تحریر ۔شہزا د نو ید
قارئین کر ام ۔آ پ کے علم میں ہے کہ اختلافات انسا ن کو ایک ایسی حد تک لی جا تا ہے جس سے وہ زندگی کی کو ئی اہم فیصلو ں اور کردار سے محروم ہو سکتاہیں اگر اختلافات ایک طرفہ ہو ں تو وہ اسکا نقصان معمولی ہوگا،اگر دو طرفہ ہو ں تو وہ دن بہ دن ایک نیا موڑ اپنا لیتے ہیں قارئین کرام ۔اگر ہم اپنے معاشر ے کی اردگر د نظردوڑائیں تو مختلف انسانوں میں مختلف باتو ں پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور کبھی اختلافات ایسی شکل اختیا ر کرلیتے ہیں کہ وہ انسان دوسروں کیلئے زند گی بھرکا جا نی دشمن بن جا تا ہیں۔ اگر ہم آج کل اپنے معاشر ے کو دیکھیں تو ہر دس بندوں میں ضرور دو بندو ں کے درمیان اختلافات ہونگے کیو ں۔۔۔ تو اسکی مختلف وجو ہا ت ہیں۔ آج کل ہماری معا شر ی میں سب سے زیا دہ اور سب سے پیچید ہ اختلافات دوگروہوں کے درمیا ن مجھے دیکھائے دیتے ہیں ایک پو لیس اور دو سر ا عوام ۔۔ پو لیس اور عوام کی درمیا ن دن بہ دن مسلسل اختلافا ت بڑھتے جارہے ہیں اختلافات و نفرت دن بہ دن ایک نیا مو ڑ اپنا لیتا ہے کیو ں۔۔! اگر ہم اپنے ذہن کو سوچ کر نے پر مجبور کر یں تو مختلف وجوہات سامنے اجا تے ہیں۔ پو لیس تو قو م کی دفا ع کے لئے دن و رات اپنے ڈیو ٹی سر انجام دیکر قو م کی خدمت کر رہی ہیں مختلف واردات اور بر ی سر گر میو ں نمٹ رہے ہے لیکن پھرکیو ں۔۔ عوام اور پو لیس کی درمیا ن ہر گزرتے دن کی ساتھ اختلافات بڑھتے جارہے ہیں ۔ عوام کہتے ہیں کہ پولیس کا رویہ عوام کی ساتھ لمحہ فکر ہے وہ ہماری ساتھ عجیب رویے سے پیش اتے ہیں اس نظروں پر مجھے اور پوری قو م کے ساتھ مخاطب ہو تا ہیں جسے ہم ایک ہندہ یا کو ئی انڈین ورکرہوں کیونکہ ہم نے خو د اپنے انکھوں سے پو لیس کا رویہ دیکھا ہے و ہ عوام کے ساتھ بہتر نہیں ہے اگر کو ئی شہری پو لیس اہلکار کو یہ کہنا چائیے کہ ڈیو ٹی اچھی طرح سرانجا م دوں تو پو لیس کا جو اب میں پولیس اہلکارکہتے ہیں ہم سرکا ر کی ملازم ہیں اپکے کے نہیں۔۔ تو اس طر ح کی باتو ں سے اختلافا ت ایک نیا موڑ اختیار کر لیتا ہے ۔ قارئین کر ام ۔ان فا صلو ں کو ختم کر نے کے لئے ایک فلا حی ادارہ سسٹینیبل ڈولپمنٹ سوسائٹی ُ (ایس ڈی ایس) نے ایک سر وے کیا ہیں کہ پو لیس اور عوام کے در میا ن فاصلے کیسے ختم کئے جاسکتے ہیں جس سے ہمارے معا شر ے میں مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں اس بات سے ہم بھی اتفاق کر تے ہیں کہ اگر پولیس اور عوام کی درمیان دوریاں گزرتے دن کی ساتھ زیا دہ ہو جاتے ہے تو معا شر ے میں مختلف اختلافات کے ساتھ ساتھ ہمارے صوبے پر بھی خوب برا اثرپڑے گا ۔ ایس ڈی ایس ان فاصلو ں کو ختم کر نے کے لئے مختلف سیمنار ،جر گہ، میٹنگ کا انعقا د کررہے ہیں ،ادارہ پو لیس اور عوام کو ایک پلیٹ فار م پر بیٹھا کر ایک دو سرے کی ساتھ اپنے مسائل شیئر کر نے کا موقع دیتے ہے یہ بھی ہماری لئے اچھا اور قابل فخر اقدام ہے پہلے دنو ں میں تو سیمنار اور میٹنگ میں پو یس اور عوام ایک دوسرے پرخوب لفظوں کا تیرچلا دیتے لیکن اب اس میں کچھ بدلاو ائے ہیں پولیس اور عوام نے ایک دوسرے کے مسائل کا کچھ حد تک سمجھوتاکیا ہے کہ ہم ایک دو سر ے کی خلاف کیوں لگے رہتے ہیں وہ اختلافات ، دوریوں اور مسائل پر خوب بحث کرتے ہیں ان کوششوں سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ سوتیلی بھائی حقیقی بھا ئی میں تبد یل ہو جا ئے گئے۔ان جر گو ں ،میٹنگ اور سیمنار کی ساتھ سا تھ ایس ڈی ایس نے پو لیس اور عوام کے درمیا ں جو اختلافا ت ہیں توان سب مسائل کوانہوں نے محفوظ کرلیا ہے ۔ فلاحی ادارے نے پو لیس کی رویے ،کر دار ، ایجو کیشن ، ٹریننگ ،وسائل ،مسائل ،اسٹا ف ،کر پشن ، ڈیو ٹی ،تنخواہ ، اعلی افسر ان ،ایم این ایز ،ایم پی ایز کا دخل اندازی، پروٹو کو ں وغیرہ وغیرہ۔۔ان اہم مسائل کے حوالے پو لیس افسران و اہلکاروں سے تفصیلی با ت چیت کی ہے کہ یہ مسائل عام شہری پرکیسے اثرانداز ہو جاتے ہیں ۔ فلاحی ادارے نے جب مسائل کے حوالے سے پولیس اہلکاروں وافسران سے بات چیت کی تو ڈی ایس پی نے مسائل کے بارے میں کہا کہ پو لیس سٹیشن میں پو لیس کا رویہ عوام کی ساتھ کیو ں سخت اور بر ا ہے تو اس پر ڈی ایس پی نے اپنے پو لیس سٹیشن کی تما م مسا ئل کچھ اسطر ح بیا ں کئے کہ ہماری ساتھ پو لیس سٹیشن میں سٹاف کم اور کا م زیا دہ ہو تا ہے ہمار ے ساتھ مسائل زیا دہ اور وسائل کم ہیں کہ اگر شہر ی ہماری رویہ اور سخت لہجے سے تنگ ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب ہم صبح ڈیوٹی شروع کرتے ہیں اور شا م تک ہمیں اپنی ڈیو ٹی سر انجا م دینی ہوتی ہیں اس میں نہ تو کو ئی وقفہ اور نہ ہی ارام کیلئے وقت ہوتا ہے اگر وقفہ خوش قسمتی سے مل جا تا ہے تو ہمیں جلد وی ائی پی اور سیا سی ارکا ن کی ساتھ بھیج دیئے جاتے ہے یہا ں بھی ڈیو ٹی اور وہا ں بھی ڈیو ٹی دینی پڑتی ہیں ہم کھانے پینے کی بغیر صبح سے شا م تک ڈیو ٹی دیتے ہیں ۔۔ہم بھی انسا ن ہے کو ئی مشین تو نہیں کہ صبح سے شا م تک بغیر کھانے پینے ،بغیر کسی آرام وسکون ہم اپنے ڈیو ٹی سر انجا م دیتے ہیں تو اسے وجہ سے کبھی کبھی ہم ذہنی مسائل کا شکا ر ہو جا تی ہیں تو اسیلئے ضرور ہماری زبان تلخ اور سخت ہوگاکیونکہ ہم بھی انسان ہیں مشین نہیں۔ پو لیس اہلکار وں نے وی ائی پیز پر خوب لفظو ں کی تیر چلائے ۔