ہر معاشرے کی کچھ اقدار (ویلیوز) ہوتی ہیں، کچھ اصول ہوتے ہیں اور کچھ مسلمہ روایات ہوتی ہیں۔ پھر انسان کی آنکھ میں بھی کچھ نہ کچھ حیا ہوتی ہے۔ ان روایات اور اقدار میں ایک قدریہ ہے کہ ہم مرے ہوئے لوگوں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنی ’’ڈیفنس‘‘ میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ ان سے منسوب خامیوں سے در گذر کرتے ہیں اور ان کے اچھے کاموں اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے ان کی خدمات کو اُجاگر کرتے ہیں، مگر بعض نام نہاد دانشور آزادیٔ اظہار کے پردے میں بعض قومی شخصیتوں کو “Malign” کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گویا ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلتے ہیں۔
بعض حضرات ریاست سوات سے اتنا حسد رکھتے ہیں کہ ریاست کو مرحوم ہوئے پینتالیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور اس کے چار ٹکڑے بھی ہوگئے مگر ان کو اب بھی اس دورِ شادمانی کے بارے میں صحافت کی آڑ میں کثافت پھیلانے سے عار محسوس نہیں ہوتا۔ حالاں کہ ان صاحبان کی عمر بھی اتنی نہیں، ان سے دست بستہ اور ادب سے گزارش ہے کہ خدارا! اب ریاست اور اس کے انسان دوست حکمرانوں کو معاف ہی کردیں۔ کچھ دوسرے موضوعات پر طبع آزمائی کیجئے اور ایسے موضوعات پر خامہ فرسائی کریں جن سے پڑھنے والوں کا بھلا ہو اور وہ کچھ سیکھیں۔
اگر کر پشن پر واقعی بات کرنی ہے، تو اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں۔ کرپشن کے ایسے شاہکار نظر آئیں گے کہ آپ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ پاکستان تو پورے کا پورا کرپشن میں ایسے پھنسا ہوا ہے جیسے شہد کے پیالے میں اُڑتی ہوئی مکھی گر جائے۔ پھر وہ لاکھ کوشش کے باوجود نہیں نکل سکتی۔ اپنے سیاسی لیڈروں کے کرپشن کا ذکر کریں۔ سوئس اکاؤنٹس کے بارے میں لکھیں۔ دوبئی کے محلات کی بات کی جائے۔ بحریہ ٹاؤن میں اُس عظیم الشان محل کا ذکر کریں جس میں گھوڑوں کا اصطبل بھی ہے جہاں اعلیٰ نسل کے کروڑوں روپیہ کے گھوڑے عوام کے خون پسینے پر پل رہے ہیں۔ سعودی عرب میں لوگوں کے سٹیل ملز کہاں سے آئے؟ افریقہ میں ’’شوگر ملیں‘‘ کیسے بن گئیں؟ کروڑوں ڈالر سے بھرے لانچ کہاں جاتے ہیں؟ اور ایان علی کے پاس جو ڈالر تھے، وہ کس کے تھے؟ اور تو اور ایک ایسے سیاسی لیڈر نے بھی دوبئی میں گھر خریدا ہے جس کی پارٹی ایک صوبے تک، بلکہ اب تو ایک ضلع تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اور پوری قوم کی بات کریں جو بار بار ایسے لیڈروں کو ووٹ دیتی کیوں ہے؟ یہ بھی ایک کرپشن ہی تو ہے کہ آپ غلط آدمی کو قوم پر مسلط کریں۔
میں ریاست سوات کے محکمۂ تعمیرات یعنی سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی میں آٹھ سال تک ملازم رہا ہوں اور میں نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے افسروں میں کسی پر بدگمانی کی وجہ نظر نہیں آئی۔ پھر میں تقریباً چونتیس سال صوبائی سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ میں رہا ہوں، اگر ایک ایک کرپشن کی بات کروں، تو دفتر کے دفتر سیاہ جائیں، یہ الگ بات ہے کہ اس محکمے میں اچھے اور نیک سیرت لوگ بھی تھے جنہوں نے آخر دم تک اپنا دامن بچائے رکھنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے ہمارا زیادہ تر واسطہ اوسطاً اچھے لوگوں سے پڑا جن کی طفیل ہم زیادہ بگڑنے سے بچ گئے لیکن اتنے صاف بھی نہیں تھے کہ پارسائی کا دعویٰ کریں۔
