مینگورہ،حالیہ زلزلے کے دوران سنٹرل ہسپتال کے متعدد وارڈوں کے دیواروں اور چھتوں میں خطرناک دراڑیں پڑچکی ہیں جوکہ مستقبل میں کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں ،سنٹرل ہسپتال کے سرجیکل بی وارڈ مردانہ اور زنانہ دونوں بری طرح متاثر ہوئے جبکہ ارتھو پیڈک اپریشن تھیٹر ،ارتھو پیڈک او پی ڈی ،ایم ار ائی سکین کی بلڈنگ کو جزوی نقصان پہنچا اسکے علاوہ سید وگروپ اف ٹیچنگ ہسپتال میں واقع ہاؤ س افیسر ڈاکٹرز کیلئے ہاسٹل جو پہلے سے بھو ت بنگلے کا منظر پیش کررہاہے اب زلزلے کے بعد رہنے کیلئے ناقابل استعمال ہے لیکن اس کے باوجود باہمت ہاؤس افیسر ڈاکٹران صاحبان رہائش پذیر ہیں ہاسٹل کا بغور جائزہ لینے کے بعد جب وہاں رہائش پزیر ڈاکٹروں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم نے ایم ایس اور چیف ایگزیکٹیوکو بار بار اگاہ کیا لیکن ان کے جانب ابھی تک کوئی کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی اسکے علاوہ سنٹرل ہسپتال کے سرجیکل بی وارڈ کے اہمیت پر بات کی جائے تو ملاکنڈ ڈویژن بھر میں رہنے والے افراد مختلف حادثات اور قدرتی افات کے وقت اسی وارڈ سے استفادہ کرتے ہیں یہ وارڈ والی سوات کے دور میں بنایا گیا ہے جو ابھی تک اہلیان ملاکنڈ ڈویژن کی خدمت میں مصروف عمل ہے تاہم موجودہ حکومت اور والی سوات کے بعد ملک اور اس صوبے میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے حکمرانوں نے اس جانب کو ئی توجہ نہیں دی جس کے باعث ہسپتال اور خصوصا اسکے سرجیکل وارڈ کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے ایک اندازے کے مطابق اس وارڈ میں 90سے 100مریضوں کیلئے بستر موجود ہیں جن میں ادھے مردوں جبکہ ادھے خواتین کیلئے مختص ہوتے ہیں اس سلسلے میں جب ہم نے وارڈ میں داخل مریضوں اور تیمارداروں سے بات کی تو انہوں نے کہاکہ قدرتی افات اور دیگر حادثات کی صورت میں ہم اسی ہسپتال کا رخ کرتے ہیں لیکن حالیہ زلزلے کے بعد یہ ہسپتال خود ایک مریض کی صورت اختیار کرچکا ہے وارڈ کی بوسیدہ عمارت یہاں سے علاج کرنیوالے مریضوں کیلئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہر وقت فکر لاحق ہوتی ہے کہ کب یہ بوسیدہ عمارت اپے سے باہر ہوجائے اور مریضوں کی زخموں پر مرہم پٹی کی جگہ قیامت بن کرٹوٹے انہوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے افیسران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہسپتال کو محفوظ بنانے کیلئے ٹھوس اور ہنگامی اقدامات اٹھائے تاکہ اہلیان علاقہ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنے سے بچایا جاسکے ۔
635 total views, no views today


