ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
زلزلہ کے مو توبے اوویستے
د ڈک کورونو نہ مو پخے اوویستے
امداد چے کلہ د زپلو راغے
مونگ پرے د یو بل نہ جامے اوویستے
عجیب صورت حال ہے کہ قدرتی آفات اور عذابِ سماوی میں بھی ہم لالچ، موقع پرستی اور مفاد پرستی سے باز نہیں آتے۔ ہم کسی بھی حال میں ایک دوسرے کو نہیں بخشتے۔ ہر حادثہ ہم اپنے فائدے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ حالاںکہ انسانی کردار اور انسانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تکلیف اور آفت کے دور میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹایا جائے۔ کتنی عجیب ستم ظریفی ہے کہ ہمارے لوگ خاص کر سوات کے عوام اتنے تاریخی حادثات اور سبق آموز واقعات رونما ہونے کے باوجود کچھ نہ سیکھ سکے۔ کوئی جینے کا طریقہ، کوئی زندگی گزارنے کا اُصولی سلیقہ ہم نہیں اپنا سکے۔ ہم اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب ہمیںموقع ملے اور ہم ایک دوسرے کا گلہ کاٹ کر بس اپنا اُلو سیدھا کرےں۔
میں نہیں چاہتا کہ میں ہر وقت ہر چیز پر اعتراض کرتا پھروں۔ ہر کام، ہر عمل کا تنقیدی پہلو اُجاگر کرتا پھروں۔ برا ہونے کے باوجود کچھ اچھا بھی ہوتا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ اچھائی بھی کبھی اتفاقاً ظہور پذیر ہورہی ہو۔ بہرحال ہوتی تو ہوگی نا۔
زلزلے کے بعد اگلے دن فوراً سیکورٹی اداروں اور عسکری حکام نے تباہ شدہ گھروں، مرنے والوں اور زخمیوں کی معلومات کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ زلزلہ کو وقت اتنا نہیں گزرا تھا۔ ابھی خوف کا عالم تھا، تو نام اور پتے صحیح لکھوائے گئے۔ ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھے بھی گئے، لیکن جب ذرا وقت نکل گیا۔ ڈر اور خوف کے سائے ڈھلنے لگے، تو شیطانی طاقتیں میدان میں آگئیں۔ برائیوں کا عفریت پنجے گاڑنے لگا۔ لکھنے اور لکھوانے والے دونوں کے تیور بدلنے لگے۔ بے ایمانی میں یک طرفہ ٹریفک نہیں چل رہا بلکہ دونوں اطراف سے پیڈل مارے جا رہے ہیں۔ لکھوانے والے زبردستی اپنا مکان گرانے پر تلے ہوئے ہیں اور لکھنے والے انجانے میں کبھی نظر انداز کر دیتے ہیں اور کبھی مروت میں آکر زیادہ مہربانی کر جاتے ہیں اور…. کبھی کبھی مفت میں ویسے ہی بہت کچھ دے دیتے ہیں۔ کسی پر ذاتی احسان اور کسی پر ”سیاسی ریوڑیوں“ کی بارش کر دی گئی۔
اس تمام تر صورتحال میں سوات کی تحصیل بابوزی¿ نسبتاً اچھی رہی۔ تعریف کیوں نہ کریں کہ وہاں شکایتوں کے انبار نہیں لگے۔ امداد کافی ہے یا ناکافی؟ یہ ایک الگ سوال ہے لیکن ملی ضرور ہے اور زیادہ تر مستحقین کو ہی ملی ہے اور بروقت ملی ہے۔ روایتی بیوروکریسی کا سرخ فیتہ اور تاخیری حربے استعمال نہیں ہوئے۔ پتہ نہیں اس اچھائی اور نیکی کو کرنے میں کونسی مجبوری کار فرما تھی؟ کیا امداد اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر تھی؟ پچھلے دور میں تو زیرہ کیا، اونٹ ہی سرے سے غائب تھا۔
