پروفیسرعطاء الرحمان عطاء جنہیں انسانیت ، شرافت ، نیکی اور سچائی اللہ نے ورثے میں دی ہے ، پشتو شاعری کے مردِ مجاہداور عصرِ حاضر کے وہ نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے معاشرے کے نبض پر ہاتھ رکھ کر ایک ماہر طبیب کی طرح معاشرے کی زخموں کا علاج ’’د سپوگمئی د پلوشو ٹالونہ‘‘ کی صورت میں کیا۔
آپ نے اُردو اور پشتو ادب میں ایم اے کیا۔ اس کے علاوہ ایم فِل پاکستانی زبانوں میں کیا اور آج کل پشتو اکیڈیمی پشاور یونی ورسٹی سے پشتو ادب میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ آپ سوات کے معروف علمی ادارہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہان زیب کالج میں صدر شعبۂ پشتو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کتاب کے علاوہ آپ نے دو پشتو شعری مجموعے بھی شائع کیے جنہیں ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی۔ ان کتب کے نام ’’خپلو سلگو نہ می نغمے جوڑی کڑے‘‘ (2006) اور ’’د احساس للمے می رنگونہ سپڑی‘‘ (2009) ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کا کلام اور تحقیقی مقالے ملک کے نامور ادبی اور تحقیقی رسائل و جرائد میں وقتاً فوقتاً چھپ چکے ہیں۔
عطاء کا خیال ہے کہ جب تک نظامِ فلکی بحال ہے، زمین اور ستاروں کی گردشیں بدستور ہیں اور جب تک ان کے جسم میں جذبہ اور جذبے میں حرکت ہے، وہ اپنے لیے لازم سمجھتے ہیں کہ اس محدود حصہ کائنات میں جہاں ان کا تعلق ہے، اپنی معلومات کے خزانے میں اضافہ کرکے قانونِ قدرت کے اُصولوں کے مطابق آئندہ بھی ہمیں اپنے خیالات سے مستفید کرنے کی کوشش کریں گے۔
دھان پان جسم کی سادہ لباس و خوش مزاج شخصیت عطاء الرحمان عطاء کا شمار عصرِ حاضر میں پشتو ادب کے عظیم ترین فضلاء میں ہو تا ہے۔ کتاب’’د سپوگمئی د پلوشو ٹالونہ‘‘ عطاء الرحمان عطاء کی شوخ و شنگ تحریروں کا مجموعہ ہے۔عطاء گھٹن کے ماحول میں مناسب بات کرنے کے فن کے ماہر ہیں۔ آپ جہاں گشت ہیں ۔ ان پر لکھنے سے ان کی شخصیت اور ان کی بے ریا دوستی کے متعدد واقعات ذہن میں آرہے ہیں۔ آپ کا شمار ان چند استثنائی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عفت قلم کی قسم اُٹھائی اور اسے نبھایا۔ عطاء شعر میں گہری سے گہری بات محض ایک لفظ میں کر جاتے ہیں اور ایسا مؤثر انداز اپناتے ہیں کہ ہدف بھی مسکرادے۔ زیر تبصرہ کتاب میں عطاء نے نہ صرف وقتی ، ہنگامی اور عارضی موضوعات و مسائل پر لکھا بلکہ تازہ دم اور سدا بہار واقعات کو موضوع بنایا۔ گویا آپ کی مثال اس پھل دار درخت کی ہے جو محض پھل ہی نہیں دیتا بلکہ سایہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کی شاعری نفسیاتی تناظر میں افراد کی ان الجھنوں، پریشانیوں، ناکامیوں اور نامرادیوں کے مطالعہ کی سعی ہے جس کے ردّ عمل میں لاشعوری طور پر وہ دوسروں کے لیے باعثِ آذار بن جاتا ہے۔ اس شاعری میں نہ صرف گھمبیر، پیچیدہ اور بے حد اُلجھے ہوئے نفسی عوارض کا مطالعہ ملتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی، عوامی رویوں، عام معاملات و معمولات اور زندگی سے متعلق چھوٹی چھوٹی باتوں سے بعض اوقات بڑے بڑے مسائل پیدا ہو نے کا نچوڑ ہے۔