اور کہا کہ اگرہم کو ئی رپورٹ یا کو ئی ایف ائی آر درج کر دیتے ہیں تو سیا سی ارکا ن اور وی ائی پیز اس میں دخل اندازے کر کے 95فیصد تک ایف ائی ار پیک (fake)ہو جاتے ہیں انہو ں نے کہا کہ ہماری پو لیس سٹیشن میں ایک موبائیل وین ہے جب ہم کو ئی کارروائی کے لئے جا تے ہے تو زیا دہ تر ہمارا پولیس وین سیاسی ا رکا ن اور وی ائی پیز کے ساتھ مصروف ہوتا ہے اور یہ سیا سی ارکان اور وی ائی پیزہماری ڈیو ٹی پر سخت اثراندازہوتے ہیں ہم اپنی اعلی افسرا ن اور صو با ئی ارکا ن سے درخواست اور مطا لبہ کر تے ہیں کہ ان سیا سی ارکا ن اوروی ائی پیز کے لئے کو ئی اور سیکورٹی ٹیم بنا نے پر غور کر ے تا کہ ہم اپنے ڈیو ٹی اچھے طر ح نبا سکے۔ پو لیس اہلکاروں نے اپنے صو با ئی حکو مت سے بھی بہت گلے شکوے کئے ۔کہتے ہیں کہ ڈیو ٹی اتنی سخت کہ خدا جا نے۔۔ لیکن تنخوایں اتنی کم ۔۔کہ وہ ہمارے اخراجا ت بھی اچھا طر ح پو ری ا نہیں کرسکتے ان اخراجات کی پیش نظرہمارے بچوں کی تعلیمی سر گرمیو ں سے محروم ہو نے کا خدشہ ہے انہو ں نے کہا کہ حکو مت کیو ںآرمی جیسا پو لیس پر مہر با ن نہیں ہو تا آرمی بھی ہماری جیسا فلا حی ادارہ ہے لیکن ان کے ساتھ وسا ئل زیا دہ ہیں اگر ہم خیال کر یں تو پاک آرمی کی بچو ں کے لئے کیڈٹ کا لج قا ئم کیا گیا ہے اور ہما ری بچو ں لئے کچھ نہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اچھی سکو لز اور کا لجز میں پڑ ھ کئے قو م اور پاکستا ن کے خدمت کرے ۔ پو لیس اہلکا روں سے رپورٹ درج کر نے اور سر کا ری وسا ئل کی بار ے میں پو چھا گیا کہ اپ سے رپو رٹ یا ایف ائی ار درج کر نے میں کیو ں اتنا وقت لگ جا تا ہے تو اس نے جو اب دیا کہ ہماری ساتھ پو لیس سٹیشن میں نہ پیجز اور نہ سٹیشنری ہے اگر وقت پرہمارے ساتھ وسائل پو را ہو تے تو اس میں کیو ں وقت لگ جا تا ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم لوگو ں کا کام جلد سے جلد ختم کر کے فارغ کر ے۔لیکن سر کارکی جا نب سے ملتے ہو ئی چیزوں کی با ری میں کیا کہنا۔۔ اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو سر کا ر کی بجا ئے ہم شر م محسوس کرتے ہیں سا ل میں ایک مر تبہ ملنی والی پو لیس واردی نہ رکھنے اور نہ پہنے کی قا بل ہیں وہ صرف ایک چیز میں استعمال ہو جا تا ہے صفا ئی۔۔ سترائی۔۔! کیونکہ وہ پہنے کی قا بل ہے نہیں ۔۔ہم خو د اپنی مد د اپ کے تحت اپنے لئے وردی اپنے پیسوں سے خرید لیتے ہے۔ حکو مت کے جا نب سے خطوط واطلاعات ملتی ہیں کہ اپ دہشت گر دو ں کے ڈٹ کر مقا بلہ کر و ں اور ان کو شکست دو۔۔۔ لیکن سرکار۔۔ اپکو یہ خبر۔۔کہ مقا بلے کے لئے وسائل کے ضرورت ہو تی ہیں ہماری ساتھ جووسائل اور اسلحہ ہے وہ سب خراب اورزمانہ قدیم کا ہیں وہ اب سوات کی میو زیم میں رکھنے کی قا بل ہے اس زمانہ قدیم اور دہشت گردو ں کی اسلحہ میں زمین اسما ن کا فر ق ہے ۔۔ کیو نکہ ہمارا اسلحہ محفوظ رکھنے کے لئے ہے جبکہ دہشت گردوں کا اسلحہ جد ید ترین ہیں انہو ں نے کہا کہ اگر ہما ری ڈیپارٹمنٹ اور حکو متی اداروں میں کرپشن نہیں ہوتی تو پاکستا ن اتنی تباہی کی طر ف گا مز ن نہ ہوتا ۔۔