مینگورہ خیبر پختونخواکے سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن میں پولیس فورس کی قربانیاں، سب سے زیادہ ہیں ، خیبر پختونخوا کی پولیس کو ہر قسم سیاسی مداخلت سے آزاد کردیا ہے ،کارکردگی کے لحاظ سے ملک بھر میں خیبر پختونخوا پولیس کی تعریف کی جارہی ہے ، پولیس نظام کو یکسر تبدیل کررہے ہیں جسمیں ایک کانسٹیبل بھی تعلیم اور صلاحیتوں کے باعث آر پی او اور پولیس افیسر بنے گا ، ایکٹ 2002 میں ترمیم کرکے پولیس اہلکاروں کو کو بھی اپ گریڈیشن کا موقع دے رہے ہی ،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں پولیس ٹریننگ سکول سے فارغ ہونے والے 273 ریکروٹس کی پاسنگ اوٹ پریڈ کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ، تقریب سے آرپی او ملاکنڈ ڈریجن آزاد خان ، ایس ایس پی اپر سوات اکبر علی خان نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں ڈی پی او سوات محمد سلیم مروت ، ڈیڈک چیئرمین ایم پی اے فضل حکیم خان، ضلع ناظم سوات محمد علی شاہ ، ضلع ناظم شانگلہ نیاز احمد خان ، تحصیل ناظم اکرام خان اور دیگر معززین علاقہ اور سابق ممبران اسمبلی بھی موجودتھے ، ایس ایس پی اکبر علی خان نے ریکروٹس سے حلف لیا جبکہ آر پی او آزاد خان نے انہیں ہدایات دیئے ، مہمان خصوصی عنایت اللہ خان نے مزید کہا کہ فارغ ہونے والے پولیس اہلکار عوام دوست بن کر معاشرے میں اپنی ذمہ داریاں فرض شناشی سے شروع کریں اور قوم کا اعتماد بحال رکھیں ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے قانون سازی کررہے ہیں تاکہ آئندہ کیلئے بھی پولیس سیاسی مداخلت سے آزاد رہے ، انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ سکولوں کے ذریعے مستقبل میں قوم کو تعلیم یافتہ پولیس اہلکار ملیں گے ، انہوں نے کہا کہ سوات پولیس کی قربانیوں کی گواہی دیتا ہے کہ قیام امن کیلئے پولیس نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سپیشل پولیس فورس کو ریگولر نہیں کیا جارہا البتہ ضرورت کے مطابق ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ہوتا رہے گا ، تقریب کے دوران سینئر وزیر بلدیات نے اچھی کارکردگی دکھانے والے ریکروٹس میں ٹرافیاں تقسیم کیں ۔
368 total views, no views today


