مینگورہ، سوات اغواء برائے تاوان اسٹیٹ بن گیا۔ سوات میں تین ہفتے کے دوران تین نوجوان آغواء ۔ایک نوجوان کی لاش برآمد۔ سوات میں آٹھارہ دن پہلے آغواء ہونے والے نوجوان کی قتل شدہ لاش برآمد۔انتظامیہ نوجوان کو زندہ برآمد کر نے میں ناکام ،لاش برآمد کر کے لواحقین کے حوالے کردیا۔ پولیس کے مطابق سوات تحصیل بریکوٹ کے علاقے غالیگے تنگے میں آٹھارہ دن پہلے نامعلوم ملزمان نے نوجوان سلمان خان کو آغواء کر کے ساتھ لے گئے۔نوجوان کی والد نظر حسین نے پولیس کو بر وقت رپورٹ درج کردیا۔لیکن پولیس نے نوجوان کی آغواء کیس کے بجائے گمشدہ رپورٹ درج کیا۔پولیس نے نوجوان سلمان خان کی لاش غالیگے کی پہاڑ سے آٹھارہ دن بعد قتل شدہ برآمد کر لیا۔واقعے کی رپورٹ پولیس نے درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔جبکہ مینگورہ سیدو شریف کالج کالونی سے دو طالبعلم عدنان خان اور محمد عمران کو ایک ہفتہ پہلے نامعلوم افراد نے آغواء کرلیاہے۔سیدو شریف پولیس کے مطابق بچوں کو کسی نے آغواء نہیں کیا ہے۔سیدو شریف پولیس اسٹیشن میں روزنامچہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی ہے۔ایک ہفتہ پہلے لاپتہ نوجوانوں کی رپورٹ پولیس نے کل درج کیا ہے۔سوات اغواء برائے تاوان اسٹیٹ بن گیا ہے۔پولیس پہلے رپورٹ درج نہیں کرتے جب درج کر تے ہے تو گمشدہ رپورٹ روزنامچے میں کئی دن بعد رپورٹ گمشدہ برائے نام درج کرکے خاموشی سے بیٹھ کر تنخواہ وصول کرتے ہیں
616 total views, no views today