لیکن کیا کریں؟ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ اس بار شانگلہ پار میں زیادہ نقصان ہوچکا ہے۔ وہاں کا ٹھنڈ بھی کوئی قدرتی آفت سے کم نہیں۔ اس پر متضاد یہ کہ دورے زیادہ اور فوراً ہوئے لیکن امداد نہ ہونے کے برابر ہے، شانگلہ پار کے دوست، پورن چکیسر اور داموڑی¿ کے رہنے والے ساتھی اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔ وہاں کی سردی ناقابل برداشت سہی لیکن نقصان لکھنے میں امتیازی سلوک کا برتاﺅ کرنا سردی سے زیادہ ناقابل برداشت ہے۔ وہاں سیاسی پارٹیاں خواہ مسلم لیگ ن ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی یا پھر تحریک انصاف۔ سیاسی امتیازی سلوک سے اپنے دامن کو بچائیں۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہماری آرمی کا علاقائی سروے متنازعہ بن جائے۔ لہٰذا وہاں پر سیاسی ورکروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ پاک آرمی کو مستحق افراد اور مکانوں کے نام لکھواکر دےں۔ کسی کی حق تلفی نہ کرےں۔ پاک آرمی کے جوان بھی احتیاط سے کام لیں۔ ایسا نہ ہو کہ پاک آرمی کے بے داغ دامن پر دھبا لگ جائے۔ متاثرین اور حقدار اپنا حق نہ چھوڑےں، لیکن دوسروں کا حق نہ چھیڑےں اور نہ دوسروں کی حق تلفی ہی کریں۔ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ جو لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ کسی بھی وقت ان پر ان کی غلط بیانی کی وجہ سے تکالیف کا پہاڑ ٹوٹ سکتا ہے اور غلط بیانی سے لکھا ہوا جھوٹا نقصان سچا ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔
شانگلہ پار کی طرف سے ڈھیر ساری برقی تاروں (ای میلز) نے ہمیں تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ لیکن سچ کے لےے تو جھوٹ کے سامنے ڈٹنا پڑتا ہے۔ لہٰذا جن دوستوں نے برقی تار بھیجے ہیں کہ میں کسی تحریر کے ذریعے شانگلہ والوں کی فریاد حکام بالا تک پہنچاو¿ں۔ لہٰذا قلم کے ذریعے عسکری حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ داموڑی¿ شانگلہ میں متاثرہ خاندانوں کا سروے بلا کسی سیاسی امتیاز کے کیا جائے اور اگر ایسا کوئی شک ہے، تو سروے دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ سروے بار بار کیا جائے لیکن اعتبار کیا جائے۔ عوام سے بھی درخواست ہے کہ اگر کوئی غیر مستحق ہے، تو وہ اپنے آپ کو مستحق بنانے کے لےے ناجائز حربے استعمال نہ کرے، اور اگر اس کا کچھ حق بنتا ہے، تو وہ اسے ہر گز نہ چھوڑے۔ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ متاثرین کے نام لکھنے لکھوانے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔
اب وقت بدل گیاہے۔ حالات بدل چکے ہیں۔ خود کو حالات اور وقت کے سانچے میں ڈھالنے کے لےے ہمیشہ مسکرائیں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ قدم بڑھائیں۔ حالات خود بہ خود سر جھکادیں گے۔ ذاتی سوچ کے بجائے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھائیں۔ دوسروں کے راستوں میں پھول بچھائیں۔ کیل کانٹوں کو آبروو¿ں سے چن لیں۔ دوسروں کی عزت اور احترام کرکے اپنے لےے عزت و احترام کمائیں۔ دلوں سے نفرت، تعصب، بغض، حسدکو نکال بارہ کیجیے۔ محبت، خلوص، وفا، اعتماد، مروت، رواداری، صبر و برداشت اور عاجزی کے خوشبودار پھلوں کے درخت اُگائیں۔ یقین جانئے زندگی صدا بہار اور گل و گلزار بن جائے گی۔ یہ یاد رکھئے کہ اطمینان، سکون، خوشی اور قناعت کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہوتا ہے۔ لہٰذا جسم کی بجائے روح کی پرورش اور نشوونما کیجئے۔
672 total views, no views today


