سوات،اے این پی کے صوبائی صدروسابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدرخان ہوتی اورمرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ پاک افغان دوریاں ختم نہ ہوئیں تو خون کے مزید دریا بہہ جائیں گے ،عمران خان کا پختونخوا سے ہمدردی نہیں ،پنجاب کی اکثریت کے خواہاں ہیں تاکہ مرکز کی کرسی پر براجمان ،تبدیلی والوں نے پختونوں کی کوئی دارسی نہیں کی ،افغانستان میں امریکہ روس کے مفادات کی جنگ سے دہشت گردی پھیلی ،غیروں کی جنگ میں کود کر پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے ،افضل خان لالہ مرحوم نے سوات کی خاطر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ودودیہ ہال سیدوشریف میں اے این پی سوات کے زیر اہتمام اے این پی کے بزرگ سیاستدان افضل خان لالہ مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرسابق صوبائی وزراء ایوب خان اور واجد علی خان ،اے این پی کے صوبائی صدر شیر شاہ خان ،کرنل (ر) عبدالغفار خان نے بھی خطاب کیا،امیر حیدر خان ہوتی نے کہاکہ افضل خان لالہ مرحوم اے این پی اور پختونوں کے عظیم سرمایہ تھے اور انہوں نے جب میں وزیر اعلیٰ تھا انہیں سوات سے نکلنے کی بات کی تو انہوں نے کہاتھا کہ میں مراور کٹ تو سکتاہوں لیکن کسی بھی صورت سوات چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں انہوں نے کہاکہ اگر حکمران ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں افضل خان لالہ کی باتوں پر عمل کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے بندکمروں میں دہشت گردی کے خلاف فیصلے کرنے والوں کو میدان میں آکر مقابلہ کرنا ہوگا ،میاں افتخار حسین نے کہاکہ مرکزی اور کے پی کی صوبائی حکومت دہشت گردوں کی حمایتی ہیں ،صرف کے پی کے اور بلوچستان میں نہیں پنجاب میں بھی 70 کالعدم تنظیموں کے اڈے موجود ہیں ،داعش کو 40 ممالک فنڈنگ کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ آج صوبے میں امن اور زندگی کی بہار اے این پی کی مرہون منت ہے ،الیکشن میں دہشت گردحمایتیوں کو کھلی چھٹی دیکر ہمیں گھروں تک محدود رکھا گیاجس کی وجہ سے ہمیں ناکامی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ20 نکاتی ایجنڈے پر عمل نہ کیا گیا تو امن قائم نہیں ہوسکتا انہوں نے کہاکہ،افضل خان لالہ نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،ان کا نام زندہ ہے لیکن دہشت گرد مٹ چکے ہیں ۔
489 total views, no views today


