سوات،مینگورہ کے مقا می ہو ٹل میں ائی وائی ایف کے جا نب سے آل پارٹی کانفرنس کا انعقا د کیا گیا جس میں سیا سی ارکا ن ،سو شل ایکٹویسٹ ،وکلاء اور صحافی برادری شریک ہو ئے سوات سیرینا ہوٹل می ائی وائی ایف کے زیر اہتمام آل پارٹی کا نفر نس میں ڈی ڈی او سوات، ڈاکڑ جو اد ، مسرت اورنزیب ،ڈاکٹر امجد ،فضل رحمان نو نو ،ارشاد خان ،شیر علی،پروفیسر سیف اللہ ، افتخارحسین ،نا ظم اعلی سوات اور دیگر سیا سی ارکان شریک ہو ئے اس موقع پر نا ظم اعلی سوا ت نے کہا کہ سوات میں تعلیمی ادارے زلزلے سے کا فی حدتک متا ثرہو چکی ہے لیکن صوبا ئی حکومت اسے دوبارہ تعمیر کرانے میں ٹو س اقدا ما ت نہیں کر تے انہو ں نے کہا کہ ہمارے قیمتی اثاثہ گورنمنٹ جہا نز یب کا لج کی بات کے جائے تو جہا نز یب کا لج زلزلے سے مکمل طو رپر مثا ثر ہو چکا ہے اطلبہ خیموں میں پڑھا ئی کرنے پر مجبو ر ہے لیکن وہ ہمارے لے بہت افسو س کے مقام یہ ہے کہ ہمارے مستقبل کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے انہو ں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چا ئیے کہ وہ جہا نز یب کالج کے طلبہ کے لئے کو ئی متبا دل کا لج کا بندو بست کر ے کیو نکہ مو سم انتہا ئی سر د ہے اور وہ طلبہ کے لئے نقصان دے ثابت ہو سکتا ہے انہو ں نے کہا کہ سوات کی لو گ تو تعلیمی مسا ئل حل میں انٹسرٹ بھی لیتے تو ہم تعلیمی مسا ئل کیو ں حل کر یں کیو نکہ ہمارے لو گ تعلیمی مسا ئل حل کر نے میں دلچسپی نہیں لیتے انہو ں نے کہا اس بجٹ میں تعلیم کے لئے بیس فیصد بجٹ ہے لیکن ہمارے عوام صرف سڑکو ں اور گلیو ں کے تعمیر میں دلچسپی لیتے ہیں ڈی ڈی سوات ذلفقار المک نے کہا کہ سب سے پہلے تو ہم اس سیا سی ارکا ن کا شکرگزار ہے کہ وہ سب اس پلیٹ فا ر م پر جمع ہو ئے لیکن اس کا مقصد ہم سب کو اکھٹا ہو نا ہے اور اپس میں ہمیں اپنے اختلافات ختم کر نے ہیں ایک پلیٹ فا رم پر جمع ہونا تعلیمی مسا ئل کو حل کرنا ہے اور یہ ہر سیا سی رکن کا حق بنتے ہیں کہ اپنے عوام کے مسا ئل سمجوتہ کر کے بروقت انکے مسائل حل کر یں انہو ں نے کہا کہ اگر حکو مت ہمیں وقت پر فنڈ فراہم کرتے توایہاں پر مسا ئل کا امبار نہ ہوتا لیکن یہ سب حکو مت کے سست رفتا ری کے وجہ سے ہو رہا ہے انہو ں نے کہا کہ اب وقت ہے حکومت اور سیا سی ارکا ن کو چا ہیے کہ وہ جہا نزیب کا لج کا مسئلہ جلد ازجلد ہا ئی لا ئٹ کر ے اور طلبات کے لئے کو ئی اورمتبا دل بلا کس کا بند و بست کر ے اس موقع پر ڈا کڑ جو اد نے کہا کہ زلز لو ں سے سب زیا دہ نقصا ن تحصیل با بو زئی کوہو ا ہے بلڈنگ ،مکانا ت کے سا تھ سا تھ تعلیمی ادارے بھی زلزلے سے لرز گئی ہے تحصیل بابوزئی کے علاوہ دو سر ا مثا ثرہ شدہ علاقہ بحرین ہے وہا ں پربھی سکو لز کافی حد خر اب ہو چکی ہیں لیکن ان تما م تبا ہ شد ہ علاقوں کے تعلمی مسائل کو ابھی تک کسی نے ہا ئی لا ئٹٹ نہیں کئے انہو ں نے کہا کہ سب لو گ اپنے مکا نات اور دکا نو ں کی فکر میں لگی رہتے ہیں لیکن کسی کے سا تھ تعلیمی اداروں کا خیا ل نہیں ہے انہو ں نے کہا کہ ہمیں افسو س کے سا تھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تما م حلقوں کے رینکنگ میں سوات 82نمبر پر ہے دن بہ دن ہمارے تعلیمی نظا م کمزورہو تی جا رہی ہیں لیکن کسی کے سا تھ کو ئی فکر نہیں ہے ا انہوں نے کہا کہ سوات میں زلز لے سے 291سکو لز مثاثر ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک سب تعلیمی ادارے ویسے ہی ویران پڑے ہے اگرہمارا نظام رہا تو سوات کی تعلیمی اداروں کو خدا حا فظ انہو ں نے کہا کہ ہم اپنے سیا سی ارکا ن سے دراخوست کر تے ہیں کہ وہ جلد ازجلد ان مسائل پر نظر ثانی کر ے اور اسے پورے طو رپر حل کر ے اخر میں ایم پی اے ڈاکٹر امجد نے کہا کہ ٓاج مجھے بہت خو شی ہو ئے کہ سب لو گ ایک پلیٹ فا رم جمع ہو ئے الیکن اس طر ح جمع ہو نے سے ہمیں اپنے مسا ئل کا پتہ چلتا ہے کہ ہمارے علاقوں میں کیا ہو رہا ہے انہو ں نے کہا کہااج میں نے مسائل سنے انشا ء اللہ ہمارا کو شش ہو گا کہ ان مسا ئل حل کر نے کے لئے ہم وزیر اعلی پر ویز خٹک سے ملاقات کر یں اور جلد ازجلد ان مسا ئل کا خاتمہ کر ے انہو ں نے کہا کہ اگلے دو تین مہینو ں میں تما م مسا ئل کا خاتمہ ہو جا ئے گا۔
850 total views, no views today


