سوات،وفاق المدارس اسلامہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہاہے کہ نان الیون کے بعد ایک سازش کے تحت اسلام اور دینی مدارس کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، دینی مدارس اور علمائے کرام قیام پاکستان کے بعداب ملکی اور نظریاتی سرحدات کی حفاظت کرہے ہیں ،دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن افسوس کہ مغرب جان بوجھ کر دہشت گردی کو مدارس سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ،دنیا نے دہرا معیار اپنا کر صرف اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے کی سازشیں کررہی ہے جس کے باعث مغرب اور مسلمانوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ،بلوچستان اور کراچی میں جو کچھ ہوا اورہورہاہ ہے یہ لسانی تعصب کی وجہ سے ہورہا ہے ،دینی مدارس نے قومی وحدت میں نمایاں کردار اداکیا ہے اور شرح خوانداگی بڑھانے میں حکومت کا ہاتھ بٹاررہے ہیں ،طاقت اورگولی سے فتح حاصل نہیں کی جاسکتی دلوں کو جیت کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کے ودویہ ہال سیدوشریف میں تحفظ مدارس وپیغام امن کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جس میں ملاکنڈڈویژن کے اور باجوڑایجنسی کے مدارس کے مہتممین اور ذمے داروں کے علاوہ علمائے کرام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ،کانفرنس سے وفاق المدارس اسلامیہ پاکستان کے مرکزی صدر مولانا سلیم اللہ خان نے بیماری کے باوجود سوات پہنچ کر خطاب کیا جبکہ اس موقع پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی،کشمیر کے مولانا سعید یوسف کاشمیری ،پنجاب کے مولانا قاضی عبدالرشید ،معروف اسکالر ڈاکٹر قبلہ آیاز ،جے یو آئی ف کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ،پشاور کے مولانا حسین احمد ،ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن آزاد خان اور سوات کے مسؤل مولانا صدیق احمد نے بھی خطاب کیا ،مولانا حنیف جالندھری نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں 30ہزار دینی مدارس قائم ہیں جن میں 3لاکھ طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں اور قرآن وحدیث کے علوم حاصل کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ پاکستان کو فرقہ ورانہ اور عمومی دہشت گردی نے بڑا نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہاکہ ہم امن کی خاطر معاہدے کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور دینی مدارس کے بارے میں پایا جانے والے ابہام کو دور کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ قائداعظم نے خود کہاتھا کہ ان کے ساتھ علماء نہ ہوتے تو پاکستان بھی آزاد نہ ہوتا اورتاریخ شاید ہے کہ علمائے کرام نے ہی ملک کو درپیش ہر مشکل گھڑی میں اپنا کردار اداکیا ہے انہوں نے کہاکہ جب تک وزیر اعظم اور وزراء اور ذمے داروں کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھیں گے تو ہمارا نظام تعلیم بہتر نہیں ہوسکے گا انہوں نے کہاکہ دھمکیوں اور طاقت کے برعکس دلیل سے بات کی جائے تو تمام معاملات حل ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اب بھی وقت ہے کہ ملک کے تمام ادارے اوتر حکمران مدارس کے ساتھ مل کر فاصلے ختم کریں تو اس کے بہتر اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے ،تقریب کے دوران مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی اور ناظم اعلیٰ وفاق المدارس قاری حنیف جالندھری نے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں یادگاریں شیلڈ اور اعزازات تقسیم کئے ۔
930 total views, no views today


