یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ مینگورہ سمیت سوات بھر کی سڑکیں ناقابل استعما ل ہوگئیں،ریاستی دور کی سڑکوں پر آج ہزاروں کی تعدادمیں گاڑیانں نظر آرہی ہیں جس کی وجہ سے قدم قدم پر ٹریفک جام رہنے لگی، سوات کی سڑکوں کی ابتر صورتحال کی وجہ سے وہ مزید استعمال کے قابل نہیں رہیں،یہ سڑکیں ریاستی دورمیں صرف چندگاڑیوں کیلئے بناگئی تھیں جن پر آج ہزاروں گاڑیاں چل رہی ہیں جس کے سبب قدم قدم پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں جو نہ صرف ٹریفک مسائل بلکہ عوامی مشکلات میں بھی اضاافے کا سبب بن رہی ہیں، ہردورمیں ان سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے وعدے تو بہت ہوئے مگر کسی بھی حکومت ان وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا ،سوات کی سڑکوں کی حالت اب ایسی نہیں رہی جس پر مزید کوئی تبصرہ کیا جائے یہ سڑکیں ریاست کے دورمیں صرف چندگاڑیوں کیلئے بنائی گئی تھیں جس اس وقت کیلئے کافی تھیں مگر اس ک بعد کسی بھی حکومت نہ تو ان سڑکوں کی توسیع اورتعمیر پر توجہ دی اور نہ ہی ان کی بدحالی کو دورکرنے کیلئے اقدامات کئے حالانکہ ہر دور میں اس وقت کی حکومتوں نے سوات کی سڑکوں کی کشادگی کاوعدہ کیا مگر کسی بھی حکومت نے اپنا وعدہ پورانہیں کیا ۔
سڑکوں کی بدحالی اورابترصورتحال کی وجہ سے نت نئے مسائل سراٹھارہے ہیں جن میں ٹریفک مسئلہ اور پیدل چلنے والوں کی مشکلات سرفہرست ہیں،مینگورہ شہر کی سڑکوں کی حالت کو دیدنی ہے،حاجی بابا چوک سے لے جامبیل پیرنہ تک کی سڑک نے تو تارکول کی جگہ خشک مٹی اورکھڈوں نے لے رکھی ہے جو بارش کے وقت تالابوں کا منظر پیش کررہی ہے اور عام موسم میں یہاں پر دھول اور گردوغبار اٹھتا نظر آرہاہے جو عوام اورخصوصاََ بازارمیں کاروبار کرنے والوں کیلئے سوہان روح بن جاتا ہے ،اس کے علاوہ سوات کی دیگر سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ناقابل استعما ل بن چکی ہیں مگر حکومتوں نے ان سڑکوں کی بدحالی کو دور کرنے کیلئے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھایا حالانکہ بہت سے ایسے وزارء اوراممبران قومی وصوبائی اسمبلی ہیں جو ان سڑکوں پر گزر تے ہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ سڑکوں کی تعمیر ومرمت کیلئے اسمبلی فلور پر آواز نہیں اٹھارہے ہیں جو ایک قابل افسوس امر ہے،سڑکیں نہ صرف ذرائع ابلاغ میں اہم کرداراداکرتی ہیں بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی ان کردارغیرمعمولی ہوتا ہے ،جس علاقے کی سڑکیں بہترہوں سیاح وہاں کی سیرکرانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے بر عکس جہا ں کی سڑکیں بدحال ہو سیاح سفری مشکلات اورسفری اذیت کی وجہ سے وہاں پر جانے سے کتراتے ہیں یہ بات نہ صرف عام لوگوں کو معلوم ہے بلکہ حکومت بھی اس سے باخبر ہے مگر اسے بدحال سڑکوں پر سفرکرنے والوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا احساس نہیں اور نہ ہی حکومت کو بدحال سڑکوں پر سفرکرنے والوں کے حا ل پر ترس آتا ہے ،آج تک حکومتیں آتی رہیں اور جاتی رہیں ہر حکومت کو ذاتی مفادات کے علاوہ کو ئی چیز دکھائی نہیں دی یہی وجہ ہے کہ عوام کو درپیش دیگر مسائل اور مشکلات کے ساتھ ساتھ انہیں بدحال سڑکوں کی شکل میں موجود یہ سنگین مسئلہ بھی دکھائی نہیں دیااور اس مسلسل نظراندازی کے سبب یہاں کی سڑکیں پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوئیں اور بعدازاں آثار قدیمہ بن گئیں اور آخر کار سوات کی بدحال سڑکیں ہر حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مزید غفلت اور لاپرواہی کی پالیسی کا سلسلہ ترک کرے اور سیاحتی مقام ضلع سوات کی سڑکوں کی بدحالی دور کرنے کیلئے فوری اورموثر اقدامات اٹھائے تاکہ ٹریفک مسائل اورعوامی مشکلات میں کمی واقع ہوسکے۔
820 total views, no views today


