قارئین کرام! جس طرح ہماری شکل و صورت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قد، وزن، طرز تخاطب اور پسند و ناپسند الگ الگ ہے، ٹھیک اسی طرح ہماری سوچیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ دنیا چلانا چاہتا ہے، اس لیے اس نے ہمیں مختلف طبیعتیں دی ہیں اور اسی لیے ہمارے میلانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اس تمہید کی روشنی میں، مَیں اپنی سوچ کسی پر مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتا، لیکن جمہوریت ہے، اس لیے اپنی کسی رائے کو تحریری شکل دینے یا احساسات کو سطح قرطاس پر اتارنے کا حق بہرحال محفوظ رکھتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’مملکت خداداد‘‘ کی جمہوریت کتنی مؤثر ہے اور جمہوری ادارے کتنے مضبوط ہیں، جمہوریت پسندوں کی ڈورکس کے ہاتھ میں ہے یا ان کی آواز میں کس کی آواز بولتی ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔ اس کے پیچھے پڑنے سے نقصان یہ ہوگا کہ آج کی نشست کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ میری آج کی نشست محترم ڈی پی او سوات ’’محمد سلیم مروت صاحب‘‘ کے نام ہے جن کی کاوشیں کچھ ’’عناصر‘‘ کے بھرپور اختلاف کے باوجود رنگ لاچکی ہیں۔
قارئین کرام! بدھ چھ جنوری کو مجھے ایس پی ایس کالج رحیم آباد میں محکمہ پولیس سوات کی جانب سے ٹریفک آگاہی مہم کے سلسلہ میں ایک سادہ مگر پُروقار تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی صدیق اکبر کالج کے طلبہ کو ٹریفک قوانین سے آگاہ کر رہے تھے۔ آپ نے دعویٰ کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سب سے زیادہ موٹر سائیکل سوار کرتے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد کم سن اور نابالغ ڈرائیوروں کی ہوتی ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے سال دو ہزار چودہ میں ہونے والے حادثات کا ذکر بھی کیا جن کی انھوں نے تعداد پندرہ ہزار ایک سو چھیاسی بتائی۔ ڈی ایس پی صاحب کے بقول ڈی پی او محمد سلیم مروت صاحب اس گھمبیر مسئلہ کے پُر امن حل کے لیے محکمۂ پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور آخرِ کار یہ طے پایا کہ حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لئے کم سن ڈرائیوروں کے گاڑی چلانے کے عمل پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جن حضرات کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس ہے، ان کے لئے ڈرائیونگ کے دوران میں ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔ ڈی ایس پی صاحب کے بقول: ’’ہیلمٹ کا استعمال اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ دو ہزار چودہ عیسوی میں ہونے والے حادثات میں چھ سو سے زیادہ اموات سر پر چوٹ لگنے سے واقع ہوئی تھیں۔‘‘
قارئین کرام! درجہ بالا پابندیوں کے لگنے کی دیر تھی کہ سال دوہزار پندرہ کے دوران میں حادثات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ ڈی ایس پی صاحب کے بقول: ’’سال دو ہزار پندرہ عیسوی میں کل تین ہزار دو سو چھیاسٹھ حادثات ریکارڈ ہوئے ہیں۔‘‘
ہم مسلمان بالعموم اور پختون بالخصوص کسی بھی تبدیلی کو دیر سے قبول کرتے ہیں جسے میں اپنی بدقسمتی پر محمول کرتا ہوں۔ اگر کوئی تبدیلی محض ایک سال میں حادثات کا گراف پندرہ ہزار ایک سو چھیاسی سے تین ہزار دو سو چھیاسٹھ تک گراسکتی ہے، تو اس کو قبول کرنے میں کون سا امر مانع ہے؟
محترم ڈی پی او صاحب! مَیں اپنی اس ٹوٹی پھوٹی تحریر کے ذریعے اولاً آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ نے بھرپور اختلاف کے باوجود حادثات کی شرح کو کم کرنے کی سعی فرمائی، ثانیاً آپ کی توجہ چند مسائل کی طرف مبذول کرانے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔ اگر ان بظاہر چھوٹے نظر آنے والے مسائل کو بھی ختم کرنے کے لئے آپ صاحبان نے احکامات صادر کیے، توسوات کے سنجیدہ حلقے آپ کے ممنون رہیں گے اور مستقبل میں آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
جناب والا! میری دانست میں آج کل سوات میں بالعموم اور مینگورہ شہر میں بالخصوص ایک بڑا مسئلہ ’’پریشر ہارنز‘‘ کا ہے۔ بسا اوقات ایک چھوٹی سی موٹر سائیکل یا رکشے میں ایسا سماعت خراش ہارن لگا ہوتا ہے کہ جس کی مدد سے کسی بھی نارمل انسان کو لمحوں کے حساب سے ’’ابنارمل‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی میں گاڑیوں میں لگے ایسے ہارنوں کے خلاف انتظامیہ باقاعدہ طور پر ٹریفک پولیس کی مدد سے آپریشن کیا کرتی تھی اور گاڑیوں سے ایسے ہارن اتار کر ان پر قوی الجثہ روڈ رولر چڑھایا کرتی تھی۔
اس سے ملتا جلتا ایک مسئلہ مختلف چھوٹی بڑی گاڑیوں میں قصداً عمداً لگائے گئے ایسے سائیلنسروں کا ہے جو ایکسیلیریٹر دبانے سے عجیب سی آوازیں اور شور پیدا کرتے ہیں۔ مذکورہ آوازیں اگر ایک طرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہیں، تو دوسری طرف ان کا ذہن پر نہایت برا اثر پڑتا ہے۔ لہٰذاپریشر ہارن ہٹانے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام سائیلنسروں کا بھی سدباب صرف آپ کے احکامات صادر ہونے سے ممکن ہے۔ واضح رہے کہ زیادہ تر موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر عجیب سی آوازیں اور شور پیدا کرتے ہیں۔
تیسرا اہم مسئلہ مینگورہ شہر کی گاڑیوں پر لگے رنگ برنگے نمبر پلیٹوں کا ہے۔ کالے، سبز، سپید، سرخ غرض ہر رنگ کے نمبر پلیٹ اور ان پر ’’پریس‘‘، ’’واپڈا‘‘، ’’ایڈووکیٹ‘‘ اور اس قبیل کے دیگر سابقے و لاحقے قانون کو دبانے کے لئے حربوں کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس طرف بھی آپ کی ایک نگاہِ کرم ضروری ہے۔
محترم ڈی پی او صاحب! سوات کے سنجیدہ حلقے آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ جس طرح آپ نے کم سن اور نابالغ ڈرائیوروں پر پابندی لگاکر شرح حادثات میں ریکارڈ کمی لائی ہے، اگر اسی طرح آپ نے ذکر شدہ مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، تو اہل سوات آپ کے ممنونِ احسان ہوں گے۔ امید ہے کہ آپ اس ٹوٹی پھوٹی تحریر پر ہمدردانہ غور فرما کر اس میں درج قابل عمل تجاویز پر احکامات صادر فرمائیں گے، شکریہ!
714 total views, no views today


