خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جوں توں کرکے مکمل تو کرلیاگیا ، اس دوران سوات میں بلدیاتی نظام کے کامیابی کے حوالے سے حکومتی ذمہ داربڑے بڑے دعوے کرتے رہے لیکن تاحال چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باؤجود سوات کے عوام اپنی مسائل کے حل کے لئے منتخب کردہ نمائندوں کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں لیکن تبدیلی سرکار کے دعووں کے برعکس منتخب شدہ بلدیاتی نظام کے ممبران کو اپنے اختیارات تک کا پتہ نہیں کہ وہ عوامی مسائل کس طرح حل کریں گے، اب تو حالت یہ ہے کہ مسائل حل کرنا تو درکنار اس نظام کی کامیابی کی امید پر مسائل مزید گھمبیر ہورہے ہیں کیونکہ نومنتخب نمائندے اپنے اختیارات اور حدودِ کار سے بے خبر ہونے کے باعث ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔بلدیاتی نظام کی کامیابی کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ عوام کے مسائل کا حل گھر کی دہلیز پر فراہم کیا جائے جس کے لئے سوات میں ڈسٹرکٹ کونسل ختم کرکے اس کے ملازمین کو نیا نظام چلانے کے لئے ٹی ایم ایز میں ضم کیا گیا لیکن یہاں پر یہ نہیں سوچا گیا کہ مہینے کے اختتام پر ان ملازمین کے گھروں کا چولہا بحال رکھنے کے لئے تنخواہوں کا بندوبست کہاں سے ہو گاکیوں کہ ان کی تنخواہوں کا فنڈز ابھی تک ٹی ایم ایز کو فراہم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان ملازمین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ سوات کے سات ٹی ایم ایز پہلے سے سٹاف اور وسائل کی کمی کا شکا ر تھے اُوپر سے اس نئی اُفتادنے ان کے مسائل مزید بڑھادئیے۔ اس کے علاوہ حکومتی ذمہ دار بلدیاتی نظام سے پہلے جن عوامی مسائل کا رونا رورہے تھے نئے مقامی حکومتوں کے نظام میں ایم این ایزو ایم پی ایز کے سر کا درد کچھ کم ہوا لیکن عوامی مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑ ھ رہے ہیں کیونکہ مقامی حکومتوں کے نومنتخب نمائندے تاحال بے اختیار ہیں اور کوئی کام نہیں کرسکتے،بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں مقامی حکومتوں کے قیام کو چھ ماہ گزرنے اور مسائل کے حل کے لئے فنڈز ریلیز نہ ہو نے کی وجہ سے عوامی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے سوات میں تحصیل کے دفاتر ویران نظر آرہے ہیں ، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے ٹی ایم اے آفس کا تو پھر بھی کچھ نہ کچھ گزارہ ہورہا ہے کیونکہ اس کی آمدنی کے ذرائع معلوم ہیں لیکن دیگر چھ ٹی ایم ایز وسائل نہ رکھنے کی وجہ سے مستقبل میں گوناگوں مسائل کاشکار ہوسکتے ہیں، مینگورہ کے علاوہ دیگر ٹی ایم ایز میں مطلوبہ وسائل کے فقدان کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے ابھی سے سرگرداں ہیں۔لو گ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں یا پھر اللہ کے آسرے پر رہتے ہیں۔اس حوالے سے نوائے وقت نے عوامی رائے جاننے کی کوشش کی توسوات کے ان تمام ٹی ایم ایز سے وابستہ عوامی حلقوں نے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عموماً جبکہ سوات میں باالخصوص ہر نظام کو چلانے کے لئے عوام کو ہی تختہ مشق بنایا جاتا ہے ۔