بریکوٹ، صوبائی حکومت کی پندرہ ہزار روپے کی ماہانہ اجرت کی پالیسی پر عمل درآمد صرف فائلوں تک محدود ہے۔ بیشتر غیر سرکاری اداروں میں اب ملازموں کو حکومت کی پالیسی کے مطابق تنخوائیں نہیں دی جارہی ہیں۔۔ان اداروں میں ایک ادارہ یونا ئٹیڈ بینک لمیڈ پاکستان بھی شامل ہے جو حکومت پالیسی کو اپنے پاؤں نیچے روند کر اپنے کلاس فور ملازمین کو آٹھ ہزارروپے ماہانہ ادا کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔بینک ذرائع کے مطابق بینک کے کلاس فور ملازمین جن کے نوکری کے کئی سال بھی ہوئے ہیں ان کو ابھی تک سالانہ کوئی اضافی رقم بھی نہیں دیا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے مہنگائی کے دور میں وہ انتہائی کمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں اور بینک ملک میں بے روزگاری کو سامنے رکھتے ہوئے ا ن کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھارہی ہے ۔صوبائی حکومت نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پندرہ ہزار تنخواہ کی پالیسی بنائی جس سے ایک غریب ملازم کی کسی نہ کسی حد تک مسائل میں کمی واقع ہوسکتی ہے مگر پالیسی تو بنائی گئی مگر اس کو نافذ العمل کرنے کے لئے کوئی بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے نہیں دئیے گئے جس کی وجہ سے آ ج بھی صوبے کے متعدد غیر سرکاری ادارے حکومت پالیسی کو نظر انداز کرکے اپنی من مانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔بینک کلاس فور نے نام نہ بتانے پر کہاکہ میرا کئی سال یونائیٹیڈ بینک میں ملازمت کی اور اس امید کے ساتھ ملازمت جاری کر رکھا ہوں کہ مستقبل میں میری تنخواہ میں اضافہ ہو جائے گا مگر سال بدل جاتا ہے اور بجٹ بھی پاس کیا جا تا ہے مگر ہماری تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا جاتا جو کہ ہمارے ساتھ ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے۔صوبائی حکومت فوری طور پر مختلف غیر سرکاری اداروں کو پابند کرے کہ وہ حکومت پالیسی کے مطابق اپنے ملازمین کو تنخوائیں اور دیگر مراعات دیں ۔
622 total views, no views today


