میری کوشش ہوتی ہے کہ اگر کسی میٹنگ میں ہوں، کسی سیمینار میں ہوں یا پھر کسی دیگر سرگرمی میں ہوں، اس میں شرکت کرنے کیلئے بروقت پہنچ سکوں لیکن کچھ ایسی مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں کہ بندہ کوشش کے باوجود بروقت نہیں پہنچ پاتا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے موقع پر پیش آئی جب میں کانفرنس ہال میں پہنچا، تو کانفرنس شروع ہوچکی تھی اور مختلف لوگ کانفرنس میں اپنے خیالات کااظہار کر رہے تھے۔ کانفرنس میں جب میں اپنی نشست پر بیٹھ گیا، تو اس وقت ضلع ناظم کی تقریر جاری تھی۔ اس سے پہلے میری ضلع ناظم سے نہ کوئی ملاقات ہوئی تھی اور نہ ان کی کبھی تقریر ہی سنی تھی۔ زلزلہ کی وجہ سے تباہ اور کمزور پڑنے والے اسکولوں کی تعمیر اور جہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دینے کیلئے بلائے گئے اجلاس سے ضلعی ناظم سید محمد علی شاہ نے تقریر اس بات سے شروع کی کہ ڈاکٹر جواد آپ ہمارا اور اپنا وقت ضائع کررہے ہیں، ہم اتنے سنجیدہ لوگ نہیں ہیں جبکہ آپ نے ہمیں ایک سنجیدہ مسئلہ کے حل کیلئے بلایا ہے۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ ضلعی ناظم یہ بات کہیں گے۔ میں سوچ رہا تھا کہ محمد علی شاہ سرکاری سکولوں کی تعمیر اور جہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دینے کی یقین دہانی کرائیں گے اور عملی اقدامات کرنے کا اعلان کرینگے لیکن میرے تصور کے برخلاف انہوں نے کانفرنس بلانے والے ڈاکٹر جواد، الف اعلان اور انویٹو یوتھ فورم کو کھری کھری سنائی۔ میرے خیال میں ضلعی ناظم حق بجانب بھی تھے۔ کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی سیاستدان آئے، انہوں نے صرف وعدے اور بڑے بڑے دعوے کئے اور ان دعوؤں اور وعدوں کا بیس فیصد بھی پورا نہیں کر پائے۔ اس سسٹم کو دیکھتے ہوئے اور اس معاشرے میں رہتے ہوئے ضلعی ناظم نے اچھی اور کھری بات کی تھی کہ ڈاکٹر جواد نے اپنا اور ہمارا وقت ضائع کیا۔ ضلعی ناظم نے ضلعی حکومت کی جانب سے فنڈز ملنے کے بعد تعلیمی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی اور مکمل سروے پیش کرنے پر ڈاکٹر جواد اوراسکی ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔ کیونکہ یہ ذمہ داری تو محکمہ تعلیم کی تھی۔اس کے اہلکار آل پارٹیز کانفرنس بلاتے اور تعلیمی صورتحال سے ممبران اسمبلی، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو آگاہ کرتے لیکن یہ ذمہ داری بھی ڈاکٹر جواد نے پوری کی جس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ضلعی ناظم کی تقریر کے آخر میں تین قرار داد بھی منظور ہوئے جن میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ، جہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دینا اور اسکی بحالی اور کالج کیساتھ ملحقہ زمین پر نئی بلڈنگ تعمیر کرنا شامل تھا۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں سوات سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں، سماجی و فلاحی تنظیمیں اور یوتھ کے نمائندگان موجود تھے۔
کانفرنس میں تعلیمی صورتحال اور سرکاری سکولوں کی آبادکاری پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سیر حاصل گفتگو کی۔ کانفرنس کے شروع میں تعلیم کیلئے بھر پور اقدامات کرنے والے ممبران صوبائی اسمبلی کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس کو الف اعلان نے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر امجد کو اے کٹیگری میں رکھا گیا جس کا مطلب تھا کہ انہوں نے اپنے حلقہ میں تعلیم کیلئے بھرپور اقدامات کئے ہیں۔ ڈاکٹر امجد نے اپنے خطاب میں کہا کہ زلزلہ سے تباہ ہونے والے تین سو کے قریب سکولوں اور جہانزیب کالج کامسئلہ وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھاؤں گا جبکہ کانفرنس میں منظور ہونے والے قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھر پور اقدامات کا بھی وعدہ کیا لیکن کہنے والے نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میں ضلعی ناظم کے بیان اور ڈاکٹر امجد کے وعدے کا مشاہدہ کررہا تھا اور اس تگ ودو میں تھا کہ کون ٹھیک ہو گا؟ ضلع ناظم یا ممبر صوبائی اسمبلی۔۔۔ اور اس مشاہدہ میں مجھے دو ہفتوں سے زائد کا وقت لگا۔ میں ہر روز مقامی اور صوبائی اخبارات کا مطالعہ کرتا تھا کہ کب ڈاکٹر امجد کا وعدہ پورا ہوگا، وزیر اعلیٰ سوات کے وہ سرکاری اسکول دوباہ تعمیر ہونے کے احکامات کب جاری کریں گے اور تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذکااعلان کب ہوگا؟لیکن مجھے افسوس کیساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ وہ وعدہ تو وعدہ ہی رہا۔ مجھے دھچکا اس وقت لگا جب سوات سے تعلق رکھنے والی چند سماجی و فلاحی شخصیات نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور جہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دینے کا مطالبہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ نے وفد کو کالج نہ گرانے کی یقین دہانی بھی کرائی جو سوات کے عوام اور جہانزیب کالج سے محبت کرنیوالوں کیلئے کسی تحفہ سے کم نہ ہے۔
چھبیس اکتو بر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی وجہ سے کئی سکولوں کی عمارتیں ناقابل استعمال ہوئی ہیں۔ ان کی وجہ سے تیئس فی صد لڑکیوں اور سولہ فیصد لڑکوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے اور اس کے حل کیلئے ہی ڈاکٹر جواد نے آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں اورمحکمہ تعلیم کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کیا تھا جس میں متفقہ طور پر تعلیم کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا لیکن وہ عزم کانفرنس کے اختتام پر دم توڑگیا۔ ایمرجنسی بجٹ کی منظوری خواب بن کر رہ گئی۔ ہمارے پھول جیسے بچے آج بھی پتھر کے زمانے کی طرح یخ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے سکولوں میں آج بھی لیٹرین، ڈیسک اور بینچ نہیں ہیں۔ وہ آج بھی جب گھر سے آتے ہیں، تو اپنے ساتھ چادر لاتے ہیں، تاکہ اس پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں۔دوسری طرف ان تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما، سماجی وفلاحی شخصیات اور نوجوان پھر کسی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے منتظر ہیں کہ بڑی بڑی باتیں کرکے دل کا بوجھ ہلکا فرمائیں۔
بس مجھے ایک گزارش ڈاکٹر امجد سے ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر کئے گئے وعدوں پر ایک بیان جاری کردیں، تاکہ تعلیم کیلئے کئے گئے اقدامات پر اے کٹیگری ملنے کا حق ادا ہو سکے۔ آخر میں ڈاکٹر جواد کی کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر ان کو مبارک باد، ساتھ ایک مشورہ بھی کہ وہ جب بھی کسی تعلیمی مسئلہ پر کانفرنس بلانا چاہتے ہوں، تو وہ ضلعی ناظم کے بولے گئے چند لفظوں کو ضرور یا درکھیں اور پھراپنی طرح ان غیر سیاسی نوجوانوں کو بلائیں جو تعلیم کیلئے درد رکھتے ہوں جو نئی نسل کو علم کی روشنی سے منور کرنا چاہتے ہوں، جو وزیر اعلیٰ تک رسائی کیلئے جدوجہد کرتے ہوں اور جو اپنی بات منوانا جانتے ہوں، اب وہ ہی آگے آئیں گے اور ہماری تعلیمی مسائل حل کرینگے اور اگر ہم سیاسی لوگوں سے آس لگائے بیٹھ گئے، تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔
914 total views, no views today


