دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں جن میں مختلف نظام حکومت اور نظام زندگی رائج ہے ، جتنے بھی ممالک اور ان ممالک میں جنتے ہی ادارے ہیں وہ تمام ایک با قاعدہ نظام کے تحت چل رہے ہیں اگر کسی ملک میں جمہوریت ہے ، بادشاہت ہے ، سوشلزم ، اسلامی نظام ہے یا کوئی کمیونزم تو ان کے تمام ادارے ایک مروجہ قانون کے تحت چل رہے ہیں اورجس قانون کے تحت یہ ادارے چل رہے ہیں اسے روٹین (Routine)کہتے ہیں روٹین انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہے دستورُ ا لعمل، دستور ، یا لائحہ عمل اور ان اداروں میں ملازمین جو بھرتی کئے جاتے ہیں ان کی بھرتی حقیقی خالی اسامیوں پر ہوتی ہیں اور اس مقصدکیلئے ہوتی ہیں جو خدمات ان اداروں کو درکار ہوں اور یہ سارا کام صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہو تا ہے یعنی امیدواروں کی تعلیم اور تجربہ اُن اسامیوں کے مطلوبہ فرائض کی انجام دہی کیلئے ہو تا ہے ، پھر جب وہ امیدوار بھرتی کئے جاتے ہیں تو انہیں بھرتی آرڈر کے ساتھ ساتھ ان فرائض کی ادائیگی کی ایک لسٹ دی جاتی ہے جسے جاب ڈسکرپشن (Job description)کہا جاتا ہے ، یہ انگریزی کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہے کام کی تعریف یا ذکر یعنی ان پر اس آرڈر کے ذریعے وہ تمام ذمہ داریاں عیاں کی جاتی ہیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر مذکورہ فرائض سر انجام دیں گے اور جو ملازمین ان فرائض کی ادائیگی میں سستی یا ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اُن کے خلاف اسی روٹین یا لائحہ عمل کے مطابق تادیبی کارروائی کی جاتی ہے اس طرح اس سارے عمل کو (روٹین جاب )کہتے ہیں ۔
قارئین روٹین اور جاب ڈسکرپشن کی وضاحت یا تعریف تو ہو گئی لیکن اب اسے لاگو کرنے کے بارے میں بھی کچھ وضاحتیں ضروری ہیں تو ہو تا یوں ہے کہ جن قوموں نے دنیا میں ترقی کی ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی لسٹ میں شامل ہو گئے ہیں وہ تمام کے تمام ان دو اُصولوں پر عمل پیرا ہو کر آگے بڑھ رہی ہیں اور آج ساری دنیا اُن کی بول بول رہی ہے اس کے علاوہ جو ممالک ان اُصولوں کو بالائے تاق رکھ کر اپنی من مانیاں کر تے ہیں اور خود رشوت دیکر میرٹ کے بغیر بھرتی ہوتے ہیں تو بھلا وہ ادارے کیا خاک ترقی کرینگے جن کے اہلکاراپنے قانون کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور حرام وحلال کے تصور سے کتراتے ہیں ، ان اداروں میں جو قوم کے ادارے ہیں رشوت کے بغیر کوئی کام کر تے ہی نہیں رشوت لے کر نا اہل لوگوں کو بھرتی کر تے ہیں اقر با پروری پر عمل کرتے ہوئے اہل اُمیدواروں کی حق تلفی کر تے ہیں ،ا پنے ہی ناہل افراد کو بھرتی کر کے مزے لوٹتے ہیں اور اسی طرح ایک نئی بے راہ روی کا سفر نئی نسل کو منتقل کر تے ہوئے برائی کا سفر جاری و ساری رہنے کی دعوت دیتے ہیں ، ادارے کے اغراض و مقاصد کا انہیں پتہ تک نہیں ہو تا اور اپنی ملک کے شہریوں کے لئے اپنے دل میں کسی قسم کا کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے ۔
قارئین کرام ، ان تمام ستم ظریفوں اور نا انصافیوں کو تو مجبوری سمجھ کر برداشت کیا جا سکتا ہے کیونکہ جس ملک میں یہی طریقہ کار اپنایا جا تا ہے تو اس ملک کی قوم بھی ان مظالم کو سہنے کی عادی ہو جاتی ہے جن ممالک میں یہی سلسلہ چلا آرہا ہے ان کو ترقی پذیر کہا جا تا ہے اور ترقی پذیر ہی رہیں گے ، بد قسمتی سے ان ممالک میں پاکستان سر فہرست ہے جس کے تمام ادارے سوائے پاک آرمی اور عدلیہ کے دیگرتمام ادارے بد عنوانی کی تمام حدود پار کرچکے ہیں کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کا انصاف نہیں کیا جا تا اور قوم کا معیار زندگی غربت سے کافی نیچے دھکیل دی جاچکی ہے اس ملک میں وارے نیارے اگر ہیں تو صرف اور صرف مراعات یافتہ طبقے کے ہیں غریب تو دووقت کی روٹی کیلئے بر سر پیکار ہیں ۔
قارئین ،انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں ان الفاظ یعنی روٹین اور روٹین جاب کی معنی ہی تبدیل کی جا چکی ہے ، یہاں اداروں میں روٹین جاب اسے کہتے ہیں جس میں سائلین کی فائلیں سرد خانوں میں رکھی جاتی ہیں، رشوت اورسفارش اگر نہ ہو تو سالوں سال وہی فائیلیں وہی سڑی رہتی ہیں اور کہتے ہیں کہ چھوڑ و یار یہ تو ویسے بھی روٹین کا کام ہے ، جاب ڈسکرپشن کو نہ کوئی پڑھتا ہے اورنہ اس پر عمل کر تا ہے ، ان کے روٹین میں دیر سے آنا ، چھٹی کے وقت سے پہلے گھر جانا، دفتر میں بیٹھ کر گپیں شپ لگانا ، رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی کام نہ کرنا اور اپنے ہی عوام کو طرح طرح کی اذیتیں دینا ہے ۔
قارئین : یہ ملک خدا داد ہمیں اُس نے عطا فرمایا ہے لیکن کیا کریں کون ہو گا جو اس ملک کے اداروں کی اصلاح کرے گا، مجھے تو ایسی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ یہاں تو بہت سے حکمران آئے اور چلے گئے ، مختلف نعروں اور وعدوں سے ووٹ حاصل کئے لیکن اپنے مفادات کے علاوہ قوم کیلئے کچھ نہ کر سکے (کیسے انمول لوگ ہیں ) بس صرف ایک اللہ تعالیٰ کے آس لئے اس سے مدد مانگیں گے کہ کوئی ایسا مسیحا پیدا کرے جس کے ذریعے اس قوم کو ان ظالموں سے نجات دلائے اور ان غریب اور دل کی زخمی قوم کے زخم پر مرہم کے پٹی لگائے۔
یہاں تو غیر منسفانہ تقسیم دولت کا یہ حال ہے کہ ایک طبقے کے لوگ سرے راہ پانچ دانے موم پھلی کھا کر دکاندار کو پانچ ہزار کا نوٹ تما دیتا ہے اور دوسرے طبقے کا حال یہ ہے کہ شاید پانچ ہزار کا نوٹ دیکھا تک ہو۔
’’خدا بھی جب تمہیں میرے پاس دیکھتا ہو گا
اتنی انمول چیز دے دی کیسے سو چتا ہو گا ‘‘
884 total views, no views today


