سال دو ہزار آٹھ کی ایک رات کو سولہ بم دھماکے ہوئے۔ رات تھی اسلئے کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ دھماکے کس نے اور کہاں کیے ہیں، لیکن جب صبح ہوئی تو ایک عمارت کو دیکھنے سوات بھر سے لوگ آنا شروع ہوئے۔ ان میں زیادہ تعداد بزرگ شہریوں کی تھی۔ تقریباً سبھی عمارت کو دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے اور وہ بھی چپکے سے۔ کیوں کہ جان جانے کا خوف تھا۔ پھر بھی دبی آواز میں عمارت تباہ کرنے والوں کیخلاف بات کی جا رہی تھی۔ ایک بزرگ آگے بڑھا۔ اسکول کی عمارت سے تاریخی تصاویر اور دیگر سامان اکٹھا کرنے لگا۔ ساتھ آنسو بھی بہا رہا تھا۔ تباہ ہونے والی یہ تاریخی عمارت سوات میں بننے والے پہلے سرکاری گورنمنٹ ہائی اسکول بنڑ کی تھی جس کو دہشت گردوں نے تباہ کیا تھا اور صبح اس کی اینٹوں، سریے اور قیمتی لکڑی پر عوام گتھم گتھا تھے۔ جو لوگ یہاں سے پڑھے تھے، وہ اس کی یہ حالت دیکھ کر خون کے آنسو رو رہے تھے۔
دہشت گردی کے چار سالہ دور میں سوات کی ہر اس تاریخی عمارت کو دھماکوں میں تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، جو سوات کی پہچان تھی، جس سے علم کی روشنی پھیل رہی تھی۔ اس تاریک دور میں سوات کے چار سو سے زائد اسکولوں کو تباہ کیاگیا، جس میں بیشتر اسکولوں کا تعلق ریاستی دور سے تھا۔ دہشت گردی کے بعد جب امن کی فضا میں لوگوں نے سانس لینا شروع کیا، تو پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں تاریخی ورثوں کو تباہ کرنے کی سازشیں کی جا رہی تھیں۔ ایک دوست ملک نے اپنے طرز پر تعمیر عمارت کھڑی کرنے کیلئے سوات کی ایک تاریخی عمارت گرادی جس پر ہم چپ رہے۔ کچھ حلقوں نے اس پر صدائے احتجاج بلند بھی کی، لیکن وہ نقارخانے میں توتی کی آواز کے مصداق کسی نے نہ سنی۔
اس کو سوات کی بدقسمتی ہی کہی جاسکتی ہے یا پھر سواتی عوام کی بے حسی کہ ایک ایک کرکے ہماری تاریخی عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب سوات کے علم دوست لوگوں اور قومی ورثوں کو بچانے والوں پر ایک اور قیامت ٹوٹنے والی ہے۔ اب خیر سے جہانزیب کالج کو مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ جہانزیب کالج والئی سوات کے دور میں تعمیر ہونیوالا وہ تاریخی کالج ہے، جس نے اس ملک کو ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز، تاریخ دان اور سیاستدان دیئے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ بدلے میں ان تمام جہانزیبینز نے جہانزیب کالج کو کیا دیا؟ چھبیس اکتوبر کو جب تباہ کن زلزلہ آیا جس میں قیمتی جانوں کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی زلزلے سے جہانزیب کالج کی عمارت میں بھی دراڑیں پڑ گئیں۔ قومی ورثے کو نقصان پہنچانے والوں اور اس کو لوٹنے والوں کی جیسے چاندنی ہو گئی۔ کچھ عناصر جہانزیب کالج کے تاریخی ورثے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے آگے آئے اور اس کو گرانے کی باتیں ہونے لگیں۔ ان باتوں کو سن کر میرے ذہن میں سوالات انگڑائیاں لینے لگے کہ کیا زندہ قومیں اس طرح کرتی ہیں؟ وہ اپنی تاریخ کو مٹاتی ہیں؟ وہ تاریخی عمارتیں محفوظ کرتی ہیں یا انھیں ڈھاتی ہیں؟ مجھے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے کہ جب سائنس نے اتنی ترقی کی ہے اور ترقیافتہ ممالک اپنے تاریخی ورثے کو جدید سائنسی بنیادوں پر محفوظ کر رہے ہیں، تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ کیا جہانزیب کالج کی تاریخی عمارت محفوظ نہیں ہوسکتی؟ یقینی طور پر ہوسکتی ہے۔ جن جگہوں میں دراڑیں پڑگئی ہیں، انکو ’’کور‘‘ کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم وقتی لالچ اورکچھ پیسے کمانے کے چکر سے نکل آئیں، تو عمارت کو ڈھانے کی نوبت نہیںآئے گی۔