ہر ادارے ۔۔ہر جگہ ۔۔ہر ڈیپارٹمنٹ۔۔ میں کرپشن ہے ہر کو ئی خو د کو پو را کر نے کی کو شش کر رہی ہیں اور پاکستا ن کو خدا حا فظ ۔۔۔!اگر پو لیس سٹیشن میں کر پشن کی با ت کی جائے تو پو لیس اہلکار کہتا ہے کہ جب پو لیس سٹیشن میں ہماری چھٹیوں کا معیاد پو را ہوجاتا ہے اور گھر وں کو رخصت ہو نے کا وقت اجاتا ہے تو وہ ہم کوجا نے کی اجازت نہیں دیتے وہ ہمارے ساتھ باتو ں میں چا رہ گوئی کر تی ہیں لیکن جب ہم اپنے جیب کو تھوڑا ڈیلا کر کے خرچ د یتے ہیں توپھر وہ ہمیں پو لیس سٹیشن سے پروٹوکو ل میں رخصت پر غور کر دیتے ہیں اگر کو ئی ملک یا کو ئی قو م کا اسطر ح حالت ہو تو یہ ترقی کی قا بل ہیں۔۔! فیصلہ عوام کا ۔۔ کہ ترقی کی قا بل ہے اگر نہیں ہم تو ترقی کی خواب کوبھلا دیں۔۔۔! ہمارے معاشرے میں دیگرمجرمانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو ذایتات کا نشا نہ بنایا جا تا ہے جب کو ئی خواتین انصا ف انصا ف کے لئے انصاف کی عدالت کا رخ کر تی ہے تو اپنی کیس کچہر ی میں جلد سے جلد حل نکالنے کی کو شش کر رہی ہیں لیکن جب کیس کا اغار ہو جا تا ہے تو سب سے پہلے ایک ٹیسٹ کر نا پڑتا ہے اور وہ صرف ٖپشاور خیبر میڈیکل کمپلیس ہوتاہے۔۔۔اور اس ٹیسٹ کے لئے وہاں جا نا اور ٹرانسپورٹ وغیرہ۔۔ توغریب طبقہ کی لو گ تو برادشت نہیں کرسکتے ہم اپنے حکومت اور اعلی افسران سے دراخواست کر تی ہیں کہ ہمارے لئے نہیں تو خواتین کے لئے تو کچھ نہ کچھ کروں خیبر میڈیکل کالج کی بجائی یہ سہو لت اگر سوات میڈیکل کا لج میں فراہم ہو جائی تو اس سے نہ صرف خواتین بلکہ ساری لوگو ں کو اسانی ہو گئی ساتھ میں ہمیں بھی انویسٹی گیشن میں آسانی ہو گی کیونکہ جب ہم ٹیسٹ کو وہا ں بھیجنے اور بھر رزلٹ آنا اس میں بہت وقت لگ جا تی ہیں۔ اخر میں پو لیس نے سر کا رکا ایک اہم پو ل کھول دیا کہتے ہیں کہ جب ہمارے ادارے میں کو ئی زخمی یا کو ئی زہنی مسائل کا شکار ہو جا تا ہے تو سر کا ران اس کو انویسٹی گیشن پر لگا دیتے ہے یہ ہمار ی لو گو ں کے لئے بہت برا اقدام ہے انویسٹی گیشن کے لئے نو جو ان اوقا بل بند و ں کے ضرورت ہو تی ہے ڈیپارٹمنٹ میں تعلیم افتہ اور محنتی لو گ اجا ئے تو وہ عوام کی فیصلے بھی اچھی طرح کر سکے گے۔ ایس ڈی ایس ٹیم نے پو لیس کی مسائل اور شکاتیں سن کر عوام سے مخاطب ہو ئے او رعوام سے پو لیس کے اختلافات کے بارے میں خوب معلو مات فراہم کیا ۔ سب سے پہلے ایس ڈی ایس ٹیم نے ایک عام شہری کی طر ف مخاطب ہو ئے اور پو چھاگیا کہ سوات پو لیس سے کیو ں اپ اتنے نالاں اورپریشان ہیں اپ پو لیس کے کن کن مسائل سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگئی ہوں تو شہری نے اپنا جواب کچھ یو دیاکہ پو لیس کا رویہ ہمارے لے امتحان کی گھڑی ہیں لیکن اب ہمارے امتحا ن ختم ہونے والی ہیں ہماری صبر کا پیما نہ لبریز ہو گیا ہیں اب ان کی رویے کی مطابق جواب سننا پڑے گاہماری جیسی سادہ اور عام آدمی پو لیس سٹیشن نہیں جا سکتا کیوں۔۔ کیو نکہ پو لیس کا رویہ اور اخلاق کی خوف سے۔۔ اور اج کل تو پو لیس سٹیشن تو سیا سی ارکا ن کا دو سرا گھر ہے سب فیصلے انکی مطا بق ہو تی جاتے ہے اس گھر میں عوام کو کوئی اور کبھی بھی انصا ف ملنے والی نہیں کیو نکہ وہ ہماری لئے نہیں پیسوں اور سیا سی ارکا ن کی لئے کا م کر رہی ہیں ایک طر ف تو زیا د ہ ترپو لیس سٹیشن میں غیر تعلیم یا فتہ ہیں تو دو سر ی طر ف وہ سیا سی اور وئی ائی اپیز کی خوف سے کو ئی اچھی طر ح فیصلہ نہیں کر سکتامختلف سر کا ری اداروں کے مناسبت سے پو لیس ڈیپارٹمنٹ میں زیا دہ کر پشن ہو رہی ہیں اگر عوام کی عدالت میں کرپشن ہو ں تو یہ وادی سوات کی سادہ عوام کہاں جا ئے گئے ۔یا اللہ سوات کی عوام کی مدد کر۔۔! ایس ڈی ایس ٹیم نے پو لیس اور عوام کے باتوں کو مد نظر رکھتے ہو ئی ایک رپورٹ جاری کر دیا ہے اس میں پو لیس اور عوام کے درمیا ں فاصلے ختم کر نے پر خوب بحث کیا گیا ہیں سروے میں ایک اہم پو ائنٹ یہ ہے کہ اگر سر کار پو لیس اہلکاروں کی مسائل کچھ حد تک حل کر سکتے ہیں تو ساتھ ساتھ وہ پولیس اہلکاروں کو اخلاقی ٹریننگ ،رویے اور کر دار کی بارے میں سیمنار کر ے پو لیس ڈ یپارٹمنٹ میں تعلیم یا فتہ لو گو ں کو لا نے کے ضرورت ہیں رپو رٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا ادارہ قا ئم کئے گئے تو جس پر عوام مو بائیل کر زریعے ان لا ئن رپو رٹ درج کر سکتاہے۔ رپورٹ میں اس پوائنٹ پر زور دیا گیا ہے کہ ایک ایسا ادارہ ہوناچاہئے کہ وہ پو لیس اہلکاروں پرکی کارکردگی، اخلاق ، امورپرہر مہینے نظر دوڑائیں اور اس کے حق یا خلا ف کر وائیاں کریں تو وہ اداراہ مضبو ظ اور مستحکم ہو نے چائیے کہ جب کو ئی اہلکار ڈیو ٹی نہیں دیتا یا کو ئی رشوت لیتا ہیں اور یا کو ئی مظلو م پر ظلم و تشدد کر تا ہے تو ان کے خلاف وقت پر کاروائیاں ہوں۔جو پو لیس اہلکا ر کی اعلی اافسر ان بھی کو ئی کر پشن میں ملوث ہو ں یا کرپشن کر تا ہے یا کر پشن کر نے کی کوشش کر رہاہوں۔ تو اسے عبرتناک سے عبرتناک سزا دینے چائیے اگر یہ ادراہ پو لیس پر اچھی نظر ثانی کر ے گئے تو بہت جلد عوام اور پولیس کے درمیان اختلافات محبت میں تبدیل ہو جائیں گے اخر میں ہم اپنے باشو ر عوام سے التجا ء کر تے ہیں کہ وہ بھی پو لیس اہلکاروں کے ساتھ اپنا رویہ ٹیک کریں وہ بھی ہمار ی جیسی مخلوق ہے اس کا رویہ اسیلئے تھوڑا سخت ہے کیونکہ وہ مسلسل مسائل کا شکا ر ہے ہمیں چائیے کہ ہم انکے کے ساتھ ہر ممکن مد د کرے۔
964 total views, no views today


