مینگورہ، ضلع سوات میں سوئی گیس صرف اور صرف گھریلو استعمال کے لئے لایا گیاہے، اور اس گیس کی ایک اور بنیادی وجہ سبز سونا (گرین گولڈ)کو بچانا مقصود تھا، تاکہ جنگلات محفوظ رہ سکے اور جب گھریلو صارفین کے لئے گیس گھر گھر پہنچایا گیا، اس وقت سوات میں نہ کوئی سی این چی فلنگ اسٹیشن موجود تھا، نہ کوئی کارخانہ ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے رہنماء ڈاکٹرمحمد حسن نے پریس ریلیز کے ذریعے کہاہے، جب سے سی این جی فلنگ اسٹیشنر کا قیام عمل میں لایا گیا، بتدریج گیس کی سپلائی گھروں کو کم پڑگئی، اور جب بہت سارے فلنگ اسٹیشنر مکمل مکمل ہوئے، تو گھریلو صارفین کو گیس کی بند ش کئی سالوں سے برقرار رہی، ہزاروں لاکھوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے، 80فیصڈ بچے بغیر ناشتے کے سکولوں کو جانے لگے، آئے روز اخبارات میں گیس فلنگ اسٹیشنر اور ٹرانسپورٹ والے روزگار کا بہانہ بناکر ہڑتال کی دھمکیاں دے رہے ہیں، کہ یہ ہمارا معاشی قتل ہے، بلکل ایک غیر حقیقتٍ مندانہ آواز ہے، جبکہ بھی ٹرانسپورٹ والوں کو گیس ملتی لیکن کرایہ آج تک پیٹرول کے تناسب سے لیا گیا، آج جبکہ پیٹرول سستی ہوگئی ہے، تو پٹرول استعمال کرے، ڈیزل استعمال کرے، اگر گھریلو صارفین کے لئے گیس بند کیا گیا، تو تمام آبادی والے مکین بچو کے ہمراہ سڑکوں پر نکل آئینگے، نہ جانے کس مقصد کیلئے ان اسٹیشنر کو تعمیر کرنے کی اجازت دے گئی تھی، کسی نے سیاسی بنیادوں پر اور کس نے پیسوں کے زور پر ایسا کیا، اگر جنگلات محفوظ بنانا ہے، تو گھریلو صارفین کو گیس کا ترسیل جاری رکھاجائے، تمام گیس صارفین جو گھریلو جناب فضل حکیم ، کمشنر اور ضلعی اور تحسیل ناظمین اور تمام کونسلر ان صاحبان کے مشکور ہیں، بچے اور خواتین سب کی دعائیں ان سب کے ساتھ ہیں، نہ جانے گیس عملے کے ہمدردیاں کیوں ان فلنگ سٹیشنر سے کیں، کوئی وجہ تو ضرور ہوگی۔
622 total views, no views today