قارئین، جہانزیب کالج کی عمارت اتنی خوبصورت اور کھلی ہے کہ اگر آپ ہزار بار بھی جائیں، تو ہر بار آپ کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا، اس عمارت میں بنے بڑے بڑے کلاس رومز، ہالز اور لائبریری میں اگر گھنٹے بھی گزارے جائیں، تو بوریت محسوس نہیں ہوتی۔ عمارت کے صحن، گلدستے، پھول اور کلیاں اتنی خوبصورت ہیں کہ عمارت سے جانے کو جی نہیں چاہتا۔ پھر بھی اس خوبصورت اور دلکش عمارت کو گرانے کی باتیں ہو رہی ہیں؟ عمارت کو گرانے کیخلاف ایک آن لائن مہم شروع کی گئی ہے جس پر لوگ دستخط اور سوشل میڈیا پر اس کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اہلیان سوات اس عمارت کو گرانا نہیں چاہتے۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ لوگ اس عمارت کیلئے فکر مندہیں، وہ چاہتے ہیں کہ یہ عمارت ہماری آنے والی نسلوں تک محفوظ رہے جبکہ دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو کچھ فکر ہی نہیں۔ مجھے افسوس اس بات پر بھی ہے کہ والئی سوات کے جانشینوں نے بھی اس پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ جب ودودیہ ہائی اسکول گرایا جا رہا تھا، تو مسرت احمد زیب نے اس کیخلاف آواز اٹھائی تھی لیکن اہلیان سوات نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ جس سے وہ آواز اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوئی تھی، لیکن اب تووہ قومی اسمبلی کی ممبر ہیں۔ صوبائی حکومت ان کی اپنی پارٹی کی ہے۔ کیا ان کی آواز کی گونج قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی تک نہیں پہنچ سکتی؟ اب تو ان کی آواز کو سنا جا سکتا ہے۔ پھر ان کے لب خاموش کیوں ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کو اس بات پر راضی کرسکتی ہیں کہ جہانزیب کالج سوات کا ایک قیمتی اثاثہ اور تاریخی ورثہ ہے۔ اس کو گرانے کے بجائے اسے محفوظ بنایا جائے۔ اگر عمارت گرنے کا خدشہ ہے، تو جہانزیب کالج کے طلبہ وطالبات کو خطرات کے پیش نظر ایک نئی عمارت تعمیر کرکے دی جائے۔ مسرت احمد زیب جب اسمبلی فلور پر آواز بلند کرے گی، تو یہ اکیلے ان کی نہیں سوات کے بیس لاکھ لوگوں کی آواز ہوگی۔
قارئین، مجھ سمیت سوات کا ہر شخص جب سیدو شریف سڑک پر جا رہا ہوتا ہے، تو اس کی نظریں اس پرشکوہ عمارت پر ضرور پڑتی ہیں اور جب اولین نظر پڑتی ہے، تو دل کو سکون سا ملتا ہے۔ میں جب بھی اس عمارت کو دیکھتا ہوں، تو خوش ہو جاتا ہوں کہ آنے والی نسلوں کو تعلیمی کے زیور سے آراستہ اور تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے ایک عمارت موجود ہے، جو ریاست سوات کے امن، تعلیم، خوشحالی، ترقی اور تاریخ کی امین ہے۔ آج اگر ہم نے اس تاریخی عمارت کو تباہی سے بچانے کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے، تو پھر جب ہماری آنے والی نسلیں تاریخ پڑھیں گی، تو وہ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آئیں، مل کر جہانزیب کالج کی عمارت کو محفوظ بنانے کیلئے عملی جدوجہد کا آغاز کریں۔ مجھے ان انجینئرز سے بھی گلہ ہے جنہوں نے جہانزیب کالج میں علم کی پیا س بجھائی ہے، وہ آج کامیابی کے زینے چڑھتے چلے جا رہے ہیں، وہ اس تاریخی عمارت کو بچانے کے لئے آگے کیوں نہیں آرہے؟ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار کیوں نہیں لا رہے؟ جب ان سے اپنے بچے اس تاریخی عمارت کے حوالے سے پوچھیں گے، تو وہ کیا بتائیں گے؟ یقیناًان کو افسو س ہوگا۔
توکیا یہ بہترنہیں ہے کہ وہ تمام لوگ جو جہانزیب کالج میں علم حاصل کرچکے ہیں، آگے آئیں اور اس عمارت کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ بنانے کی خاطر اپنا کردار ادا کریں۔ ان تکنیکوں کو استعمال کرنے پر زور دیں جس سے یہ عمارت محفوظ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک طرح سے ان کا احسان ہوگا اہل سوات پر۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر
ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
1,232 total views, no views today


