے شعراء ہی جگا سکتے ہیں ‘ پوری دنیا میں اس وقت اٹھ کروڑ پختون مختلف ممالک میں آباد ہیں لیکن آج ہمارے اپنے صوبے میں تعلیم پشتوزبان میں نہیں ‘ سابقہ حکومت نے نو یونیورسٹیاں بنائی ہیں ‘ ایف اے تک تعلیم مفت کرنے کی بل منظور کی ‘ ہمارے دور حکومت میں ہم نے پختونخواہ کی تمام علاقائی زبانوں کو پرائمری تعلیم تک لازمی قراردی تھی ‘ تمام کتابیں بھی تیار ہیں مگر موجود ہ حکومت اس قوم کی حکومت نہیں ‘ ان خیالات کا اظہار سابقہ صوبائی وزیر جنگلات واجد علی خان ، اے این پی ضلع سوات کے صدر شیر شاہ خان ، ابراہیم دیولئی ،اقبال شاکر،پروفیسر محمد نواز ، محمد حنیف قیس ، ظفر علی ناز ، نسیم علی نسیم ، سمیع اللہ گران ، عبد العلی اشنا ، شمس اقبال شمس ، فضل باچا ملنگے، بختیار خان ،ہاشم علی خان اور دیگر شعراء نے ممتاز شاعر نصیب زادہ تنہا کے کتاب ’’دہ زڑہ دہ درد ہ می نعرے کڑی ‘‘کی تقریب رونمائی فیاض خان گورتئی کے ہجرے میں ایک بڑے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ‘ اس موقع پر مقررین نے نصیب ذادہ تنہا کی کتاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جامع کتاب ہے اور اسمیں معاشرے کے تمام پہلوں کوشاعرانہ اندازمیں اجا گر کیا گیا ہے اور خاص کر پختون قوم کو باچا خان باباکے راستے پر چلنے کر ترجیح دی گئی انہوں نے مزید کہا کہ پختون قوم میں شعراء اور ادیب ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ اور یہ لوگ قوم اور زبان کی خدمت ایک اچھے انداز میں کرتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے پختون قوم نے اج تک اپنے قومی پارٹی کو نہیں پہچانا ‘ہر پنجابی نے پنجابی کو ووٹ دیا ، سندھی نے سندھی کو ووٹ دیا ، بلوچی نے بلو چی کو ووٹ دیا ‘ مگر ہمارے قوم نے اے این پی کو ووٹ نہیں دیا ‘ ہمارے قائدین اور کارکنوں نے مٹی کے خاطر اپنے جانیں قربان کی ‘ تعلیم اور صحت پر بھر پور توجہ دیں اور یونیورسٹیوں ، کالجوں کی جال بچھا دیں ، تبدیلی ہم لیکر ائے تھے آج تبدیلی کے نام پرووٹ لینے والوں کا حال عوام کے سامنے ہیں اس حکومت نے آج تک کوئی میگا پرا جیکٹ بلکہ سوات کے لئے بڑامیگا پراجیکٹ کا اعلان نہیں کیا جو عوام کے سامنے ہیں ۔
777 total views, no views today


