مینگورہ (سروے رپورٹ ) برائے نام سید و ٹیچنگ ہسپٹلز مسائل کے دلدل میں پورے طرح ڈوب گیا ، معمولی اقسام کی ادویات اسپتال میں ناپید ہوگئے ، سخت سردیوں میں غریب مریض مختلف ادویات کے دکانوں کے سامنے خوار نظر انے لگے ، کلریکل سٹاف کام نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیو اور دوپ سیکنے میں مصروف نظر انے لگے ، ہسپتال کے اعلیٰ حکام ہر قسم کے شکایت سے نا واقف نظر اتے ہیں رات کے وقت مختلف وارڈوں میں سٹاف اور دیگر عملے کو ڈھونڈنے میں گھنٹے ضائع ہونے لگے ،
سیدو ٹیچنگ ہسپتال جہاں روز بہ روز زوال پزیر ہورہاہے وہاں پر معمولی نوعیت کی ادویات جس میں درد کش اور جراثم کش ادویات عام سوئیوں سمیت ناپید ہے اس سے پہلے ہسپتال میں سپٹراکسون نامی انجکشن عام طور پر تمام مریضوں کو دیا جاتا تھا چاہئے مریض کی مرض کی نوعیت جو بھی ہو یہ انجکشن ہر جگہ پر موجود تھا لیکن اب مریضو ں کے لواحقین اس سے دو سو پچاس سے لیکر تین سو روپے تک صبح و شام خریدنے پر مجبور ہے ، ہسپتال کا کوئی پرسانی حال نہیں جو غریب مریضوں کیساتھ ہونے والے اس ظلم کا پورے نوٹس لیکر اس کا ازالہ کریں ، لیکن اس وقت ہسپتال کے ناگفتہ بہہ حالت سے نہ صرف لواحقین خوار ہے بلکہ وی پی ڈی انے والے مریض بھی سخت مشکلات سے دوچار ہیں ڈاکٹروں کمروں پر کھڑے ملازمین کبھی مریض کو ایک کمرے میں جب کے کبھی دوسرے کمرے میں بجھتے نظر اتے ہیں جبکہ انکا سارادن اسے میں ضائع کردیا جاتا ہے ۔ ای سی جی ، الٹراساونڈ ، ایکسرے کیلئے الگ سے مریضوں کو خوار کیا جاتاہے ، حیران کن امر یہ ہے کہ جہاں پر نئے نسل کو طبی تعلیم دی جارہے ہیں وہاں پر سرے سے بنیادی سہولیات موجود ہی نہیں ، فارمیسی ، پیتالوجی سرجری کے شعبوں میں تا حال جدید سہولیات موجود ہی نہیں وہاں پر تعلیم ممکن کیسے ہوسکتی ہے اگرحالات یو ہی رہے تو عنقریب غریب مریض گھروں پر ہی دم توڑتے ہوئے نظر ائنگے ، تبدیلی کے نعروں نے سوات کی اسپتالوں کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا ہے ، صوبائی اور مرکزی حکومت فوری مداخلت کرکے سوات کے عوام کے جانوں کو سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچائیں ۔
344 total views, no views today