بیرون ممالک میں یقیناًبلدیاتی نظام سے عوام کو فوائد حاصل ہوں گے جبھی تو وہ لوگ کافی عرصے سے اس نظام کو اپنا ئے ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں جمہوری حکومت کی ضرورت مقامی حکومتوں کے بلدیاتی نظام کو کبھی بھی سیاسی حکومتوں نے دوام نہیں بخشا کیوں کہ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے اختیارات میں کسی کی ساجھے داری کو برداشت نہیں کرسکتے اور اسی بناء پر بلدیاتی نظام کے تحت مقامی حکومتوں کے قیام کو ہمیشہ فوجی حکمرانوں نے اپنی ضرورت کے لئے اپنایا لیکن وہ بھی عوامی مفادات کا کم اور اپنی حکومت کو دوام دینے کے لئے ہی اس نظام کو استعمال کرتے رہے جس کے وہ فوائد طویل عرصہ گزرنے کے باؤجود عوام حاصل نہ کرسکے جس کی اُمید کی جاتی رہی ہے اس نظام کو شرو ع کئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے ہیں کہ سوات کی ایک اہم تحصیل کبل سے انتظامیہ اور مقامی حکومتوں کے ذمہ داروں کے مابین رسہ کشی اور ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کی خبریں شروع ہوگئیں ہیں جس کی ابتدا بھی تحصیل کبل کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے کئی گئی ہے ،موصولہ اطلاعات کے مطابق کبل کے اسسٹنٹ کمشنر نے عوامی مسائل سے آگاہی کے لئے ایک عوامی کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں تحصیل ناظم اور نائب ناظم تک کو نظر انداز کرکے اپنی الگ سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد قائم کرنے کی کوشش کی گئی جس پر تحصیل کونسل کبل نے اسسٹنٹ کمشنر کے اس اقدام کے خلاف ایک ہنگامی اجلاس طلب کرکے ان کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے انتظامیہ کی کھلی کچہر ی کو تحصیل کونسل پر عدم اعتماد قراردیا ہے، اس کے بعد بدترین صورت حال سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پیش آئی جب ضلع کونسل کے اجلاس کے لئے دفاتر اور اپنے ہال کی تاحال عدم فراہمی کی وجہ سے اتنا اہم اجلاس ایک غیر متعلقہ جگہ یعنی ایک سکول(خپل کور ماڈل سکول)کے ہال میں منعقد کرنا پڑا جو اس نظام کے دعویدار حکومتی ذمہ داروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بات ہورہی تھی مقامی حکومتوں کے زیر اثر ٹی ایم ایز کے مسائل اور ان کے حل کی تو ضرورت اس امر کی محسوس کی جارہی ہے کہ ان ٹی ایم ایز او ر ان کے ملازمین کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ٹی ایم ایز کی ذرائع آمدن تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے ، صوبے کی حکومت تبدیلی کا ایجنڈا لے کر مسند اقتدار پر متمکن ہوئی ہے ایسے میں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صوبے کے عوام کو بہترین میونسپل خدمات سے مستفید کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھائیں ، جس کے صلے میں ان کو عوامی حمایت ہاتھ آسکے گی۔ پورے صوبے میں سوات ہی وہ واحد حلقہ ہے جہاں کے لوگوں نے تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باؤجود اقتدار کا دروازہ دکھایا اس کے علاوہ یہ لوگ بلدیات کے حوالے سے بھی بڑے بڑے دعوے کرچکے ہیں ۔ صوبائی وزیر بلدیات کا تعلق بھی ایسی پارٹی سے ہے جو اپنے نظم وضبط کے حوالے سے ثانی نہیں رکھتی جس پر ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں عموماً اور سوات میں باالخصوص بلدیاتی نظام کے حوالے سے ایسے اقدامات اُٹھائیں جو دوسروں کے لئے مثال بننے کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام بھی اس نظامِ حکومت کے ثمرا ت سے حقیقی معنوں میں مستفید ہوسکیں۔ بصورت دیگر سوات کے عوام ہر دفعہ نیا تجربہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جس کے بعد ہوسکتا ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کا ٹھیک ٹھاک احتساب ہوجائے کیونکہ اس سے قبل بھی تبدیلی کی سرکار نے عوام سے بہت سارے ایسے وعدے کئے ہیں جس میں سے کسی کو بھی تاحال پورا نہیں کیا جاسکا ہے ۔
744 total views, no views today