والئی سوات مرحوم کے ان کارناموں کا ذکر کریں جو انہوں نے تعلیم و صحت، ذرائع نقل و حمل اور امن کے لیے سرانجام دیئے۔ دراصل کمزوری ہماری اپنی تھی اور الزام دوسروں پر دھرتے ہیں۔ والی صاحب کو کوئی بتانے کی جرأت تو کرتا کہ کہاں کہاں کرپشن ہورہی ہے، لیکن یہ تو سب آج کل کے سیاستدانوں کی طرح ایک ہوگئے تھے۔ سب ایک دوسرے پر پردہ ڈالتے تھے جیسے کہ آج کل جب رینجرز نے سندھ میں بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا ہے، تو سارے چور جمہوریت، آئین اور قانون کے نام پر متحد ہوگئے ہیں۔ اور رینجرز کی راہ میں اٹکا رہے ہیں۔ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں دو غبن کے کیسوں کا تذکرہ کیا تھا جو ہم والئی سوات کے علم میں لائے تھے، تو انہوں نے مجرموں کے خلاف سخت ایکشن لیا تھا اور ان کو کڑی سزا دی تھی۔
اب ایک اور واقعہ عرض خدمت ہے۔ والئی سوات جب تعمیری منصوبوں کا آخری معائنہ کرتے، تو بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتے۔ ان کے ہاتھ میں لکڑی کا ایک ہتھوڑا ہوتا جس سے فرشوں کے ٹھوس اور مضبوط ہونے کا چک اپ کرتے تھے۔ کچے اور کمزور فرش کے ٹھونکنے سے کھوکلے پن کا پتہ چلاتے تھے۔ اسی طرح کے ایک وزٹ کے دوران جب ان کو فرش کے کمزور ہونے کا احساس ہوا، تو میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’عظیم کے بیٹے! یہ کیا ہے؟‘‘ یہ اُن کا مخصوص انداز تھا جس سے اُن کی ناراضگی کا پتہ چلتا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ اب میری شامت آئی ہے۔ وہ ٹھیکیدار بھی موقع پر موجود نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ ’’صاحب! یہ ٹھیکیدار بڑا سرکش ہے۔ کسی کی بات نہیں مانتا۔ اُلٹا ہم کو ڈراتا ہے۔‘‘ دراصل وہ ٹھیکیدار ایک با اثر شخص تھا اور والی صاحب سے ذاتی تعلق کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ میری بات سن کر والی صاحب نے فوراً حکم دیا کہ مذکورہ ٹھیکیدار پر سرکاری ٹھیکے ہمیشہ کے لیے بند کردو اور اس سے پانچ سو روپیہ جرمانہ بھی وصول کرکے خزانہ میں جمع کرادو۔ سرکاری گودام سے سیمنٹ لاکر یہ فرش دوبارہ فوجیوں سے بنوادو۔
وہ شخص کئی بار والی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی طلب کی مگر اُن کو معافی نہ مل سکی۔ عرض مدعا یہ ہے کہ کرپشن اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان نے روئے زمین پر زراعت کے بعد حصول منفعت کے لیے جو پیشے اختیار کئے ان میں عصمت فروشی اور گداگری کے بعد کرپشن کا آسان طریقہ ہے۔
تاریخ میں صرف ایک دفعہ محدود مدت کے لیے اور ایک مخصوص خطۂ زمین پر ہی کرپشن مکمل طور پر ناپید ہوگئی تھی جب محسن انسانیت رسول کریمؐ نے ریاست مدینہ قائم کی۔ بعد میں خلفائے راشدین کا دور ختم ہوتے ہی یہ بابرکت دور ختم ہوا۔ جب اقتدار کا مرکز مدینہ سے شام منتقل ہوا، تو بنوامیہ کی خاندانی بادشاہت اور موروثی اقتدار کے شروع ہوتے ہی بدعنوانی سر اُٹھانے لگی۔ یہی حال بنو عباس کے دور میں بھی جاری رہا اور پھر مسلمانوں کی وسیع سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور جگہ جگہ بادشاہتیں قائم ہوگئیں۔ یوروپ اور امریکہ میں بھی بد عنوانیوں کا زور رہا، حتیٰ کہ ’’ویٹی کن‘‘ کے مذہبی پیشواؤں میں بھی یہ ناسور پھیلتا گیا۔ آج تمام ممالک میں یہ سکہ رائج الوقت ہے۔ کیا حکمران اور کیا عوام، سب حتیٰ المقدور لوٹ مار میں مصروف ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں یہ زہر سرایت کرگیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
748 total views, no views today