عطاء ایک سچے اور کھرے شاعر ہیں جنہوں نے خونِ دل کی روشنائی سے لکھ کر قارئین کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے اپنی شاعری کو مبالغے سے دُور رکھا اور حقائق و سچائی کے چہرے سے پردہ اُٹھا کر ہمیں زندگی کی اصل تصاویر دکھائیں۔ آپ نے زندگی کا سفر سر جھکا کر کیا لیکن یہ سر انسان یا ظلم کے سامنے نہیں جھکا، صرف اللہ کے سامنے۔ آپ سر تا پا ایک ہم درد انسان ہیں۔ آپ کو اشرف المخلوقات کے ساتھ دیوانگی کی حد تک پیار ہے۔ آپ جتنے باہر سے صاف و شفاف ہیں اتنے ہی اندر سے کھرے اور چمکتے شیشے کی مانند ہیں، جس کا اندازہ ان کی شاعری سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی شاعری کا دریا دل کے چشمے سے ہی پھوٹتا ہے اور چشمے کا پانی کبھی گدلا نہیں ہوسکتا۔
عطاء نے عشق بھی کیا خوب کیا۔ آپ شہد کی مکھی کی طرح ہر پھول کو دیکھ کر اس کے ارد گرد گھومے پھرے اور ہر پھول سے رس نچوڑ کر ایسا شہد تیار کیا جو شوگر کے مریضوں کے لیے بھی مفید رہا۔ آپ کی شاعری اور سیاست ہماری دینی، معاشرتی اور سماجی روایات سے انحراف نہیں بلکہ اثبات کا ثمر ہے۔ آپ کی اس کتاب میں آپ کا نظریۂ شعر بے شک عہدِ حاضر کی آب و خاک میں پروان چڑھا ۔ آپ نے اپنی ذہنی تشکیل اور ادبی تربیت کے نازک مراحل، نئے اور متحرک رنگ و آہنگ میں جلوہ گر ہماری دینی اور ادبی روایات کی روشنی میں طے کیے۔
عطاء اتوار اور جمعہ بازار میں بکنے والی کتابوں کے شاعر نہیں بلکہ ایک ایسے شاعر ہیں جو فن کے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔ آپ امن کے خواہاں ہیں۔ مذکورہ کتاب میں صفحہ نمبر تینتیس پر’’ امن‘‘ کےِ عنوان سے لکھی گئی نظم اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ عالمی امن کے شیدائی ہیں۔ اسی طرح کتاب کے صفحہ نمبر ایک سو سولہ پر ’’نوے کال‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں قومی و بین الاقوامی کشیدہ حالات سے انتہائی مایوسی کے عالم میں دعا گو ہیں کہ نیا سال امن کے ساتھ ظہور پذیر ہو۔ کتاب کے صفحہ نمبر اڑتالیسپر ’’جادو مات شو‘‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی نظم میں آج کل معاشرے میں تو تا چشمی اور حد سے زیادہ بڑھتی ہو ئی انا پرستی اور مادہ پرستی کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے۔ آپ بڑی دل سوزی کے ساتھ معاشرے کے اصلاح و فلاح کے آرزو مند ہیں۔
راقم سمجھتا ہے کہ عطاء کے سینے میں دھڑکتا دل، روشن آنکھیں اور لرزتے لب قاری کو یہ پیغام منتقل کرتے ہیں کہ دنیا محبت کی جگہ ہے۔ اس لیے اے انسانو! محبت کے بغیر زندگی نہ گزارو۔
آپ کے کلام کی اصل فلاحِ معاشرہ ہے، اس لیے دورِ حاضر میں جس کو بھی اللہ نے ایسے پاک و صاف خیالات سے نوازا ہو، وہ اللہ کی خصوصی رحمت کے زیرِ سایہ ہے۔
یہ ایک مانی ہو ئی حقیقت ہے کہ جب تک ایک عظیم شخصیت کی آنکھیں کھلی ہو تی ہیں، ہماری آنکھیں بند ہو تی ہیں مگر جب اس عظیم شخصیت کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی ہیں، تب ہماری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ عطاء کی آنکھیں بند ہو جائیں، اللہ کرے کہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔
اُمید ہے کہ عطاء کی شاعری اہل علم کے علاوہ عام شائقین بھی دل چسپی سے پڑھیں گے اور مصنف کی حوصلہ افزائی فرمائیں گے۔
راقم کی دُعا ہے کہ عطاء کا یہ جذبہ سلامت رہے اور ان کی دلِ پاک کی شاعری کا سفر اسی تابانی کے ساتھ جاری و ساری رہے، آمین۔
1,512 total views, no views today


