کسی مہذب معاشرے کو اگر دیکھا جائے، تو اس کے مہذب ہونے کا پتہ اس بات سے بخوبی چلتا ہے کہ اس معاشرے میں تعلیم کی فراوانی ہوگی۔ اس طرح اگر کسی ایسے معاشرے کو دیکھا جائے جو غیر مہذب اور اخلاق کی پستی کو چھوتی ہے، تو سمجھ لیں کہ اس معاشرے میں تعلیم کی کمی ہے۔
مملکت خداداد پاکستان، یونیسکو (یونایٹیڈ نیشنز ایجوکیشن سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن 2015ء) کے سروے کے مطابق دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جن کا تعلیمی تناسب بہت کم یعنی پچپن فی صد ہے۔ یہ دنیا کے ایک سو چھیانوے ممالک میں سے ایک سو ساٹھویں نمبر پر ہے۔ اب قارئین خود اندازہ لگائیں کہ جس ملک میں تعلیم کا یہ حال ہو، وہ خاک ترقی کرے گا؟
اب میں یہاں کے باشعور تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات زیربحث لانا چاہوں گا۔
ایک واقعہ پاکستان کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی یونیورسٹی (یونیورسٹی آف پنجاب) کا ہے۔ یہاں ایک طلبہ تنظیم نے دوسری تنظیم کے اوپر تشدد کیا۔ جھگڑے کا آغاز تب ہوا جب ایک طالب علم جس کا نام فرہاد ہے، پر l.A کالج میں دس لوگوں نے تشدد کیا۔ پھر جب اس کے دوست اٹھ گئے اور تشدد کی وجہ پوچھی، تو انتظامیہ نے درمیان میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور طلبہ کو اس بات پر چپ کرایاکہ ہم خود ایکشن لیں گے۔ اس کے اگلے روز جنرل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ببرک لڑکے کو مارا گیا۔ اسکے بعد اظہار کومارا گیا۔ اب تک چھ لڑکوں کو لاٹھی اور ڈنڈوں سے زخمی کیا جا چکا ہے۔ آخرِکار پولیس نے ایکشن لے لیا اور اس غنڈوں کی تنظیم کے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ انھیں اس بات کا پابند بنایا گیا کہ اگر آئندہ کوئی گلہ شکوہ لے کر آیا، تو پھر آپ غنڈوں کے ساتھ طلبہ والا سلوک نہیں کیا جائیگا۔
قارئین، یہ تو تھا ایک پہلو اب چلتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف۔
پختون خوا کے مرکزی شہر پشاور میں جس روز جناب محترم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی اسلامیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب میں آمد تھی، سیکورٹی خدشات کی بنا پر یونیورسٹی سے متصل روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت ٹریفک جام اور مشکلات کا سامناتھا۔ عوام نے ٹریفک کے لئے سڑک بند کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ وزیراعظم کی آمد پر یونیورسٹی کے تمام گیٹ بند کردیئے گئے تھے۔ تقریب کیلئے آنے والے مہمانوں کو گیٹ بند ہونے کی وجہ سے تقریب میں شرکت کا موقع نہ مل سکا۔ تقریب کے موقع پر یونیورسٹی کے طلبہ کو یونیورسٹی کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ طلبہ کے داخل ہونے پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیاگیا جس سے کئی طلبہ زخمی ہوئے۔ تقریب کیلئے جن طلبہ کو پاسنگ کارڈز ایشو ہوئے تھے، ان کے ساتھ میڈیا والوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’’میں تمام طلبہ و اساتذہ کو اسلامیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم ملک سے دہشت گردی کو ختم کر رہے ہیں۔‘‘
ساتھ ہی انھوں نے ایک ارب روپے گرانٹ کا بھی اعلان کر دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تعلیم پر خرچ کئے جانے والے اربوں روپے کا فائدہ عوام کو پہنچنا چاہئے۔ قائداعظم بھی اسلامیہ کالج کو اپنا کہا کرتے تھے۔ میں بھی اسے اپنا کالج کہتا ہوں۔‘‘
لیکن جو بات کھٹکتی ہے وہ یہ کہ کالج کے طلبہ کو تقریب میں جانے نہیں دیاگیا۔ میاں صاحب کی ان نوازشات سے عوام خوش نہیں ہوئے اور میاں صاحب کے خلاف ’’گونواز گو‘‘‘ کے نعرے لگائے۔
قارئین، کیا آپ کو پتا ہے کہ کالم کے اول میں ذکر شدہ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کون تھے جن پر تشدد ہوا تھا؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ جان کر دکھ ہو کہ وہ کوئی اور نہیں ہمارے پختون بچے تھے۔ اس طرح اسلامیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب سے روکے جانے والے طلبہ بھی ہمارے پختون بچے ہی تھے۔
چلیں، ہم مان لیتے ہیں کہ پنجاب تو پنجابیوں کا صوبہ ہے، وہاں پر طلبہ کے ساتھ ظلم کی کوئی تُک بھی بنتی ہے، مگر اپنے صوبے پختونخوا میں قوم کے مستقبل کے ساتھ ایسا سلوک واقعی بے انصافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
674 total views, no views today


